ایم کیو ایم لندن اور پاکستان میں لڑائی بٹوارہ یا نورا کشتی

ایم کیو ایم لندن اور پاکستان میں لڑائی بٹوارہ یا نورا کشتی
ایم کیو ایم لندن اور پاکستان میں لڑائی بٹوارہ یا نورا کشتی

  


ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن آہستہ آہستہ ایک د وسرے کے سامنے آرہے ہیں۔ تناؤ بھی نظر آرہا ہے۔بیانات میں بھی سختی نظر آرہی ہے۔ اب یہ دونوں حلیف نہیں حریف نظر آرہے ہیں۔ لیکن پھر بھی ایک فکس میچ اور جعلی ڈرامہ کا خدشہ موجود ہے۔ پھر بھی یہ خطرہ موجود ہے کہ ایم کیو ایم لندن اور پاکستان ایک ہی ہیں۔ صرف وقت کی نزاکت کے تحت الگ الگ نظر آرہے ہیں۔

ایم کیو ایم لندن نے ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے کراچی کے اراکین اسمبلی کو مستعفی ہونے کا کہا ہے۔ ایم کیو ایم لندن کا یہ موقف ہے کہ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر منتخب ہونیو الے یہ ارکین اسمبلی دراصل الطاف حسین کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔ اور اب جبکہ انہوں نے الطاف حسین سے علیحدگی کا اعلان کر دیاہے تو انہیں الطاف حسین کے نام پر حاصل کئے گئے ووٹ واپس کر کے نئے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑنا چاہئے تھا۔ ایم کیو ایم کے اکثریتی اراکین نے ایم کیو ایم لندن کی یہ ہدائت ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اور استعفیٰ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس پاکستان زندہ باد کا مینڈیٹ ہے۔

یہ وہی ارکان اسمبلی ہیں جوا لطاف حسین کے ایک اشارے پر مستعفیٰ ہونے پر تیار رہتے تھے۔ ماضی میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ارکان الطاف حسین کے ایک اشارے پر مستعفی ہوتے رہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم کے ارکان کو ٹکٹ جاری کرنے کے وقت ہی ان سے استعفیٰ لے لیا جاتا ہے۔ لیکن اب ایک سوال یہ ہے کہ وہ استفعے نائن زیرو میں پڑے ہیں۔ یا لندن میں ۔ لگتا ہے نائن زیرو میں بند ہیں۔ ارکان کو یقین ہے کہ ان کے استعفیٰ لندن میں نہیں ہیں؟ اسی لئے وہ مستعفی نہیں ہو رہے۔

ایم کیو ایم پاکستان ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ وہ یقین دلوا سکے کہ اس کا اب ایم کیو ایم لندن اور بانی ایم کیو ایم سے کوئی رابطہ نہیں۔ ایم کیو ایم نے اپنے بانی کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد بھی پیش کی ہے۔ تا کہ عوام اور اداروں کو یقین آسکے کہ ان کا اب بانی اور لندن سے کوئی رابطہ نہیں۔ لندن نے اس قرارداد پر سخت رد عمل بھی ظاہر کیا ہے۔ تا کہ یہ لگ سکے کہ لندن اور بانی اس قرارداد سے ناراض ہیں۔ اور اسی قرارداد کے بعد استعفے بھی مانگے گئے ہیں۔

اس سب کے باوجود دل اور دماغ نہیں مان رہا کہ ایم کیو ایم لندن اور پاکستان الگ الگ ہو چکے ہیں۔ فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں نے عوام اور اداروں کو مطمئن کرنے کے لئے سب کام کیا ہے۔ تمام اخلاقی و قانونی تقاضے پورے کئے ہیں۔ شکوک و شبہات کو ختم کرنے کے لئے وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ لیکن پھر بھی ظالم دل و دماغ نہیں مان رہا۔ اس کی بنیادی وجہ ایم کیو ایم کا ماضی ہے۔ ایم کیوایم کا ماضی ایسے اقدامات سے بھر پور ہے جب ایک قدم اٹھایا جاتا ہے اور کچھ عرصہ بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ سب جعلی تھا۔ اور لوگوں کو بیوقوف بنایا گیا تھا۔

اب اگر یہ مان لیا جائے کہ کہ ایم کیووایم لندن اور پاکستان الگ الگ ہیں تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ساری پارٹی فاروق ستار کے ساتھ آ گئی ہے۔ کیسے ایک دن میں سب نے فاروق ستار کے ہاتھ پر بیعت کر دی ہے۔ فاروق ستار کی کبھی ایسی پوزیشن نہ تھی کہ انہیں الطاف حسین کا جاں نشین سمجھا جاتا۔ لیکن کیا فاروق ستار کے نام قرعہ حالات نے نکالا ہے یااس ضمن میں کوئی پلاننگ کی گئی ہے۔

اگر ایم کیو ایم پاکستان اورلندن کے درمیان محاذ آرائی سچی ہے۔ اگر یہ میچ فکس نہیں ہے۔تو پھر بھی اس میں نرمی کیو ں ہے۔ کیوں نہیں لندن پاکستان میں اپنا الگ سیٹ اپ قائم کرتا۔ اور کیوں نہیں پاکستان لندن میں اپنا الگ سیٹ اپ قائم کرتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان میں سب نے بغیر کسی اشارہ کے فاروق ستار کو جوائن کر لیا۔

اب بھی الطاف حسین کھل کر سامنے نہیں آرہے۔انہوں نے لندن والے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ ان کے آڈیو پیغام کے حوالہ سے بھی شکوک شبہات ہیں۔ اگر ترکی کے صدر اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام سے ترکی کی بغاوت ناکام بنا سکتے ہیں تو الطاف حسین پر لاکھ پاکستان میں میڈیا پر پابندی ہو۔ وہ پھر بھی اپنی آواز اور ویڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔ وہ خاموش کیوں ہیں۔ اگر ان پر پاکستانی میڈیا کے دروازے بند ہیں تو وہ بھارتی میڈیا پر تو آسکتے ہیں۔ اور اس جنگی ماحول میں تہلکہ مچا سکتے ہیں۔ وہ اپنی آوازبین الاقوامی میڈیا سے بھی اپنے حمائتیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن وہ پراسرار طور پر خاموش ہیں۔

اگر یہ مان لیا جائے کہ وہ بہت بیمار ہیں۔ ان کی ذہنی و جسمانی حالت اس قابل نہیں ہے کہ وہ کسی کے سامنے آسکیں۔ اس لئے ان کو کسی کے سامنے نہیں لا یا جارہا۔ شائد اسی لئے ان کے آڈیو پیغام پر بھی ابہام پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اصلی نہیں تھا۔ اگر اس مفروضہ کو مان لیا جائے کہ الطاف حسین ذہنی و جسمانی طور پر ان کی حالت ٹھیک نہیں تو پھر ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان بٹوارے کی لڑائی ہے۔ یہ کنوینر ندیم نصرت اور ڈپٹی کنوینر فاروق ستار کے درمیان بٹوارے کی لڑائی ہے۔ جس میں دونوں کے درمیان ایک معاہدہ ہو گیا ہے کہ ایک فریق نے پاکستان لے لیا ہے اور دوسرا فریق لندن لے لے گا۔

ایم کیو ایم لندن کو بھی لندن میں بہت سے مسائل کا سامناہے۔ جس طرح ایم کیو ایم پاکستان کو پاکستان میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن لندن میں بھی ہت اثاثے اور سیاست ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی بہت سیاست ہے۔ اس طرح فاروق ستار اور ندیم نصرت دونوں کو بہت کچھ مل بھی گیا ہے لیکن دنوں کو کانٹوں کی سیج بھی ملی ہے۔ اس لئے اگر بٹوارہ کو مان لیا جائے تو بھی دل و دماغ اس کو نورا کشتی ہی مان رہا ہے۔

مزید : کالم


loading...