جام کمال کا استعفیٰ منظور ، صوبائی کابینہ بھی تحلیل ، سابق وزیراعلیٰ اب آگے کیا کرنے جا رہے ہیں ؟خود ہی بتادیا

جام کمال کا استعفیٰ منظور ، صوبائی کابینہ بھی تحلیل ، سابق وزیراعلیٰ اب آگے ...
جام کمال کا استعفیٰ منظور ، صوبائی کابینہ بھی تحلیل ، سابق وزیراعلیٰ اب آگے کیا کرنے جا رہے ہیں ؟خود ہی بتادیا

  

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بہت سی سوچی سمجھی سیاسی رکاؤٹوں کے باوجود میں نے صوبے کی مجموعی حکمرانی اور ترقی کے لیے اپنے وقت اور توانائی کو ایک سمت میں رکھا،انشااللہ احترام کے ساتھ چھوڑنا چاہوں گا اور خراب حکمرانی کی تشکیل کے ساتھ  ساتھ ان کے (ناراض گروپ، اپوزیشن) مالیاتی ایجنڈے کا حصہ نہیں بننا چا ہوں گا۔دوسری طرف  گورنر بلوچستان سید ظہور آغا نے جام کمال کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے جس  کے ساتھ  ہی بلوچستان کی صوبائی کابینہ بھی تحلیل ہوگئی ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے استعفیٰ دینے کے بعد مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ایک ماہ سے چیزوں پر غور کرتا رہا ، اتار چڑھاؤ ، چیلنجز اور سازشیں دیکھیں،ہم سب ممبرز مضبوطی سے کھڑے تھے اور الحمدللہ نہیں ٹوٹے۔انہوں نے کہا کہ اور بہت سے خیالات اور استدلال کے بعد بھی ہم نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)کو پارٹی میں مزید دراڑیں ڈالنےنہیں دیں،میں نے اپنا استعفیٰ مشاورت اور اتفاق رائے کے ساتھ دیا ہے۔سابق وزیراعلیٰ کااتحادی پارٹیوں کے رہنماؤں کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچستان عوامی پارٹی،پاکستان تحریک انصاف،عوامی نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیموکریٹک موومنٹ اورجمہوری وطن پارٹی کے ایسے معیاری لوگوں کا حصہ بننا میرے لیے اعزاز کی بات ہے.انہوں نے ناراض اراکین کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ تمام ڈرامہ ، حسد ، جعلی پروپیگنڈہ اور سی ایم شپ کے لیے بھوک دیکھ کر ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح کارکردگی کو پیسے سے کم کیا جاتا ہے،وہ کہتے ہیں ، نام نہاد "بی اے پی کی تقسیم" ، جام کمال کی وجہ سے ہے،پھر میں اپنا فیصلہ پارٹی اور اس کے اتحادی ارکان پر چھوڑتا ہوں۔

واضح رہے کہ جام کمال نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک سے ملاقات کے بعد منصب چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔اس سے قبل جام کمال نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ چاہے دو ووٹ بھی ملیں لیکن مقابلہ کیے بغیر عہدہ نہیں چھوڑیں گے۔بلوچستان کے ضلع لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے جام کمال اگست 2018ء میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے، وہ تین سال اور دو ماہ تک اس منصب پر فائز رہے۔

مزید :

علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -