سیلاب زدہ علاقوں میں دیمک کا حملہ، کچے گھر مکمل، تباہ، غذائی قلت، صحت کی عدم سہولیات پر یونیسف کی وراننگ

  سیلاب زدہ علاقوں میں دیمک کا حملہ، کچے گھر مکمل، تباہ، غذائی قلت، صحت کی ...

  

        دادو، اسلام آباد،سکھر(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) سندھ کے ضلع دادو کے سیلاب سے متاثر ہ علاقوں میں دیمک کا حملہ متاثرین کیلئے وبال جان بن گیا۔ضلع جامشورو اور دادو کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں مسلسل پانی کی موجودگی کے باعث بڑی تعداد میں دیمک نکل آئے،  دیمک نے متاثرین کے کچے مکانات اور لکڑیوں کے دروازوں اور کھڑکیوں کو چاٹنا شروع کر دیا جس نے متاثرین کودوہرے عذاب میں مبتلاکر دیا ہے۔دیمک نے سیکڑوں کچے مکانات اور گھروں میں نصب لکڑی دروازوں اور کھڑکیوں کو چاٹ کر ناکارہ بنا دیا ہے جس کے باعث دیہی معشیت کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ سیلاب متاثرین نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کے دیمک  کے خاتمے کے لیے خصوصی طور پر سپرے کا اہتمام کیا جائے۔دوسری جانب یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں بچوں میں شدید غذائی قلت اور صحت کی سہولیات کی صورتحال تشویشناک ہے، 70 لاکھ سے زائد بچوں تک پہنچنے کیلئے عالمی برادری سے تعاون کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ نو عمر لڑکیاں اور خواتین کو غذائیت سے بھرپور خدمات کی ضرورت ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولیات میں داخل ہونے والے 5 سال سے کم عمر کے 9 میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار پایا گیا اور 10 لاکھ سے زائد افراد پینے کے صاف پانی جبکہ 60 لاکھ سے زائد افراد کو صفائی کی خدمات ضرورت ہے۔یونیسیف نے حکومت کی صحت کی فراہمی کی خدمات میں غذائیت کو ضم کرنے اور طویل المدتی میں غذائیت کیلئے حکومتی فنڈز میں اضافہ کرنے پر بھی زور دیا۔بیان میں کہا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولیات پر اس سال ستمبر سے اب تک صحت کے ماہرین کی جانب سے 22 ہزار سے زیادہ بچوں کی اسکریننگ کی گئی جس میں 2630 سے زیادہ یا 9 بچوں میں سے ایک سے زیادہ میں شدید غذائی قلت کی تشخیص ہوئی۔علاوہ ازیں ٹھہری میرواہ تحصیل میں کام کرنیوالی امریکن این جی او نے مزید 6 دیہات سے پانی نکال کر زندگی بحال کردی،علاقہ مکینوں میں خوشی کی لہر،خالی گھر پھر بسنے لگے،رونقیں لوٹنے لگیں۔اس سلسلے میں ٹیم ہیومینٹی یو ایس کے پاکستان کے ڈائریکٹر آپریشن اید علی حسن زیدی نے بتایا کہ صرف چند دنوں کی کوششوں سے علاقے کے 10 سے زائد دیہات سے پانی نکال دیا ہے اور مزید دیہات میں بھی پانی نکالنے کا کام جاری ہے جس کو جلد مکمل کرنے کیلئے مشینری بڑھا دی گئی ہے۔مزید برآں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی چینی ماہرین کی ٹیم نے سیلاب سے متعلق ابتدائی رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں مستقبل میں ایسی آفات سے بچنے کیلئے وسط مدتی اور طویل مدتی اقدامات بھی تجویز کیے گئے، رپورٹ میں بڑی ڈیٹا ٹیکنالوجیز پر مبنی قومی سیلاب کی پیشگوئی، قبل از وقت وارننگ سسٹم کی ترقی، سیٹلائٹ، راڈار اور دیگر مانیٹرنگ سسٹمز کی ایپلی کیشن اور قبل از وقت وارننگ کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے، کمیونٹی پر مبنی نیشنل مانٹین ٹورینٹ ڈیزاسٹر مانیٹرنگ اور قبل از وقت وارننگ سسٹم قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔چین کی ایمرجنسی مینجمنٹ کی وزارت کے محکمہ فلڈ کنٹرول اور خشک سالی سے نجات کے 11 رکنی وفد نے پاکستان کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد ابتدائی رپورٹ پیش کی۔ وفد میں چین کی وزارت آبی وسائل اور چین کی موسمیاتی انتظامیہ کے ماہرین بھی شامل تھے۔چینی ماہرین کی ٹیم کی جانب سے پیش کی گئی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1961 کے بعد سب سے زیادہ شدید بارشیں ہوئیں جس سے84اضلاع یا پاکستان کے کل رقبے کا ایک تہائی متاثر ہوا،اس سے تقریباً 33 ملین افراد یا ملک کی کل آبادی کا ساتواں حصہ متاثر ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تباہی کے بعد کی صورتحال سے تنہا نمٹنے کے قابل نہیں رہا۔ ملک کے جنوبی حصے اب بھی ڈوبے ہوئے ہیں اور پانی بھرے علاقے متعدی بیماریوں کا شکار ہیں اور لوگوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں۔ پناہ گاہوں میں رہنے والے بے گھر افراد کو ہنگامی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وسیع زمینوں پر فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور خوراک کی قلت اور بھوک کا سامنا ہے۔چینی ٹیم کے رہنما ژوژیانبؤنے سیلاب پر قابو پانے کے چین کے عملی تجربے کو بھی شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم جلد ہی اپنی تفصیلی رپورٹ لے کر آئے گی اور امید ہے کی کہ چینی اور پاکستانی حکام صورتحال سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

سیلاب 

مزید :

صفحہ اول -