خیبرپختونخوا کے عوام نے دھرنا سیاست مسترد کر دی

خیبرپختونخوا کے عوام نے دھرنا سیاست مسترد کر دی
خیبرپختونخوا کے عوام نے دھرنا سیاست مسترد کر دی
کیپشن:   1 سورس:   

  

پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد میں دھرنے کے بعد مسلم لیگ(ن)خیبرپختونخوا نے بھی طویل عرصے بعد اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں اور طویل عرصے بعد تمام صوبائی رہنماءاکٹھے ہوئے۔پہلے صوبائی رہنماءعلیحدہ علیحدہ پروگرام کرتے اس سے قبل امیر مقام اور پیر صابر شاہ کے پروگرام اکثر علیحدہ ہوتے، لیکن صوبائی صدر پیر صابر شاہ نے ایک دفعہ پھرمسلم لیگیوں کو ایک جگہ پر جمع کرنا شروع کر دیا ہے اور مسلم لیگی رہنماﺅں نے بڑی زور دار تقاریر کیں ۔پہلی بار کنونشن میں بہت سے کارکنوں کو اکٹھاکیاگیا تھا ۔مسلم لیگ کے صوبائی صدر نے اس موقع پر بتایا کہ جمہوریت کے خاتمے کے لئے تھرڈ امپائر کی انگلی اٹھانے کا دور گزر گیا ہے اب حکومت اور اپوزیشن جمہوریت کی بقاءکے لئے ایک ہو چکے ہیں۔ مسلم لیگی رہنماﺅں نے الزام لگایا کہ جب بھی پاکستان ترقی کرنے لگتا ہے، تو پاکستان کے مخالفین آوازیں اٹھانے کے لئے اپنی سازشیں شروع کر دیتے ہیں بلوچستان میں پاکستان کا جھنڈا تک نہیں لہرایا جاتا تھا، لیکن اب وہاں پر بھی پاکستان زندہ باد کے نعر ے لگ رہے ہیں، کیونکہ مسلم لیگ نے حکومت میں آتے ہی وہاں پر قوم پرستوں کو اپنے ساتھ ملا کر ان کے گلے شکوے دور کرنے کی کوششیں شروع کر دیں ۔

عمران خان نئے پاکستان کی بات کرتے ہیں، لیکن انہوں نے نئے پختونخوا کا جو حشر کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ وزیراعلیٰ دھرنے چھوڑ کر واپس آئیں اور صوبے پر توجہ دیں ۔مفت تعلیم کی سہولتیں کہاں پر ہیں اور جو بڑے بڑے دعوے کئے جا رہے ہیں وہ کدھر ہیں۔ صوبے میں امن و امان کی حالت خراب ہو رہی ہے اور اب پشاور میں اغواءبرائے تاوان ایک کاروبار بن چکا ہے ۔مسلم لیگ (ن) کے اس کنونشن کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس کنونشن میں مسلم لیگ کی صوبائی قیادت پہلی بار اکٹھی ہو گئی۔ صوبائی جنرل سیکرٹری رحمت سلام خٹک اور دیگر رہنماﺅں نے اس کنونشن کو کامیاب بنانے کی بہت کوشش کی ۔اس کنونشن کا بنیادی مقصد مسلم لیگ (ن)کے کارکنوں کو ایک بار پھر سیاسی طور پر فعال کرنا تھا، جو گزشتہ کئی سال سے اس لئے غیر فعال ہو چکے ہیں۔

 وزیراعظم میاں نواز شریف خیبرپختونخوا مسلم لیگ (ن)کو زیادہ توجہ نہیں دے پارہے ہیں، حالانکہ مسلم لیگ (ن)خیبرپختونخوا نے ان کی جلا وطنی کے بعد دیگر صوبوں کی نسبت بہت فعال کردار ادا کیا تھا اور اس فعال کردار میں ان کے کئی رہنماءجیل بھی چلے گئے تاہم مسلم لیگ(ن)کے سربراہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو خیبرپختونخوا کی طرف زیادہ توجہ دینا چاہئے، کیونکہ اگر خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ(ن)کے کارکنوں کو فعال کیا جاتا ہے اور وہ ایک فعال کردار ادا کرتے ہیں تو مسلم لیگ(ن)تحریک انصاف کے لئے یہاں پر مشکلات پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ مسلم لیگ(ن)کے پاس پیر صابر شاہ جیسی شخصیت ہے، جبکہ گورنر سردار مہتاب اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا رہ چکے ہیں اس لئے اگر مسلم لیگ(ن)کو متحد کیا جاتا ہے تو نہ صرف وہ فعال ہو سکتے ہیں، بلکہ اس دھرنے کے دوران وہ مسلم لیگ (ن)خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے، لیکن توجہ نہ دینے کی وجہ سے مسلم لیگ(ن)وہ کردار ادا نہ کر سکی، جو اسے دھرنے کے خلاف ادا کرنا چاہئے تھا، لیکن اب آہستہ آہستہ اس کو منظم کیا جارہا ہے ۔ میاں نواز شریف بھی اب چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو فوری طور پر فعال کیا جائے۔

اس حوالے سے خیبرپختونخوا کے مسلم لیگ(ن)کو عید کے بعد بڑے پیمانے پر منظم کرنے کی کوششوں کا آغاز کرنے کا امکان ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کوششوں سے مسلم لیگ اگر دوبارہ فعال ہو گئی تو یہ نہ صرف میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی کے لئے اچھا ہے،بلکہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ(ن)کو دوسری پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرنے میں بھی آسانی رہے گی۔مسلم لیگ(ن)کی تنظیم نو بھی ضروری ہے اور اس حوالے سے پیر صابر شاہ کو طویل تجربہ حاصل ہے، لیکن مسلم لیگ(ن)کی تنظیم نو کے لئے پارٹی کے اندر نئے لوگوں کو موقع دینا پڑے گا ۔مسلم لیگ(ن)کو فاٹا سے قومی اسمبلی کی ایک سیٹ بھی ملی ہے، لیکن فاٹا کو آج بھی توجہ نہیں دی جا رہی ہے اور مسلم لیگ(ن)کے لئے موقع تھا کہ وہ آئی ڈی پیز کی مدد کر کے اپنے لئے راہ ہموار کرتی، لیکن ابھی تک گورنر نے نہ فاٹا کے لئے کسی مشیر کا تقررکیا ہے اور نہ ہی کوئی سپیشل ڈیسک بنایا ہے جہاں سے مسلم لیگ(ن)فاٹا میں اپنے لوگو ں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کام کر سکے اور اگر گورنر اس حوالے سے فاٹا کی قیادت کو اعتماد میں لے کر ایک اچھے مشیر کی تعیناتی کر دیتے ہیں، تو مسلم لیگ(ن)فاٹا کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ وہاں کے عوامی مسائل پر بھی گورنر کو رپورٹ کریں تو اس کے اچھے نتائج سامنے آ ئیں گے ۔

مزید :

کالم -