سکھر، انتظامیہ اور محکموں کی ناقص پلاننگ، نکاسی نظام بہتر نہ بنایا جاسکا

سکھر، انتظامیہ اور محکموں کی ناقص پلاننگ، نکاسی نظام بہتر نہ بنایا جاسکا

  

سکھر(ڈسٹرکٹ رپورٹر)انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی ناقص پلاننگ، سکھر کا نکاسی نظام بہتر نہ بنایا جاسکا،شہر میں تعمیر شدہ سڑکیں کھودنے کا عمل جاری،ریس کورس روڈ پر کھودی جانے والی سڑک مرمت نہ ہوسکی،مسافر گاڑیوں سمیت دکانداروں سمیت شہریوں کو پریشانی کا سامان،سماجی حلقوں کا چیف جسٹس آف پاکستان و دیگر بالا حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات ے مطابق سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر میں انتظامیہ اور محکمہ پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ و منتخب عوامی نمائندگان کی عدم توجہی مسلسل لاپرواہی کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں خطیر رقم سے تعمیر شدہ سڑکوں کو ڈرینج نظام کی درستگی کے حوالے سے کھدائی کرکے سرکاری خزانے کو ٹھکانے لگانے کا عمل بدستور جاری وساری ہے،شہر کے مختلف رہائشی و تجارتی علاقوں سمیت شہر کی اہم و مصروف ترین  سڑکوں پر خطیر رقم سے تعمیر شدہ سڑکوں کو ترقیاتی کاموں کی آڑ میں سڑک کھود کر ملبہ سڑکوں پر ڈالا جارہا ہے جس کے باعث مسافر گاڑیوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہری و سماجی حلقوں کا کہنا ہے ناتجربے کاری،نااہل ٹھیکیدار، ناقص پالیسی و پلاننگ کی وجہ سرکاری خزانے کو ہر بار کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے شہریوں و سماجی حلقوں نے شہر کو تباہ کرنے والے عمل کا نوٹس لیکر شہریوں کو درپیش مشکلات سے نجات دلانے سمیت سرکاری خزانے کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹنے والوں کے خلاف کاروائی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -