اسلام آباد سیاسی انتہا پسندوں کے نشانے پر ہے، پارلیمانی نظام کا دفاع کرینگے: بلاول بھٹو

       اسلام آباد سیاسی انتہا پسندوں کے نشانے پر ہے، پارلیمانی نظام کا دفاع ...

  

 لاہور (نمائندہ خصوصی، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین  اوروزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچا لیا تو قدرتی آفت سیلاب نے ایک اور امتحان میں ڈال دیا، گلگت بلتستان سے لے کر سندھ تک سارے اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ سیلاب اور سیلاب سے متاثرین ہمارا پہلا ایشو ہونا چاہیے، افسوس ایسا نہیں ہے، بلوچستان اور سندھ کے کچھ علاقے تاحال زیر آب ہیں، اسلام آباد میں جو ہورہا ہے اس پر ہم عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بات کرتے رہیں گے۔انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کہا کہ ہمیں دنیا کو یہ پیغام پہچانا ہے جو کچھ برداشت کررہے ہیں ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں.بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے غیر جمہوری طریقہ سے عہدہ سنبھالا تھا اور ان کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے آئینی طریقے سے ہٹایا گیا، جمہوریت اور پارلیمنٹ کی ترقی کے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ عمران خان نے ملک کی معیشت پر خودکش حملہ کرکے وزیراعظم آفس چھوڑا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا  کہ اسلام آباد میں سیاسی لڑائیاں چلتی رہیں گی ہمیں سیلاب متاثرین کی مدد کرنی چاہیے انہوں نے کہا کہ سیلاب اور سیلاب سے متاثرین ہمارا پہلا ایشو ہونا چاہیے، افسوس ایسا نہیں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا اگر میں عاصمہ جہانگیر کی زندوزیر خارجہ بن کر عاصمہ جہانگیر سے مل رہا ہوتا تو وہ پوچھ رہی ہوتیں بلاول آپ ڈیل کرکے وزیر خارجہ تو نہیں بنے تو میں کہتا ایسا نہیں ہے۔آپ کو یہ بات پسند آئے نہ آئے وزیر اعظم کو ہٹانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے عدم اعتماد ہماری نظر میں عمران خان ایک سلیکٹڈ وزیر اعظم تھا ماضی میں ہمارے وزیر اعظم کے ساتھ کیا کیا گیا پھانسی پر چڑھایا گیا، باہر بھیجا گیا جو بھی وزیر اعظم آتا ہے عدالت کے دروازے اور چار نمبر گیٹ کھٹکھٹانے کے بجائے جمہوری طریقہ اپنائے عمران خان نے اپنے ہی ملک پر خود کش حملہ کرکے وزیر اعظم کا دفتر چھوڑاتمام سیاسی جماعتوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ عمران خان اپنی ہی معیشت پر خودکش حملہ کردیں گے یہ بہت بڑا ظلم تھا۔اگر کسی وزیراعظم کا احتساب کرنا ہے تو وہ جمہوری طریقے سے ہو گا ہم پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لیں تو شاید اس نتیجے پر پہنچیں کہ سب اچھا نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بہت ہی ضروری ہے کہ جہاں جہاں جمہوری قوتوں، پارلیمان اور اداروں نے ترقی کی ہے، ہمیں اس کو نوٹ کرنا چاہیے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر کی یاد میں چار سال سے یہ سلسلہ جاری ہے، وہ پاکستان کے ترقی پسند وکلا، سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے ایک رول ماڈل تھیں، وہ میرے لیے بھی ایک رول ماڈل ہوتی تھیں، وہ وقتاً فوقتاً میری رہنمائی بھی کرتی تھیں۔ا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی سیاسی جماعتوں نے سیاسی قیمت ادا کی مگر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، اور پاکستان کے عوام کو مزید مشکلات سے بچایا۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے وہ پائلٹ پروجیکٹ بنائیں گے کہ جب ہم تعمیر نو کے مرحلے میں داخل ہوں گے، جب ہم زرعی اور آبپاشی کے نظام کو دوبارہ کھڑا کر دیں گے، اور کوشش کریں گے کہ اس ترقی کا فائدہ ان علاقوں کے مقامی لوگوں کو پہنچے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب کے متاثرین اور موسمیاتی آفت کے بارے میں ایکشن کے حوالے سے ہمیں ایک صفحے پر آنا پڑے گا، اور ہم اتفاق رائے پیدا کرکے اس مسئلے سے نکل سکتے ہیں، میری اپیل ہے کہ دیگر سیاسی معاملات چلتے رہیں گے، سیلاب متاثرین کو نہ بھولیں، وہ آج بھی کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جہاں تک جمہوری اور آئینی سفر کی بات ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ جو بھی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں حصہ لے رہے ہیں، ہم سب متحد ہو کر پاکستان میں جمہوریت کا دفاع کریں گے، پاکستان کے پارلیمانی نظام کا دفاع کریں گے، اور یقینی بنائیں کہ آگے جاکر اپنی نئی نسل کو مذہبی اور سیاسی انتہا پسندی سے بچا سکیں گے جس کا آج ہم مقابلہ کر رہے ہیں۔انہوں کہا کہ پاکستان میں سیاسی انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جارہا ہے، اسی طرح بھارت، یورپ اور امریکا میں بھی سیاسی انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جارہا ہے، اگر پاکستان کے سیاسی انتہا پسندوں کے نشانے پر اسلام آباد اور اسلام آباد کا گھیراؤ ہے تو امریکا میں بھی انتہا پسندوں کے نشانے پر واشنگٹن ڈی سی اور جمہوری نظام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نئی نسل سے امید کرتے ہیں کہ وہ سچ کا ساتھ دیں گے، وہ ترقی اور جمہوریت کا ساتھ دیں گے اور انتشار، انتہا پسندی اور ایک آدمی کی انا کو رد کریں گے۔

بلاول بھٹو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کہا ہے کہ آئین میں محفوظ زندگی کا تصور ہے، ایسی زندگی جو ماحولیاتی خطرات سمیت ہر طرح کے خطروں سے محفوظ ہو۔عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز موسمیاتی تبدیلیاں اور پاکستان میں سیلاب کے موضوع پر مختلف سیشن ہوئے۔کانفرنس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ عدالتوں کے کئی فیصلے اچھی سی پینٹنگ کے سوا کچھ بھی نہیں،ہمیں ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں اسکولوں کے نصاب، پاکستان اور بھارت سے متعلق سیشن میں بھارتی مصنفہ ریٹا منچندہ نے بھارت میں تعلیم سے متعلق اظہارِ خیال کیا۔ ریٹا منچندہ نے بھارتی نظامِ تعلیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کرناٹک کے ایک اسکول میں حجاب کا مسئلہ سامنے آیا، طالبہ کو اسکول آنے سے روک دیا گیا بلکہ امتحان میں بھی نہیں بیٹھنے دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی طالبہ کو امتحان میں روکنے کا معاملہ عدالت میں بھی گیا، تعلیم سے متعلق پالیسی بہت اہمیت رکھتی ہے، پاکستان اور بھارت کے وجود میں آنے کے بعد تعلیم کے چیلنجز سامنے آئے ہیں۔سینئر قانون سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ ملکی ادارے عوام میں اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں، وزیر اعظم کی کرسی میوزیکل چیئرمین بن چکی ہے، میوزیکل چیئر بننے سے ملک میں مارشل لا ء آتا ہے۔عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عدلیہ کے سوموٹو سے بھی حالات خراب ہوتے ہیں۔عدلیہ، پارلیمنٹ اور مقننہ کو اپنے دائرہ کار میں رہنا ہوگا، ملک ہمیشہ آئین کے تحت ہی چلتے ہیں، ملک میں پارلیمانی نظام کی تاریخ اتنی اچھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آتے رہے جاتے رہے، مارشل لا ء کی راہ ہموار ہوئی، اتحاد بنتے رہے ٹوٹتے رہے چھانگا مانگا اور مری کی سیاست ہوتی رہی۔علی ظفر نے کہا کہ وقت کے ساتھ عدلیہ کا ادارہ زیادہ مضبوط ہوا ہے، مارشل لا ء کو نظریہ ضرورت کے تحت قبول کیا گیا، ہمیں ججز اور عدلیہ پر تنقید کے بجائے ان کے فیصلوں پر تنقید کرنی چاہیے۔مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر و سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئین پاکستان عوام کے حقوق اور تنازعات کے حل کے لیے ہے، ملک اس وقت بے مثال بحران کا شکار ہے،ریاست کے ہر شعبے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،جب تک نیب کا قانون موجود ہے پاکستان فعال نہیں ہو سکتا، نیب کے قوانین کو ختم کر دینا چاہیے،احتساب کے لیے اور بھی ادارے موجود ہیں۔ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئین شہریوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔آج ملک کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ ملک کی بہتری کے لئے ہم سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ملک میں استحکام کے لئے تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو سیکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں یہ صورتحال بھی رہی کی نیب قوانین کی وجہ سے سب کچھ مفلوج ہو گیا۔ جب تک نیب کا قانون موجود ہے پاکستان فعال نہیں ہو سکتا۔ نیب کے قوانین کو ختم کر دینا چاہیے۔ملک میں چند افراد کے پاس لاکھوں ایکٹر جبکہ لاکھوں کے پاس ایک مرلہ زمین بھی نہیں،زرعی زمین حاصل کرنے پر پابندی لگائی جائے،پہلے لاہور کو آباد کریں، روڈا ناقابل عمل منصوبہ ہے۔عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں زمین کے حصول اور پولیٹکل اکانومی کے سیشن میں ماہرین نے اظہار خیال کیا۔لاہور میں ہونے والی کانفرنس میں ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ ملک میں چند افراد کے پاس لاکھوں ایکٹر جبکہ لاکھوں کے پاس ایک مرلہ زمین بھی نہیں ہے۔مہر عبدالستا نے کہا کہ مزارعین 22 سال سے تحریک چلا رہے ہیں، وہ استحصالی نظام کے خلاف ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 4 سال قید کاٹ چکا ہوں، حکومت خود ہی زمین ہتھیاتی ہے، پوچھتا ہوں کیا اپنا حق مانگنا جرم ہے؟۔میاں محمود احمد نے کہا کہ لینڈ ایکویزیشن ایکٹ میں تبدیلی کی جائے، زرعی زمین حاصل کرنے پر پابندی لگائی جائے۔مزدور رہنما فاروق طارق نے کہا کہ پہلے لاہور کو آباد کریں، روڈا ناقابل عمل منصوبہ ہے۔عبیرہ اشفاق نے کہا کہ جبری بے دخلی سے خواتین متاثر ہوتی ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کانفرنس

مزید :

صفحہ اول -