”اگر ہمیں اپنی زندگی بچانی ہے تو یہ کام ہر صورت کرنا ہوگا“ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6کے سربراہ نے ایسا اعلان کردیاکہ گورے بھی سوچ میں پڑ گئے

”اگر ہمیں اپنی زندگی بچانی ہے تو یہ کام ہر صورت کرنا ہوگا“ برطانیہ کی خفیہ ...
”اگر ہمیں اپنی زندگی بچانی ہے تو یہ کام ہر صورت کرنا ہوگا“ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6کے سربراہ نے ایسا اعلان کردیاکہ گورے بھی سوچ میں پڑ گئے

  


لندن (نیوز ڈیسک) مغربی ممالک دہشتگردی کے جن کو قابو کرنے کے لئے بہت کوششیں کر رہے ہیں مگر اب ان کے رویے میں عزم سے زیادہ خوف نظر آنے لگا ہے۔ مایوسی اور شکست خوردگی سے بھرپور تازہ ترین بیان برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کے سربراہ ایلکس ینگر نے جاری کیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کا خطرہ عمر بھر ختم ہونے والا نہیں اور اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لئے برطانیہ کو کم از کم 1000 نئے جاسوس بھرتی کرنا ہوں گے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ایلکس ینگر کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے انقلاب اور بین الاقوامی حد بندیوں کے کمزور ہوجانے کے بعد داعش اور اس جیسی تنظیموں کی دہشت گردی کا مسئلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ ایم آئی 6 کے سربراہ کسی عوامی تقریب میں کم ہی نظر آتے ہیں لیکن پہلی بار وہ امریکی دارالحکومت میں منعقد ہونے والی سکیورٹی کانفرنس میں نظر آئے، جہاں ان کا کہنا تھا کہ گہرے سماجی و معاشی اور آبادیاتی عوامل کی وجہ سے دہشتگردی کا خطرہ جلد ختم ہوتا نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے ایڈورڈ سناﺅڈن کی جانب سے امریکی اور برطانوی راز افشاءکئے جانے کے نتیجے میں بھی خطرات بڑھنے کی وارننگ دی۔

’ہمارے ملک کی فوج نے چن چن کر ملک سے مسلمانوں کا صفایا کرنے کی تیاری کرلی ہے اور اب اسرائیل سے۔۔۔‘ بڑے یورپی ملک سے ایسی خبر آگئی کہ جان کر ہر مسلمان کا خون کھول اٹھے

اس موقع پرہی یہ بات سامنے آئی کہ وہ برطانوی جاسوسوں کی تعداد 2500 سے بڑھا کر 3500کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ یہ انکشاف برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی جانب سے کیا گیا، جس کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ اور فیشل ریکگنیشن جیسی ٹیکنالوجی عام دستیاب ہونے کے بعد انٹیلی جنس اہلکاروں کو پہچاننا آسان ہوگیا ہے، لہٰذا برطانوی خفیہ ایجنسی نے اپنے خفیہ اہلکاروں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایلکس ینگر نے داعش کے خلاف جاری آپریشن اور اس تنظیم کا دائرہ کار محدود ہونے پر خوشی کا اظہار کیا البتہ خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ داعش کے محدود ہوجانے سے دہشتگردی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ اس کی جڑ کئی عالمی تنازعات میں ہے، جنہیں حل کرنے کے لئے ایک مدت درکار ہوگی۔

مزید : بین الاقوامی


loading...