چیلنج کرتاہوں توشہ خانہ کا فیصلہ عدالت میں نہیں ٹھہر سکے گا، الیکشن میں دو تہائی اکثریت نہ ملی تو حکومت نہیں لوں گا: عمران خان 

  چیلنج کرتاہوں توشہ خانہ کا فیصلہ عدالت میں نہیں ٹھہر سکے گا، الیکشن میں دو ...

  

        اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا لانگ مارچ ہوگا، جمعرات کو لانگ مارچ کا اعلان کروں گا، مجھے دو تہائی اکثریت نہ ملی تو حکومت نہیں لوں گا۔اپنے ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی تک ملک ترقی نہیں کرے گا، ہم نے بلاول کے لانگ مارچ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی، ان کا مقصد جمہوریت نہیں، یہ اپنا پیسہ بچانا چاہتے ہیں، مجھے جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ عوام باہر نہ نکلے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ اگر مجھے دو تہائی اکثریت نہ ملی تو حکومت نہیں لوں گا، انہوں نے نااہلی کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ توشہ خانہ کا کیا کریں گے؟ آخر میں بیچنے ہی پڑیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ اس بار ہم بہت تیاری کے ساتھ لانگ مارچ کیلیے آرہے ہیں، حکومت کچھ بھی کر کے عوام کے سمندر کو نہیں روک سکے گی۔ میں چیلنج کرتا ہوں عمران خان کا فیصلہ عدالت میں نہیں ٹھرے گا۔عمران خان نے کہا کہ جو بائیڈن نے پاکستان کو دنیا کا خطرناک ملک قرار دیا، کہاں ہے سفارتکاری،۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سائفر میں صاف لکھا ہے کہ عمران خان کو ہٹا کر شہباز شریف کو وزیر اعظم لے کر آ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 6 تاریخ کو مراسلہ آتا ہے کہ 7 تاریخ کو عدم اعتماد آ جاتی ہے، نواز شریف کی واپسی سے ہمارا فائدہ ہوگا۔۔سنی اتحاد کونسل پاکستان اور متحدہ علما ء بورڈ پنجاب کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی قیادت میں 30 سے زائد مفتیانِ کرام کے وفد نے سابق وزیر اعظم عمران خان سے بنی گالا میں تفصیلی ملاقات کی۔اس موقع پر سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،سینیٹر شبلی فراز سمیت بھی موجود تھے۔مفتیانِ کرام نے عمران خان کی اسلام کے حوالہ سے تاریخی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔صاحبزادہ حامد رضا نے  عمران خان سے الگ سے بھی ون ٹو ون ملاقات کی۔ملاقات میں لانگ مارچ اور موجودہ صورتحال پر حکمت عملی مرتب کی گئی۔عمران خان نے صاحبزادہ حامد رضا کی بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے کوششوں کو سراہا۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -