کمانڈ کرنے کی تمنا

کمانڈ کرنے کی تمنا
کمانڈ کرنے کی تمنا

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:28 

بیسویں اور آخری باب کا نام منیر نیازی کے شعر کے اس مصرعے پر رکھا گیا ہے ”کتاب عمر کا ایک اور باب ختم ہوا“ اس میں یکم جولائی 1985ءسے مئی1988ءکتاب کی تکمیل تک کی کہانی ہے ۔جب وہ مارشل لاءسیکرٹریٹ سے دوبارہ آئی ایس پی آر میں آگئے تھے دوبار آمد بحیثیت ڈائریکٹر یعنی سربراہ ادارہ تھی جس کی سالک کو بہت آرزو تھی انہوں نے جنرل محمد ضیاءالحق سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے اسے پورا کر دیا۔اس کے متعلق لکھتے ہیں: 

”عرض کیا: فوج کی ایک روایت ہے (اور آپ اس روایت کو مجھ سے بہتر جانتے ہیں) کہ انسان جس یونٹ میں کمیشن پا کر پہلی مرتبہ جاتا ہے‘ وہ ایک نہ ایک دن کمانڈ کرنے کی تمنا بھی رکھتا ہے‘ مجھ پر بھی اس روایت کا اثر ہو گیا تھا اور میرے اندر بھی ایک ایسی معصوم تمنا جاگ اٹھی تھی-“

سالک نے یہ اقرار تو بڑی ایمانداری سے کیا ہے کہ وہ صدر صاحب سے خواہش کر کے اس منصب پر آئے تھے لیکن اس عمل کے دفاع میں الفاظ ایسے استعمال کیے ہیں کہ جیسے یہ ایک عام سی بات ہے مثلاً فوج کی روایت ‘روایت کا اثر‘ معصوم تمنا‘ قدرتی تمنا جیسے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ سالک اپنی داخلی خواہشات کو خارجی عوامل کا اثر قرار دے رہے ہیں۔

ڈائریکٹر کی کرسی پر آنے کے بعد سالک نے اس کی ظاہری حالت پر غور کیا تو وہ اتنی ہی ابتر تھی جتنی ان کی ابتدائی ملازمت میں تھی سالک کو اپنے سے پہلے ڈائریکٹر ز پر حیرت ہوئی کہ انہوں نے ادارے کی حالت پر توجہ کیوں نہیں دی لیکن یہ کہہ کر خود کو تسلی دی کہ ان کی توجہ کام پر زیادہ ہوگی ”جبکہ میری ترجیحات ذرامختلف ہیں کیوں کہ میں مارشل لاءکے دوران بہتر دفتری آسائشیں دیکھ چکا ہوں۔گویا بگاڑ ڈائریکٹریٹ میں نہیں میرے اندر ہے۔“ اس میں ایک اور بات بھی کا رفر ما ہے جس کی طرف شائد خود پسندی کے ڈر سے اشارہ نہیں کیا کہ سالک ایک بے حد نفاست پسندانسان تھے اور بے ترتیبی کو ناپسند کرتے تھے۔ ”رسالہ نقوش “ کے مدیر جناب جاوید طفیل کے بقول:

”ان کی نفاست پسندی ہر جگہ پر نمایاں تھی دفتر میں بھی اور گھر پر بھی وہ ایک نفاست پسند انسان تھے ان کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ ان کی کتاب بڑے عمدہ طریق پر چھپ کر سامنے آئے جب کبھی ہم کوئی کتاب شائع کرتے تو عموماً ان کا فون اس قسم کا ہوا کرتا تھا کہ کتاب تو بہت عمدہ چھپی ہے لیکن اس کے فلاں صفحے کی فلاں سطر پر ایک دھبہ پڑ گیا ہے-“ 

اس کے بعد جنرل محمدضیاءالحق خود ان کے دفتر آئے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور ادارے کی حالت کے بارے میں وسائل کی کمی کا سن کر کہا کہ کیا چاہیے لیکن سالک نے کچھ نہ کہا:

”اب 3 ٹوپیاں پہننے والے بااختیار شخص کے منہ سے یہ الفاظ سن کر کس کے منہ سے رال نہیں ٹپکے گی لیکن میں نے ہونٹ بھیچ لیے اور دماغ کی کھڑکیاں کھول دیں جھٹ غالب کا یہ شعر در آیا۔“

بے طلب دیں تو مزہ اس میں سوا ملتا ہے

وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -