کچھ تعلیم و تعلّم کے بارے میں  (1)

  کچھ تعلیم و تعلّم کے بارے میں  (1)
  کچھ تعلیم و تعلّم کے بارے میں  (1)

  

 پاکستان کے اوورآل زوال میں بہت سے عناصر نے حصہ لیا جن میں بعض کی نوعیت اساسی ہے اور بعض کی زمانی۔ یہ زمانی  اور مکانی حقائق جو انگریزی میں Time and Space کہلاتے ہیں، پاکستان کی 75سالہ تاریخ میں بڑا اہم رول ادا کرتے ہیں۔ میری عمر کے لوگ ماضی پرست کہلاتے ہیں اور جدید معاشرہ ان کی تحریر و تقریر کو زیادہ درخورِ اعتناء نہیں جانتا۔ پاکستان کی موجودہ نسل چونکہ گزشتہ سے پیوستہ ہے اس لئے وہ اپنی زوال آمادہ روایات کو ماضی کی ’عطا‘ گردانتی ہے۔ اس کا اصرار ہے کہ اگر وہ جدید اقدار سے ہم آہنگ نہیں ہو سکی تو اس میں قصور اس کا نہیں، نسلِ گزشتہ کا ہے۔ اس کا استدلال اس زاویہء نگاہ سے ایک حد تک قابلِ قبول ہے کہ جب یہ موجودہ نسل اپنی کسی سیدھی راہ سے بھٹک رہی تھی تو بزرگ نسل نے اس کو کیوں نہ روکا دوسری طرف ہم نے اس ضرب المثل کو گلے سے لگا رکھا ہے کہ: ”خطائے بزرگاں گرفتن خطاست“۔ لیکن ہم اگر بزرگ ہیں تو جو نسل ہماری بزرگ تھی اس کی ”خطاؤں“ کو ہم نے کیوں اپنایا اور گلے لگایا؟

اپنا نقطہء نظر ایک مثال سے واضح کروں گا۔ ہمارے زمانے میں شہری اور دیہاتی تعلیم میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا تھا۔ دیہاتوں اور قصبوں میں جو سکول ہوا کرتے تھے ان میں امراء اور غرباء کے بچوں کا نصابِ تعلیم یکساں تھا۔ انگلش میڈیم اداروں کا نام و نشان نہ تھا۔ نہ صرف ہماری کتابیں زیادہ تر ”سیکنڈہینڈ“ ہوا کرتی تھیں بلکہ یونی فارم بھی ایک حوالے سے سیکنڈہینڈ ہوتی تھی۔ یعنی کلاس ہشتم  کی یونیفارم جو ہوتی تھی، وہی  کلاس نہم میں آگے چل کر لگائی جاتی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ کلاس نہم کے لئے کوئی الگ سکول نہ تھا۔ اب تو پرائمری سے نکل کر جو بچہ یا بچی مڈل میں جاتی ہے تو اس کی یونیفارم بھی بدل جاتی ہے بھلے جسمانی لحاظ سے اسے پرانی یونیفارم بھی فِٹ (Fit) کیوں نہ آئے۔

میں اگلے روز انگریزی زبان کے ایک اخبار میں ایک جنرل صاحب کا کالم پڑھ رہا تھا۔(نام لینا مناسب نہیں ہوگا) ویسے نجانے اس کی کیا وجہ ہے کہ سینئر ملٹری آفیسرز، اردو میں کالم نگاری کو گناہ سمجھتے ہیں۔ پون صدی بعد بھی ہم میں احساسِ محرومی جوں کا توں موجود ہے۔ وجہ یہ نہیں کہ ان کی اردو ”اچھی“ نہیں۔ جب وہ الیکٹرانک میڈیا میں نمودار ہو کر کسی ٹاک شو میں حصہ لیتے ہیں تو ”فر فر“ اردو بولتے ہیں لیکن فر فر اردو لکھتے ہوئے حجاب میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں!

جنرل صاحب کے کالم کا یہ حصہ ملاحظہ فرمائیں: ”میں آسٹریلیا میں ایک سال کا پروفیشنل کورس کرنے گیا ہوا تھا۔ یہ کورس ایک آسٹریلوی قصبے میں کرایا جا رہا تھا۔ وہاں کے سکولوں میں بین الاقوامی طلباء کی ایک کثیر تعداد بھی تھی۔ میرے بچے بھی وہاں زیرِِتعلیم تھے۔ سکول کی انتظامیہ نے والدین کو لکھا کہ وہ فلاں فلاں دن فلاں وقت پر تدریسی سٹاف سے ملاقات کر لیں۔ اس ملاقات میں ہمارے تحفظات کو دور کیا گیا اور سکول انتظامیہ نے ہمارے بیشتر سوالوں کا خاطر خواہ جواب دیا۔ اس سکول کی کوئی یونیفارم نہ تھی۔ طلباء کو بتایا جاتا تھا کہ وہ ڈھیلا ڈھالا ٹریک سوٹ پہن کر آئیں۔ اس کے نئے ہونے کی شرط نہیں تھی۔ مقامی سٹوروں سے نیا بھی مل جاتا تھا اور سکینڈہینڈ بھی۔ سکول کی سالانہ فیس 50ڈالر (آسٹریلوی ڈالر) تھی۔ بچوں کو نصابی کتب، کاپیاں اور دوسری اشیائے نوشت و خواند سکول کی طرف سے مہیا کی جاتی تھیں۔ کسی بھی بچے کو ہوم ورک نہیں دیا جاتا تھا۔ اساتذہ کلاس روم میں ہی نصابی کتب سے سب کچھ پڑھا سکھا دیتے تھے۔ بچے اور بچیاں سکول میں رکھی اپنی نصابی کتب کھول کر اساتذہ کے لیکچر سن لیتی تھیں۔ طلباء کو کہا جاتا تھا کہ کسی سبق کے خاتمے کے بعد ڈیسک میں رکھے سفید کاغذات پر پوچھے گئے سوالوں کا جواب لکھ دیں اور ڈیسک ہی میں ایک الگ خانے میں رکھ دیں۔ بعد میں یہ تمام جوابات اٹھا کر ہر طالب علم کے متعلقہ مضمون کے فولڈر میں لگا دیئے جاتے تھے۔ ہر کلاس کے ٹائم ٹیبل میں کھیل کا ایک پیریڈ بھی ہوتا تھا۔ ننھے بچوں کے لئے ریت کے ڈھیر بنا دیئے گئے تھے جو سکول کے احاطے ہی میں اسی مقصد (کھیل) کے لئے رکھے رہتے تھے“۔

جنرل صاحب کے کالم کا یہ پیراگراف پڑھ کر مجھے اپنا زمانہ یاد آیا جو 1950ء کے عشرے پر محیط تھا۔ ہر لڑکے کا بستہ زیادہ بھاری نہیں ہوتا تھا۔ بالعموم ہم طلباء  تھیلا سا بنا کر اسے کاندھے پر لٹکا لیتے تھے۔ سکول آتے ہوئے صرف وہی کاپیاں تھیلے میں ڈالتے تھے جن پر ہوم ورک کیا ہوتا تھا۔ یہ ہوم ورک زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دو گھنٹوں میں ختم ہو جایا کرتا تھا۔حساب، الجبراء، جیومیٹری، جغرافیہ، تاریخ اور اردو کا ہوم ورک وہی ہوتا تھا جو ان مضامین کے اساتذہ کلاس روم میں بتلایا اور پڑھایا کرتے تھے۔ ہوم ورک کی یہ ساری کاپیاں سکول میں باقاعدگی سے چیک کی جاتی تھیں اور ان کی اغلاط ہم سکول میں ہی درست کر لیا کرتے تھے۔

تاہم یہ صورتِ حال قصباتی سکولوں کی تھی، شہری سکولوں کی نہیں۔ شہری سکولوں سے میری مراد بڑے شہروں کے سکول ہیں۔ یہ بڑے شہر مرورِ ایام سے دن بدن تعداد میں زیادہ ہوتے جاتے ہیں۔آج پنجاب کے تقریباً 27اضلاع ہو چکے ہیں۔ ان میں سکولوں اور کالجوں کے علاوہ یونیورسٹیاں بھی ہیں یا عنقریب ہو جائیں گی۔ پاکستان کی آبادی جس سکیل سے بڑھ رہی ہے وہ ناقابلِ بیان و برداشت ہے۔ کوئی حکومت اس طرف توجہ نہیں دے رہی۔ زلزلے، سیلاب، وبائیں اور قحط ایک حد تک کم ہو چکے ہیں۔ اگر 10،12برس کے بعد امسال سیلاب آیا ہے تو 2010ء سے لے کر 2022ء تک کے درمیانی 12برسوں میں آبادی کی کثرت نے ’دھوم‘ مچائی ہوئی تھی۔ سندھ، بلوچستان اور جنوب مغربی پنجاب میں اگر خدانخواستہ اگلے سال بھی اسی پیمانے کاسیلاب آیا جو اس سال آیا ہے تو ہم کیا کر لیں گے؟ ہم جس رفتار سے بچے پیدا کرتے ہیں، اس رفتار سے اساتذہ پیدا نہیں کر سکتے اور نہ ہی سکولوں کی تعداد بڑھا سکتے ہیں۔شہری اور قصباتی سکولوں میں طلباء اور طالبات کی کثرت نے تعلیم کا معیار خطرناک حد تک نیچے گرا دیا ہے۔ ہم آسٹریلیا یا کسی دوسرے ترقی یافتہ ملک سے کیا مقابلہ کریں۔ ہم تو اپنے جیسے پس ماندہ ممالک کے سکولوں سے بھی گئے گزرے ہیں!……

جنرل صاحب آگے جا کر لکھتے ہیں: ”میں جب حیدرآباد ڈویژن (18انفنٹری ڈویژن) کا GOC (جنرل آفیسر کمانڈنگ) مقرر ہوا تو میں نے آسٹریلوی سکولوں کی تقلید ضلع بدین میں کرنے کی کوشش کی۔اس ضلع میں آرمی کے زیرِ انتظام جو سکول چل رہا تھا میں نے ایک سال تک اس میں اسی آسٹریلوی ماڈل کو اپنانے کی طرح ڈالی۔ اول اول تو والدین نے بعض تحفظات کا اظہار کیا لیکن سال کے بعد جب نتائج کو دیکھا گیا تو وہ بڑے حوصلہ افزاء تھے۔ بچوں کو بھاری بھرکم بستوں سے جب نجات ملی، سکول کی روائتی عاجل روٹین میں جب آہستگی آئی، تھکا دینے والا ہوم ورک جب ختم ہو گیا اور تدریسی ماحول میں جب نرم خوئی کا کلچر اختیار کیا گیا تو اس کے نتائج دلوں کو گرمانے اور خوش امیدی کو برلانے والے نکلے۔ اسی ماڈل کی سفارش خیبرپختونخوا حکومت کے سکولوں کے لئے بھی کی گئی۔ لیکن ایسی تجاویز اور سفارشات بالعموم ہمہماتے معاشروں میں بار نہیں پاتیں …… وابستہ مفادات کی اپنی مصلحتیں جو ہوتی ہیں!

PTI حکومت نے اپنے چار سالہ دور میں یکساں نظامِ تعلیم کا ڈول ڈالا۔ شفقت محمود  صاحب نے اپنی سی کوششیں کیں مگر وابستہ مفادات کے سامنے ایسا کرنا بہت مشکل تھا۔ انگلش میڈیم سکولوں کی بھرمار، انگریزی زبان کی ہماری غلامی، تجربہ کار اساتذہ کی کمیابی، کھاتے پیتے گھرانوں کے بچوں اور بچیوں کی کثرتِ تعداد  کا دباؤ اور ہر انگلش میڈیم سکول کا اپنا اپنا کورس، اپنی یونیفارم، اپنے سمعی بصری پروگرام اور سپورٹس کے لئے پلے گراؤنڈز  کی قلت نے اچھی اور مفید تعلیم کے آگے بند باندھ دیا۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -