اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت ....داستان عرفان الحق صائم کی

اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت ....داستان عرفان الحق صائم کی
اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت ....داستان عرفان الحق صائم کی

  

تحریر : آغا نیاز احمد مگسی

 آج ہم آپ کو داستان سنائیں گے اردوکے معروف شاعر عرفان الحق صائم کی جو  14 ستمبر 1951 ءکو کوئٹہ میں قاضی مظفر الحق ظفر کے ہاں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم بھی کوئٹہ ہی میں حاصل کی، میٹرک 1968ء میں کیا۔ شاعری آپ کو باپ دادا سے وراثت میں ملی آپ نے آغا صادق حسیں نقوی سے اصلاح لی پھر ان کی وفات کے بعد اخگر سہارنپوری سےبھی اصلاح لی۔

شناختی کارڈ کے محکمے سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر ریٹائرمنٹ لی پھر صحافت کے میدان کو چنا۔  روزنامہ"

زمانہ" کوئٹہ کو جوائن کیا ،اس کے بعد روزنامہ" جنگ" کوئٹہ  میں رہے، زندگی کے آخری ایام میں" جنگ میگزین" کے انچارج تھے آپ کانعتیہ کلام" دریائے نور "2011ء میں منظر عام پر آیا اسکے بعد دوسرا شعری مجموعہ جو غزلیہ شعری مجموعہ ہے "سیل جنوں" 2015ء میں شائع ہوا۔ آپ کی پہلی شادی 1971ء میں ہوئی۔ پہلی بیوی سے آپ کے4 بیٹے اور 1 بیٹی ہے، اہلیہ کی وفات کے بعد  دوسری شادی ممتاز شاعرہ تسنیم صنم صاحبہ سے کی۔

آپ کو استاد الاساتذہ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا، پختہ گو شاعر تھے۔ حمد،نعت،غزل،نظم،رباعی،گیت، ہائیکو جیسی اصناف سخن پر مکمل عبور حاصل ہونے کیساتھ  ساتھ قطعہ تاریخ میں بھی خصوصی مہارت حاصل تھی۔  عرفان الحق صائم کا انتقال24 اکتوبر 2017ء میں ہوا۔

یہاں ان کی شاعری میں سے ایک غزل پیش خدمت ہے 

دیوار میں امکان کا اک در کوئی کھولے

اوجھل ہے جو آنکھوں سے وہ منظر کوئی کھولے

اب شہر کے اندر بھی تو ہر روز ہے ہجرت

کیا ایسے میں باندھا ہوا بستر کوئی کھولے

رقصاں ہو تو پھر نیند سے اٹھنے نہیں دیتی

اس بادِ صبا کی ذرا جھانجھر کوئی کھولے

جب ان سنی ہر بات کے ہونے کا یقیں ہو

کیوں اپنی شکایات کا دفتر کوئی کھولے

آسیب کے آجانے سے کچھ پہلے عزیزو

ممکن ہو تو اس دل کا ہر اک گھر کوئی کھولے

اب شہر کے ہر شخص کی خواہش ہے یہ صائمؔ

جو باندھ کے رکھا ہے سمندر کوئی کھولے

مزید :

ادب وثقافت -