بھارت اور فرانس میں36 رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری کے معاہدے پردستخط

بھارت اور فرانس میں36 رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری کے معاہدے پردستخط

نئی دہلی(اے این این) جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے فرانس سے 36 جدید ترین رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری کے معاہدے پردستخط کردیئے جس کی مالیت 8 ارب 80 کروڑ ڈالر ہے۔ جمعہ کوبھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر اور ان کے فرانسیسی ہم منصب جین ییوس لی ڈرائن نے نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اس معاہدے پر دستخط کیے جس پر گذشتہ کئی سالوں سے مذاکرات جاری تھے۔ اس سے پہلے بدھ کوبھارتی کابینہ کی سیکورٹی کمیٹی نے فرانس کے ساتھ 36جدید ترین لڑاکا طیاروں کے حصول کا معاہد ہ کرنے کی منظوری دی تھی ۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ رافیل طیارے بھارتی فضائیہ کی دفاعی استعداد میں اضافے کا باعث بنیں گے جس کے رشین ایم آئی جی 21 طیاروں کو سیفٹی کی خراب صورتحال کے باعث اڑتے ہوئے تابوت قرار دیا جاتا ہے۔ دنیا میں دفاعی درآمدات کے حوالے سے سرفہرست بھارت2014 میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک 100 ارب ڈالر مالیت کے کئی معاہدوں پر دستخط کرچکا ہے۔ بھارت اپنے پڑوسی ممالک چین اور پاکستان کے مقابلے میں اپنے دفاعی ضروریات میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ فرانس کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے کے سلسلے میں بھی بھارت نے طویل مذاکرات کیے، ان مذاکرات کا آغاز 2012 میں ہوا تھا، جو چارسال تک تعطل کا شکار رہے۔ گذشتہ برس اپنے دورہ فرانس کے دوران نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت یہ طیارے خریدنے جارہی ہے، تاہم اس سلسلے میں اپوزیشن کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پرا۔ بعدازاں فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے رواں برس جنوری میں اپنے دورہ بھارت کے دوران اس معاہدے پر بات چیت کی۔ واضح رہے کہ رافیل طیاروں کا یہ سب سے بڑا آرڈر ہے، اس سے قبل 2015 میں مصر نے فرانس سے 24 طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا جبکہ قطر نے بھی گذشتہ برس اتنے ہی طیارے خریدے تھے۔ رافیل طیارے فی الوقت شام اور عراق میں شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں، جبکہ ان کی مدد سے لیبیا اور افغانستان میں بھی بمباری کی جاچکی ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...