داعش سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے؟

داعش سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے؟
داعش سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے؟

  



دولت اسلامیہ فی العراق و شام (داعش) کا ابھرنا دنیائے اسلام کیلئے کوئی نئی بات نہیں مگر دوسروں کے لئے حیرانگی کا باعث ضرورہے۔اس تنظیم کے وجود میں آنے کا سبب وہ مظالم، نا انصافیاں، نفرتیں اور مسائل ہیں جو ایک عرصے سے ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کے ساتھ روا رکھے جارہے تھے۔ اب وہی محروم وپسے ہوئے لوگ اپنے انداز سے ان ناانصافیوں کا انتقام لینے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔اس قسم کا پہلا واقعہ 37ویں ہجری (37 AH) میں خوارج کی شکل میں رونما ہو،ا جنہوں نے نہروان کے مقام پر خلیفہ اسلام حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خلاف جنگ لڑی تھی۔ ان کے غصے کی وجہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حضرت عائشہ ؓ اور حضرت معاویہؓ کے خلاف لڑی جانے والی جنگ جمل اور جنگ صفین تھی جس میںعالم اسلام کی یہ مقتدر ترین اور قابل احترام ہستیاں ایک دوسرے کے مدمقابل تھیں۔اس بات سے خارجی ان سے متنفر ہو گئے تھے۔

اسی طرح نفرت کی جو حالیہ لکیر کھینچی گئی ہے اس کے پس پردہ امریکہ کی جانب سے افغانستان‘عراق‘لبنان اور غزہ کی تباہی کا غم و غصہ ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان،پاکستان، شام، عراق اور فلسطین میں موجودسنی شیعہ تفریق کودانستہ طور پر ابھارکر اندرونی تصادم کوہوا دینا اور سیاسی اسلام کو رد کرتے ہوئے روشن خیالی کو پروان چڑھانا جیسے عوامل کارفرما ہیں، حالانکہ مسلمانوں کا پختہ یقین ہے کہ :

’ ’انسانی بقاءکا دارومداراللہ تعالی کے بنائے ہوئے نظام سے ہی ممکن ہے، جبکہ روشن خیالی کا پرچار کرنے والے انسان کوخودمختار سمجھتے ہوئے اسے نعوذ باللہ اللہ تعالی کی ذات پر ترجیح دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالی کی ذات پرانسان کو فوقیت حاصل ہے۔

الجیریا اور مصر میں حکومت کی تبدیلی سیاسی اسلام کے خلاف لائی گئی اور اکثریت پر اقلیت کی حکمرانی کو مسلط کرنے کے لئے شیعہ اور سنی کو باہم دست و گریبان کیا گیا ہے، جس کا نظارہ آج افغانستان‘ عراق اور شام میں کیا جا سکتا ہے۔ شیعہ اور سنی مسالک کا ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونا مسلمانوں کے لئے صدمے کا باعث بنا ہے۔حد تو یہ ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں عرصہ دراز سے شیعہ اور سنی باہم اخوت و محبت کے رشتوں میں بندھے چلے آرہے ہیں،یہاں بھی قومی یکجہتی کو توڑنے کے لئے ہر قسم کے مذموم حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ اوائل اسلام میں ظاہر ہونے والے خارجیوں نے اپنی قابل احترام ہستیوں سے بددل ہو کرانتقامی کارروائیاں شروع کی تھیں ‘اسی طرح داعش کی انتقامی کارروائیوں کی تین اہم وجوہات ہیں:

٭.... شیعہ سنی تصادم اوران کے سربراہوں کا اسلام کے دشمنوں کے ساتھ گٹھ جوڑ،حکمرانوں کے خلاف نفرت کا باعث بناہے۔شیعہ اور سنی کے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ءہونے سے جنگ جمل اور صفین کی کہانی دہرائی جارہی ہے اور ہر وہ ملک جہاں یہ فتنہ پھیلایا گیا ہے مثلاً شام‘ فلسطین اور پاکستان‘ وہاں داعش جیسی تنظیموں کا وجود میں آناناممکن نہیں ہے۔

٭.... دنیائے اسلام کے خلاف روا رکھے جانے والے مظالم نے شدیدنفرت کو جنم دیا ہے۔اس قسم کے ظلم و بربریت کی صرف ایک مثال ملتی ہے، جو 1945ءمیںڈرزڈن (Dresden)کے مقام پر جرمنوں کے ساتھ رونما ہوا تھا جہاں امریکہ اور اس کے اتحادیو ں کے ظالمانہ ہوائی حملوں میں چند دنوں کے اندر پانچ لاکھ کے قریب جرمنوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔

٭....ایک منصوبے کے تحت نہایت منظم انداز سے اللہ تعالی اور اس کی قدرت کاملہ سے صرف نظر کرنا ‘آج کا فتنہ ہے جوپورے عالم اسلام کے لئے شدید غم و غصے کا باعث ہے©۔ پاکستان میں بھی یہی فتنہ آج پوری توانائی کے ساتھ متحرک ہے۔

اوباما اور اس کے اتحادیوں کا خیال ہے کہ ” عظیم عسکری قوت کے بل بوتے پر وہ داعش کومحدودکر کے تباہ کر دیں گے“ لیکن یہ مسئلہ اب عسکری قوت کی پہنچ سے باہر ہے۔ امریکیوں نے القاعدہ کے خلاف تمام وسائل بروئے کار لا کر اسے تباہ کرنے اوراس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ان کے نیٹ ورک سمیت ختم کردینے کا دعوی کیا تھا لیکن القاعدہ آج بھی زندہ ہے اگرچہ منقسم ہے لیکن کئی ممالک میں پھیلی ہوئی ہے اورپہلے سے زیادہ خطرناک اورشدت کے ساتھ موثر بھی ہے۔اب امریکہ کو یہ مرحلہ درپیش ہے کہ داعش سے کیسے نمٹا جائے؟ماضی میں دنیائے اسلام نے خوارج کو محدود کر کے اپنی صفوں میں دوبارہ شامل کر لیا تھا‘ یہی سوچ ہے جس کاآج کی مہذب دنیا کوبھی اعادہ کرنا چاہئے، لیکن اس حوالے سے قابل غور بات یہ ہے کہ آیا امریکہ اور اس کے اتحادی ٹھنڈے دل و دماغ سے اس نئی حکمت عملی پر عمل پیرا ہو کراس مسئلے کو حل کر سکیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت انہیں دکھائی نہیں دے رہا کہ وہ اس مسئلے سے کیسے نمٹیں،کیونکہ ہر معاملے کوعسکری قوت کے استعمال سے حل کرنے کی ”غلط حکمت عملی“ ان کے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ایک اہم بات یاد رکھنی چاہئے کہ آج کی داعش بہت سے علاقو ں پر قابض ہے، جو مزید پھیل سکتے ہیں جبکہ ماضی کے خارجی مخصوص علاقے تک محدود تھے، لیکن انہیں اچھی خاصی تعداد کی تائید حاصل تھی جو کہ خلیفہ وقت کے لئے مشکلات کھڑی کر سکتے تھے۔موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لئے صدر اوباما اپنے اتحادیوں کے تعاون سے جو منصوبہ بندی مرتب کر رہے ہیںاس کے خطرناک اثرات کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک معروف دانشور کا خیال ہے کہ:

”کیااوباما کے بقول داعش کوتباہ کرنے سے عراق ایک موثر ریاست بن سکے گا؛ کیامصر میں جمہوریت کی بحالی ممکن بنائی جا سکے گی؟ سعودی عرب کو جہادیوں کو فنڈ جاری کرنے سے باز رکھا جا سکے گا: لیبیا کو موجودہ افراتفری سے نکالا جا سکے گا:

 شام کی خانہ جنگی کو روکا جا سکے گا؛ صومالیہ اور یمن میں امن و امان کا قیام ممکن بنایا جا سکے گا؛ افغانستان میں طالبان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے گا؛ پاکستان کو موجودہ سخت ترین صورت حال سے نکالا جاسکے گا؟ یقینÉ ایسا کرنے سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے تصادم کو روکا نہیں جا سکے گا۔الغرض دنیا کی تمام عسکری قوتیں ان مسائل کو حل نہیں کر سکتیں کیونکہ امریکی صدر اور ان کے مشیروں کو معلوم ہی نہیں کہ ایسے نازک مواقع پر کیا تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، کیونکہ فضائی بمباری ان کی انتظامی قوت کا جزو لاینفک بن چکی ہے جو سراسر ”غلط راستہ (Default Option)ہے “۔یقینا اوبامہ کو حقائق کی نزاکت کا ادراک ضرور ہے، کیونکہ وہ خود کہتے ہیں کہ©©: ”یہ بات شرم کا باعث ہے کہ ایک مخالف نظریات کا حامل شخص صدر ہو جس کی کوئی واضح خارجہ پالیسی بھی نہ ہو تو آپ اس سے توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ کوئی احمقانہ اور غلط راستہ اختیار کرے گا“۔

مزید : کالم