”آغاز تو اچھا ہے“

”آغاز تو اچھا ہے“
”آغاز تو اچھا ہے“

  

تمام تر خدشات کے باوجود پاکستان نے ایک سخت مقابلے کے بعد نیوزی لینڈ کو شکست دی ۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم ایک سو اٹھتر(178) کے تعاقب میں نوکھلاڑی کھو بیٹھی اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ پر اعتماد نیوزی لینڈ کی بیٹنگ پر پاکستان کے باﺅلرز کتنے موثر رہے ۔ اس میچ کو جتوانے میں ناصر جمشید اور حفیظ کا کردار سب سے اہم تھا جبکہ سعید اجمل کی چار وکٹوں نے رہی سہی کثر پوری کردی۔ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کے فیصلے سے لے کر آخری اوور تک سب کچھ پاکستان کے حق میں گیا پاکستان کی یہ ابتدائی کامیابی ہے مکمل کامیابی سپر ایٹ میں مدمقابل ٹاپ ٹیموں کے خلاف عمدہ پرفارمنس پر موقوف ہوگی ۔ اس میچ میں کامیابی کے بعد بنگلہ دیش سے اگلا میچ ہے او رابھی بھی پاکستان کی سپر ایٹ میں شمولیت بنگلہ دیش کے خلاف پرفارمنس پرانحصار کرتی ہے ۔ بنگلہ دیش ابھی ٹورنامنٹ سے باہر نہیں ہوا اور اسی طرح پاکستان کے ساتھ نیوزی لینڈ بھی ابھی اگلے مرحلے کے لیے کنفرم نہیں ہے۔ایک عرصے کے بعد پاکستان کی اوپننگ اور مڈل آرڈر نے وہ کھیل دکھایا جو کسی مضبوط ٹیم کا خاصہ ہوتا ہے۔ جو لوگ دنیا بھر میں ناصر جمشید کو دیکھ رہے تھے ضرور حیران ہورہے ہوں گے کہ یہ نوجوان ٹیم کا مستقل حصہ کیوں نہیں رہا۔ پاکستان کامعقول ٹارگٹ حفیظ اور خاص طور پر ناصر جمشید کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت ممکن ہوا۔ آفریدی کو پہلی مرتبہ وہاں پر بھیجا گیا جہاں انہیں بھیجا جانا چاہیے تھا۔اس طرح بیٹنگ کا توازن برقرار رہا۔ اننگز کے اختتامی اوورز کے دوران جہاں صرف چوکوں چھکوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔آفریدی اس طرح کی صورتحال کے بادشاہ ہیں۔ گیندوں اور رنز کے تناسب سے کسی بھی پاکستانی کی کارکردگی مایوس کن نہیں تھی۔ بھارت کے خلاف وارم اپ میچ کے ہیرو کامران اکمل صورتحال اور اننگ کو بام عروج تک پہنچانے کی کوشش میں ناکام ہوئے لیکن عمر اکمل نے پندرہ گیندوں پر تئیس رنز بنا کر پاکستان کو بڑا اسکور کرنے میں مدد دی پاکستان کی اننگ کے معمار ناصر جمشید تھے۔عمران نذیر کے سولہ گیندوں میں پچیس رنز نے پاکستان کو اوپننگ سٹینڈ کے سنتالیس رنز دیے ۔ پاکستان کی اننگ کے دوران نیوزی لینڈ کی فیلڈنگ کا معیار پست تھا ۔ آسان کیچ ڈراپ ہوئے۔ نیوزی لینڈ نے آٹھ باﺅلرز آزمائے۔ راس ٹیلر کو جلد اندازہ ہوگیا تھا کہ بنگلہ دیش کے خلاف شاندار جیت کچھ اور مطلب رکھتی ہے ۔ پاکستانی ماہرفن اور تجربہ کار ہیں اور جو دن ان سے منسوب ہوجائے چھا جانے کی خاصیت رکھتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کا آغاز بھی بہت شاندار تھا ۔ نکل اور ولیم نے چھ اوورز اور چار گےندوں میں تریپن(53)رنز کا سٹینڈ دیاجب آفریدی نے نکل کو بولڈ کیا ۔ ولیم سن ناصر جمشید کی تھرو پر رن آﺅٹ ہوئے اور یوں چون(54) رنز پر نیوزی لینڈ کے دوکھلاڑی آﺅٹ ہوگئے ۔ پاکستان نے نیوزی لینڈ کی بیٹنگ پر اپنی گرفپ مضبوط رکھی یہ سلسلہ اننگ کے اختتام تک جاری رہا۔ پاکستان کی فیڈنگ بھی آﺅٹ کلاس نہیں تھی رنز کرنے کے نقطہ نگاہ سے نیوزی لینڈ کے تمام ٹاپ آرڈر بیٹسمین میں کامیاب ہوئے اختتامی اوورز میں پاکستان کی باﺅلنگ پر جوباﺅ آیا اس کی واحد وجہ اور پس منظر ابتداءمیں کھلاڑیوں اور خاص طور پر باﺅلز میں کوچنگ کا فقدان ہے۔ نیوزی لینڈ نے اجھی فائٹ کی مگر وہ ایک بہترین ٹیم پاکستان سے ہار گئی ۔پاکستان کو اندازہ ہونا چاہیے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کس طرح جیتا گیا اس کے مثبت اور منفی پہلو سامنے آئے ہیں ابھی سری لنکا ،بھارت، آسٹریلیا ،جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے علاوہ ویسٹ انڈیز کی ٹیموں سے ممکنہ طور پر پاکستان کو کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے۔ ہمارے کرکٹرز ملک سے باہر کرکٹ کھیل رہے ہیں ۔ انہیں پریشر میں کھیلنے کی عادت ہونی چاہےے۔ اس صورتحال کے جومثبت پہلو ہیں ان سے استفادہ کیا جائے ٹی ٹوینٹی کرکٹ غیر متوقع طور آرگنائز اور مقبول ہورہی ہے اور اس قسم کے کھیل میں بھی مہارت ،ذہانت اور منصوبہ بندی کا عمل دخل ہے۔ جنوبی افریقہ میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ٹی ٹوینٹی کرکٹ ہوتی ہے وہ اس کے بانی بھی ہیں۔ جبکہ پاکستان نے گزشتہ تمام مقابلوں میں شاندار پرفارمنس دی ہے ۔امید کرنی چاہیے کہ اس باربھی ٹیم توقعات پر پوری اترے گی۔ ”آغاز تو اچھا ہے“

مزید :

کالم -