کتنے لوگ لاپتہ ہیں؟

کتنے لوگ لاپتہ ہیں؟
کتنے لوگ لاپتہ ہیں؟

  

اقوام متحدہ کا 9ارکان پر مشتمل ورکنگ گروپ 16ستمبر کوکوئٹہ پہنچا۔اس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں۔2006ءکے بعد سے صوبے کی سیاسی صورت حال کشیدہ ہوگئی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں نواب محمد اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد سے ایسا نقشہ بن گیا ہے۔ابتداء پنجابی آباد کاروں کی قتل و غارت سے ہوئی، پھر دیکھتے ہی دیکھتے امن و امان بگڑتا چلا گیا اور رُخ کسی اور طرف مڑ گیا۔پنجابی آباد کاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد رُخ بلوچوں کی طرف مڑ گیا۔نوجوان، سیاسی ورکر، پروفیسر ،صحافی اغواءہونا شروع ہوئے اور ان کی لاشیں ویرانوں سے ملنا شروع ہوئیں۔جتنے بھی لوگ اغواءہوئے ،بعد میں قتل کردیئے گئے اور لاشیں پھینکنے کا سلسلہ شروع ہوگیا،جو ابھی تک جاری ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام لوگ ٹارگٹ کلر ہیں۔قوم پرست پارٹیوں اور مِسنگ پرسنز کی تنظیم کا الزام ہے کہ اس اغواءمیں حکومت کی بعض ایجنسیاں ملوث ہیں، یہ لوگ ایف سی پر بھی الزام لگاتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی ایف سی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔اس حوالے سے وہ بلوچ جو بیرون ملک مقیم ہیں، انہوں نے ٹارگٹ کلنگ کے خلاف پاکستان کے خلاف مظاہرے کئے ہیں....پاکستان کے مختلف شہروں میں مِسنگ پرسنز کی تنظیم نے مظاہرے اور احتجاج کیا ہے۔اس حوالے سے جماعت اسلامی بلوچستان اور پاکستان نے باقاعدہ ایک دن منایا اور انہیں کراچی میں دعوت دی گئی،سیمینار منعقد کئے گئے اور ہر جگہ بلوچوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔بلوچ قوم پرست پارٹیاں بھی احتجاج کرتی رہیں۔ان کا موقف تھا کہ پاکستان اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتا ۔کوئی اور ملک مداخلت کرے اور ضمانت دے ۔

اب اقوام متحدہ نے9 رکنی ورکنگ گروپ پاکستان بھیجا ہے۔کراچی پہنچنے کے بعد یہ وفد کوئٹہ پہنچا۔جس روز وفد پہنچا، اس روز مسنگ پرسنز کی تنظیم کے وفد کو خوش آمدید کہا۔ ہائی دے اور سیرینا ہوٹل کی سڑک کے بیچ خواتین اور مردوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور سڑک پر دھرنا دیا۔یہ دھرنا بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی طرف سے منظم کیا گیا تھا، جمہوری وطن پارٹی کا وفد طلال بگٹی کی سربراہی میں ملا۔انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے سربراہ اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ظہور احمد شاہوانی نے وفد سے ملاقات کی اور انہیں 130 لاپتہ افراد کی لسٹ فراہم کی۔ملاقات کے بعد ظہور احمد شاہوانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس لسٹ کو وہ اپنی رپورٹ کا حصہ بنائیں گے اور کہا کہ جتنی جلد ممکن ہو،لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرلیا جائے۔ ہم نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کررکھی ہے ، دیگر پارٹیوں اور تنظیموں نے بھی اپنی اپنی فہرستیں فراہم کی ہیں۔ہر ایک کا اپنا موقف ہے۔ ہم اس کی مخالفت نہیں کرتے ۔ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے، اس لئے ہم مکمل اعدادوشمار فراہم نہیں کرسکتے۔

نوابزادہ طلال بگٹی نے وفد سے ملاقات کی اور انہیں اپنی پارٹی کی طرف سے لسٹ فراہم کی۔ملاقات کے بعد طلال بگٹی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 13ہزار بگٹی لاپتہ ہیں۔ مَیں نے 650افراد کی لسٹ فراہم کی ہے اور اس کا مکمل ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہے اور کہا کہ میری ملاقات اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ سے اطمینان بخش نہیں تھی۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے جو ہمارے خدشات تھے،انہیں آگاہ کردیا ہے اور کہا کہ اقوام متحدہ کے جہاں مفادات ہوتے ہیں، یہ وہاں پہنچ جاتے ہیں اور جو حالات پاکستان کے ہیں،اقوام متحدہ کسی وقت بھی اپنی فوج اتار سکتی ہے۔ میری تجویز ہے کہ یہ ورکنگ گروپ مکمل اعدادوشمار کے ساتھ اپنی مکمل رپورٹ شائع کرے۔وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے لاپتہ افرادکی جو لسٹ فراہم کی گئی ہے۔وہ 14ہزار افراد کی ہے اور ان 450افراد کی لسٹ بھی دی گئی ،جن کو قتل کے بعد مختلف علاقوں میں پھینکا گیا،یہ سب کی سب مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں تھیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائم مقام صدر ڈاکٹر جہاں زیب نے وفد سے ملاقات کی اور انہیں 52افراد کی لسٹ فراہم کی۔یہ سب کے سب بی این پی کے پارٹی ورکروں اور لیڈروں کی تھی۔ڈاکٹر جہاں زیب جمالدینی کے ہمراہ آغا حسن ایڈووکیٹ مرکزی سیکرٹری اطلاعات، نوشکی سے پارٹی کے صدر خورشید جمالدینی تھے۔ پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے لیڈر رﺅف لالہ نے ملاقات کی اور پارٹی موقف بیان کیا۔اس کے علاوہ 4جماعتی بلوچ اتحاد نے ملاقات کی۔اس وفد میں آغا اشرف دلسوز اور بگرام بلوچ بھی شامل تھے۔ انہوں نے تحریری طور پر اپنا موقف پیش کیا۔بلوچ مسنگ پرسن کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے وفد سے ملاقات کی اور بتایا کہ ہم نے 2300 لاپتہ افراد کی لسٹ فراہم کردی ہے ۔یہ افرادسیکیورٹی فورسز اور مختلف ایجنسیوں نے اغوا کئے ہیں، جبکہ 450افراد ایسے ہیں، جو مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں ملے، ان کی لسٹ بھی فراہم کردی ہے۔نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ وفد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اقوام متحدہ کا 25رکنی وفد جلد بلوچستان کا دورہ کرے گا اور کہا کہ وفد نے بتایا کہ ہم فی الحال لاپتہ افراد کے حوالے سے اعدادوشمار جمع کررہے ہیں۔

اس کے بعد اقوام متحدہ کے وفد نے سول سیکرٹریٹ میں مہر یعقوب شیخ چیف سیکرٹری بلوچستان اور سیکرٹری داخلہ سے ملاقات کی اور لاپتہ افراد کے حوالے سے اعدادوشمار پیش کئے۔وفد کو بتایاگیا کہ لاپتہ افراد کے کمیشن کے حوالے سے 161کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں اور کچھ کیسز نامکمل ہونے کی وجہ سے خارج کردیئے گئے ہیں۔ان میں سے 53افراد کو بازیاب کرایا جا چکا ہے، 23افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ اس وقت 29افراد کے کیسزسپریم کورٹ اور کمیشن میں زیر سماعت ہیں اور وفد کو بتایا کہ حکومت بلوچستان کے پاس اس وقت 94افراد کی لسٹ موجود ہے جو لاپتہ ہیں۔ اب لاپتہ افراد کے حوالے سے کمی آئی ہے۔ ہزارہ قبیلے کے معززین نے ملاقات کی اور وفد کو بتایا کہ اب تک 700ہزارہ شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔تعلیمی اداروں میں ہمارے نوجوان طلبہ کے لئے بہت زیادہ مشکلات ہیں، کاروبار کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان مارے جانے والوں میں سیاسی لیڈر، طلبہ، مزدور اور خواتین شامل ہیں۔یہ گزشتہ 13سالوں میں شمار ہوتے ہیں۔ہزارہ قبیلہ کے وفد میں بوستان علی کشتمند، محمد حسین ہزارہ اورہزار بیگ شامل تھے۔

اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کمیشن کے بارے میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا موقف بالکل درست تھا۔انہوں نے وفد سے ملاقات نہیںکی اور کہا کہ لوگوں کا لاپتہ ہونا ایک حقیقت ہے۔اقوام متحدہ کا وفد آنے سے ملک کی بدنامی ہوگی۔انسانی حقوق والے جب آئیں گے تو یہ مسئلہ عالمی مسئلہ بن جائے گا۔اس سے قبل تمام لاپتہ افرادبازیاب کئے جائیں، لیکن حکومت نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور وفد پاکستان آ گیا، جبکہ 20ستمبر کو واپس چلا گیا۔پاکستان کے وزیر دفاع سید نوید قمر کہتے ہیں کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ اہم ہے ،جب ہم اسے حل نہیں کرسکے تو باہر والے اسے کیسے حل کر سکتے ہیں؟پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اپنے بیان میں فرماتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے وفد کے پاس تفتیش کا اختیار نہیں ہے۔اقوام متحدہ کا وفد ہماری مرضی سے آیا ہے۔مشن کا دورہ معمول کی کارروائی ہے، ایسے مشن دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ  کرتے رہتے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی صدر و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری نے اپنے بیان میں کہا کہ اس وفد کے دورے سے پاکستان کو خفت اٹھانا پڑے گی۔عوامی حق حاکمیت تسلیم نہ کرنے سے جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ خطے میں آہستہ آہستہ عالمی مداخلت کی راہ ہموار ہورہی ہے۔مقتدر قوتوںکی بداعمالیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان تنہائی کا شکار ہوگیا ہے۔ اندرونی خلفشار بہت سے خدشات کو جنم دے رہا ہے۔بلوچستان کو زیر کرنے کی پالیسی کا بھیانک نتیجہ نکلے گا۔ہمیں اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں۔قارئین محترم! حکومت نے بلوچستان میں بے شمار مسائل پیدا کررکھے ہیں اور پرویز مشرف کی پالیسی پر عمل پیرا پیپلزپارٹی کی حکومت نے اقوام متحدہ کو موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے۔  ٭

مزید :

کالم -