ادبی بیٹھک کے تیرہ برسوں کااحوال 

 ادبی بیٹھک کے تیرہ برسوں کااحوال 
 ادبی بیٹھک کے تیرہ برسوں کااحوال 

  

 سفر کا آغاز کرنے والے کو اس کے انجام کی کبھی بھی خبر نہیں ہوتی، نہ اسے یہ معلوم ہوتا ہے، اس سفر کے دوران اسے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ کہ وہ منزل تک پہنچ بھی سکے گا یا نہیں؟  زندگی کاسفرہو یا کوئی اورمسافت،تجربات کم وبیش ایک جیسے ہوتے ہیں،ہر سفر کے آغاز میں ہمسفر تازہ دم بھی ہوتے ہیں اور پر جوش بھی،کچھ خواب ہوتے ہیں جوسب مسافر اپنی اپنی آنکھوں میں سجا کر آگے بڑھتے ہیں اور پھر بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں، خواب کبھی تعبیر پا جاتے ہیں اور کبھی بے تعبیرہی رہ جاتے ہیں لیکن مسافروں کو یہ اطمینان ضرور ہوتا ہے کہ ہم نے کوئی خواب دیکھا ضرور تھا۔رسول حمزہ توف نے کہا تھا کہ ”بڑے خواب تو بچہ بھی دیکھ سکتاہے“۔سو ہم نے بھی ایک خواب دیکھا اور ایک سفر کا آغاز کیا،یہ خواب ملتان میں مجلسی زندگی کے احیاء کاتھا اورسفر ہم نے بارہ فروری 2010ء کو شروع کیا جب ملتان آرٹس کونسل میں اس وقت کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر محمد علی واسطی کے تعاون سے ادبی بیٹھک کاآغاز کیاگیا۔واسطی صاحب نے مجھے کہا تھا کہ یہ مشکل کام ہے،ہرہفتے کسی تقریب کاانعقاد یا ادیبوں کو جمع کرنا آسان نہیں ہوگا لیکن ہم نے پھربھی جوش اورجذبے کے ساتھ سفر آغاز کردیا،پلک جھپکنے میں تیرہ سال بیت گئے، تیرہ برس کے اس سفر میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا یہ میرا موضوع ہی نہیں لیکن ہم نے اس تمام عرصے کے دوران بہت سی خوب صورت روایات ضرور قائم کیں۔ وہ روایات جو اس سے پہلے ملتان کے ادبی منظرنامے میں موجودنہیں تھیں،مرنے والوں کو یاد ر کھنااور زندہ قلمکاروں کو ان کی زندگی میں خوشیاں دینا ادبی بیٹھک کی پہچان بنا۔ سخن ورفورم کی ادبی بیٹھک نے ملتان میں ادیبوں کی سالگرہ منانے کی روایت قائم کی اوراس کاآغاز بیٹھک کے پہلے سال میں ہی19مارچ2010ء کوپروفیسر لطیف الزمان خاں صاحب کی 84ویں سالگرہ کے موقع پرانہیں پھول پیش کرکے کیاگیا۔یہ بیٹھک صرف ملتان ہی نہیں پورے جنوبی پنجاب کی آواز بنی اورڈیرہ غازی خان،بہاولپور،خانیوال، وہاڑی، لودھراں، رحیم یارخان، ڈیرہ اسماعیل خان سمیت اس خطے کے دوردراز علاقوں سے بھی قلمکاروں نے بیٹھک میں شرکت کی۔  اسی طرح دنیا کے مختلف ممالک سے نامور ادیب اورشاعر بھی اس بیٹھک کے وقار میں اضافے کاباعث بنے، ادبی بیٹھک کے ذریعے کئی نوجوانوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا اور آج وہ سب شعر و ادب کی دنیا میں اپنا مقام بنا چکے ہیں۔

ادبی بیٹھک کے دس سال مکمل ہونے پر ہم نے”سخن وران ملتان“ کے نام سے ادبی بیٹھک کے پہلے سال کے تمام اجلاسوں کا احوال کتابی صورت میں محفوظ کیا تھا، اسی کتاب میں بیٹھک کے اجلاسوں میں شرکت کرنے والی پچاس شخصیات کا مکمل تعارف بھی شائع کیا گیا۔ اگلے برس اسی کتاب کی دوسری جلد میں 2012 کے تمام اجلاسوں کی تفصیل اور مزید تیس شرکاء کا تعارف شامل کر دیا گیا، پہلی کتاب میں 32 اجلاسوں کے موضوعات اور شرکاء کی تفصیل شامل کی گئی تھی تھی دوسری کتاب میں مزید 75 اجلاسوں کا احوال شامل کر دیا گیا، اس طرح پہلی دو کتابوں میں مجموعی طور پر 107 اجلاسوں کی تفصیل محفوظ کر دی گئی۔مقصد اس کا یہ تھا کہ اپنے عہد کی ادبی و ثقافتی تاریخ کو محفوظ کردیاجائے اورادبی بیٹھک کے سفر کو دستاویزی شکل دی جائے تاکہ آنے والے برسوں میں اگرکوئی محقق یا مورخ یہ جاننا چاہے کہ ان اجلاسوں میں کون کون سی ہستیاں شریک ہوئیں تواس کے پاس تمام ریکارڈ موجودہو اس وقت تک ادبی بیٹھک کے 450 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں اور بیٹھک کا سفر 13 ویں برس میں بھی جاری ہے۔ گزشتہ تیرہ برسوں کے دوران ادبی بیٹھک کے  اجلاسوں کی ذمہ داری تمام تر مصروفیات کے باوجود تنہا میں نے ہی سنبھالے رکھی۔ کچھ اور دوست بھی بلا شبہ مختلف اوقات میں باقاعدگی کے ساتھ بیٹھک میں آتے رہے لیکن مجھے اپنی حاضری ننانوے فیصد اجلاسوں میں یقینی بنانا ہوتی تھی۔

ابتدا میں اگرفاروق انصاری،اصغر علی شاہ، مسعود کاظمی،حبیب الرحمٰن بٹالوی، ضمیر ہاشمی، سہیل عابدی،ضیاء ثاقب بخاری، ارشد عباس ذکی، قیصر مگسی، عمار یاسر مگسی، راشد نثار جعفری بیٹھک کے مستقل شرکاء میں شامل تھے تو بعد کے دنوں میں مستحسن خیال، ڈاکٹر واجد برکی،تحسین غنی، ظہیر عباس، صہیب اقبال اور شہزاد عمران خان نے باقاعدگی سے شرکت کی روایت کو آگے بڑھایا لیکن اس سارے عرصے میں عین وقت پر بیٹھک کے باہر اپنی موجودگی کوبہرحال  مجھے ہی یقینی بنانا ہوتا تھا۔ اورآرٹس کونسل کے دروازے پر میرے ساتھ کئی برس تک نامور گلوکار نعیم الحسن ببلو موجود ہوتے تھے جو آرٹس کونسل کی میوزک کلاس کے منتظم تھے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس تمام عرصے میں ملتان آرٹس کونسل کی انتظامیہ کی نمائندگی اس بیٹھک میں نہ ہونے کے برابررہی تاہم وہ ان اجلاسوں کو اپنی کارکردگی میں شمار ضرور کرتے تھے۔ آرٹس کونسل کے کچھ دوستوں نے مختلف اوقات میں ہمارے ساتھ تعاون بھی کیا لیکن ہم نے بیٹھک کے اخراجات کے حوالے سے آرٹس کونسل پر مالی بوجھ ڈالنے سے دانستہ گریز کیا کیونکہ ہمیں سرکاری اداروں کی مالی حیثیت کا بخوبی اندازہ تھا۔

گزشتہ تیرہ برسوں کے دوران میں نے بارہا کوشش کی کہ ادبی بیٹھک کی ذمہ داریاں کسی اور کے سپرد کر دوں لیکن ہر مرتبہ وسیم ممتاز، قمر رضا شہزاد اور شاکر حسین شاکر نے گیند واپس میرے کورٹ میں پھینک دی، دوسرے لفظوں میں مجھے اپنے شوق کی قیمت خود ہی ادا کرنے کو کہا گیا،اس دوران یہ تجاویز ضرور پیش کی گئیں کہ ہفتہ وارکی بجائے  اجلاس کو پندرہ روزہ  کردیاجائے تاکہ احباب ہفتہ وارشرکت کی  مشقت سے بچے رہیں۔ میرا موقف کچھ اور تھا۔میرا یہ خیال تھا کہ پندرہ روزہ اجلاسوں سے دوستوں کی باقاعدگی متاثر ہوگی اور وہ اس شبہ میں رہیں گے کہ معلوم نہیں اس مرتبہ اجلاس منعقد ہونا ہے یا نہیں۔تیرہ سال کے بعد اب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ ذمہ داری میری جگہ کسی اور کو قبول کرلینی چاہیے۔آنے والے دنوں میں میں اپنے بہت سے غیرمطبوعہ کام کو کتابی صورت میں محفوظ کرنا چاہتاہوں جس کے لیے بہرحال مکمل توجہ اور وقت درکار ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ میرے دوستوں نے اس سلسلے میں میرے ساتھ تعاون کافیصلہ کیا ہے۔ سخن ورفورم کے عہدیداروں نوازش علی ندیم،  شاکر حسین شاکر،قمررضا شہزاداور وسیم ممتازنے اس بات پرآمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ تسلسل کے ساتھ میری غیرموجودگی میں بھی ادبی بیٹھک کاسفر جاری رکھیں گے۔میں بیٹھک میں شرکت ضرور کروں گا لیکن میں سب سے پہلے آنے والوں میں شامل نہیں ہوں گا۔ اسی طرح بیٹھک کے اجلاسوں میں میری پہلے جیسی باقاعدگی بھی دکھائی نہیں دے گی۔مجھے یقین ہے کہ ہم نے ملتان میں جن خوبصورت روایات کاآغاز کیا ادبی بیٹھک انہیں تسلسل کے ساتھ آگے بڑھاتی رہے گی۔ اور آخری بات یہ کہ بیٹھک کے باقی اجلاسوں کے احوال اور مزید پندرہ شرکاء کے تعارف پر مشتمل کتاب ”سخن وران ملتان 3“ بھی تکمیل کے مراحل میں ہے اوراس مرتبہ یہ کتاب شہزاد عمران خان نے  مرتب کی ہے جس کی اشاعت کے ساتھ ہی بیٹھک کا تیرہ سالہ ریکارڈ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ ہوجائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -