میرٹ کی بالادستی اور اداروں کی بحالی سے مخالفین پریشان ہیں :پرویز خٹک

میرٹ کی بالادستی اور اداروں کی بحالی سے مخالفین پریشان ہیں :پرویز خٹک

نوشہرہ (بیورورپورٹ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ صوبے میں بد عنوانی کے خاتمے ، میرٹ کی بالادستی ، اداروں کی بحالی ، انصاف کی فراہمی اور قومی ترقی و خوشحالی کیلئے صوبائی حکومت کی اصلاحات سے مخالفین پریشان ہیں تبدیلی کے اس کامیاب سفر کی وجہ سے صوبائی حکومت پر تنقید کیلئے مخالفین کے پاس جگہ بہت کم رہ گئی ہے ۔انہوں نے صوبے میں بہترین طرز حکمرانی اور شفاف نظام متعارف کراکے مخالفین کو دکھا دیا ہے کہ حکومت کیسے کی جا تی ہے ۔وہ ضلع نوشہر ہ میں اپنے حلقہ نیابت شہاب خیل زیارت کاکا صاحب اور حکیم آباد میں عمائدین علاقہ اورکھلی کچہری سے خطاب کررہے تھے۔وہ شہاب خیل میں عبداللہ جان عرف بابو کی رہائش گاہ پر استقبالیہ اور حکیم آباد میں ابراہیم عرف جہان زیب اوراس کے پورے خاندان کی تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر خطاب اور اخبار نویسوں سے بات چیت کررہے تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر میاں جمشید الدین کاکاخیل، ضلع ناظم نوشہرہ لیاقت خان خٹک ،ایم این اے ڈاکٹر عمران خٹک، تحصیل نوشہرہ رضا ء اللہ خان نائب ناظم زر عالم خان، احد خٹک، ویلج ناظم اویس خان ، امداد خان بھی موجو دتھے۔پرویز خان خٹک نے کہا کہ پاناما لیکس میں نامزد بدعنوان عناصر کا احتساب ہر صورت میں ہونا چاہیئے اُنہوں نے واضح کیاکہ تحریک انصاف قومی وسائل لوٹنے والوں کو فرار نہیں ہونے دے گی اور اُن کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے ہر حد تک جائے گی وزیراعلیٰ نے کہا کہ 30 ستمبر کی احتساب ریلی ایک نئی تاریخ رقم کرنے جارہی ہے انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ بدعنوانی اور ظلم کے خلاف تحریک انصاف کی احتساب ریلی میں بھر پور شرکت کریں ۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ نے وفاق پر زور دیا کہ وہ چھوٹے صوبوں سے امتیازی سلوک کرنا بند کرے اور ان کے حقوق بھی دے ۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں وفاق کا طرز عمل ناقابل برداشت ہے انہوں نے یقین دلایا کہ صوبے کے حقوق حاصل کرنے کیلئے وہ کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔پرویز خٹک نے کہا کہ بد قسمتی سے ماضی کے بدعنوان حکمرانوں کی اداروں میں بے جاء سیاسی مداخلت اور اربوں روپوں کی کرپشن نے ملک اور صوبے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔اس کا ثبوت ان کے ساتھیوں نے قومی احتساب بیورو کے سامنے بتادیا یہ کس منہ سے ہمارے خلاف باتیں کررہے ہیں 2018 کے عام انتخابات میں بھی عوام کاان کوسیاست سے باہر کردے گی۔ پختون ان کے دھوکے میں نہیں آئیں گے اور اپنے ووٹ کے ذریعے ان کوچلتا کریں گے۔ جو وسائل دُنیا کے پاس ہیں وہ ہمارے پاس بھی موجود ہیں دُنیا نے ترقی اسلئے کی کہ اُنہیں ایماندار قیادت ملی جس نے ایک نظام بنایا اور اداروں کو مضبوط کیا انہوں نے کہاکہ اس قوم کو بھی عمران خان جیسے ایک ایماندار اور مخلص قائد کی ضرورت ہے وہ خود بھی اس نظام سے نا اُمید ہو چکے تھے عمران خان میں اُنہیں اُمید کی کرن نظر آئے اور اُن کا ساتھ دیا انہوں نے عوام پر بھی زور دیا کہ وہ عمران خان کا قومی سلامتی کیلئے ہاتھ بٹائیں اور آگے بڑھیں یہی ایک مخلص لیڈر ہے جو قوم کو پستی سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ بد نام سیاستدان جن کا اپنا دامن کرپشن ، لوٹ مار ، بد دیانتی اور پختون دُشمنی سے داغدار ہے وہ تحریک انصاف کی قیادت اور صوبائی حکومت پر بے بنیا د الزامات لگاتے ہیں جب وہ الزام تراشی کرتے ہیں تو اس حد تک گزر جاتے ہیں کہ الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں جنہوں نے اس ملک اور صوبے کو لوٹا اور اس کی جڑیں کھوکھلی کیں اُنہیں الزامات لگاتے ہوئے شرم تک نہیں آتی ۔ لوڈ شیڈنگ پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں ناروالوڈشیڈنگ کے خاتمے اور بجلی کا پورا حصہ حاصل کرنے کیلئے اُنہوں نے بارہا وفاق سے بات کی ہے ۔مگر اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے کسی بھی وقت واپڈا کے دفاتر بند کرنے والے ہیں کیونکہ وفاق کی چوری چکاری سے صوبے میں امن و امان کے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اجتماعی سوچ پیدا کریں ایسے مطالبات نہ کریں جس سے وسائل کا ضیاع ہو اور صرف ایک دو بندوں کا فائدہ ہو انہوں نے کہاکہ وسائل ساری قوم کا حق ہیں لہٰذاجہاں ضرورت ہو گی اجتماعی سوچ کے تحت عوامی خدمت کیلئے استعمال کریں گے اور کسی سے ناانصافی نہیں ہونے دیں گے ہم ووٹ کیلئے سیاست نہیں کرتے اور نہ ہی قومی وسائل اور اداروں پر سیاست کرنے کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ ہم نظام کی اصلاح پر توجہ دے رہے ہیں ایک ایسا نظام جہاں غریب اور نادار شخص کو بھی امیر کے برابر عزت اور وسائل میسر ہوں کیونکہ امیر اپنے وسائل سے جو چاہے کر سکتا ہے اصل مسئلہ توغریب کا ہے جس کے ساتھ ہمیشہ سے ظلم ہوتا رہا ہے اور اُس کی بحالی کیلئے کسی نے بھی سوچنے کی جرات نہ کی وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت بے تحاشہ نئی عمارتیں بنانے کی بجائے صوبے میں موجود اداروں اور عمارتوں کو سہولیات دے کر فعال بنا رہی ہے کیونکہ اُنہیں اپنے ووٹ نہیں بلکہ عوامی کی ترقی و خوشحالی عزیز ہے اُن کی حکومت عوامی کی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے یکساں ترقیاتی حکمت عملی پر کاربند ہے انہوں نے کہاکہ پسماندہ علاقوں کو روڈ کمیونیکشن کے ذریعے شہروں سے مربوط کیا جارہا ہے اور وہاں ادارے بنائے جارہے ہیں اسی سے اُن کی پسماندگی دور ہو گی انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کو ووٹ تبدیلی کیلئے ملا ہے جس کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہے ہیں شعبہ تعلیم میں اصلاحات سے متعلق بات کر تے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت سرکاری تعلیمی اداروں کو پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے برابر لانے کیلئے کام کر رہی ہے انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم پر لگائیں کیونکہ اسی سے امیر و غریب کے درمیان خلاء ختم ہو گا انہوں نے کہاکہ تعلیم ہی ترقی کا زینہ ہے اس کے بغیر ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف نے صوبے کو ترقی یافتہ خطہ بنانے کیلئے ایک بہترین نظام کی بنیاد رکھ دی ہے اور قابل لوگوں نے اس صوبے کو آگے لیکر جانا ہے یہ قوم کے مستقبل کی جنگ ہے جس میں ہم سب کو پوری دیانت داری کے ساتھ حصہ ڈالنا ہے ۔اُنہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے صوبے سے بد عنوانی ، سفارش کلچر ، ناانصافی اور ظلم کے خاتمے کیلئے گراں قدر اقدامات کئے ہیں اور اداروں کو عوام کا خدمتگار بنایا ہے تحصیل ، تھانہ ، پٹواراور دوسرے اداروں میں غریب کی عزت بحالی کی ہے انہوں نے کہاکہ عوام سفارش نہ ڈھونڈیں بلکہ اپنے جائز کاموں کیلئے خود اداروں میں جائیں اگر کسی سے نا انصافی ہو تو آگاہ کریں اُس کے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمیں اصلاح اپنی ذات سے شروع کرنی ہے اور پھر اس کو معاشرے میں پھیلانا ہے وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُنہیں دُکھ ہوتا ہے کہ جب کوئی دوست یا رشتہ دار کسی ایسے کام کی سفارش کیلئے اُن کے پاس آتا ہے جس کا وہ اہل نہیں ہے وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ سب باتیں ماضی کا حصہ بن چکی ہیں اب جس کا حق ہے اُسے ملے گا میرٹ اور انصاف کی بالادستی ہے کیونکہ یہ تحریک انصاف کی حکومت ہے انہوں نے واضح کیا کہ وہ بدعنوانی اور ظلم کو نشان عبرت بنائیں گے اُنہیں سفارشی اور ظالم نہیں چاہئیں کیونکہ وہ میرٹ کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کی بات کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ بد قسمتی سے ماضی کے دو نمبر حکمرانوں نے ادارے تباہ کئے حکمران اپنی تجوریاں بھرتے رہے اور ارب پتی بن گئے اور کمزور، غریب سے غریب ترہو تا چلا گیا ۔ شعبہ صحت سے متعلق بات کر تے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب اُنہوں نے حکومت سنبھالی تو ہسپتال انسانوں کے کم اور جانوروں کے زیادہ معلوم ہو تے تھے اُن کی حکومت نے ہسپتالوں کا قبلہ درست کرنے کیلئے قانون سازی کی اصلاحات لائیں اور مانیٹرنگ کا ایک نظام وضع کیا انہوں نے یقین دلایا کہ آئندہ چند ماہ میں صوبے کے سرکاری ہسپتال پرائیوٹ طبی اداروں کے برابر ہو ں گے شہاب خیل میں ٹرانسفارمر کی تنصیب کے مطالبے پر وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبہ بھر میں جہاں جہاں ٹرانسفارمر کی ضرورت ہے اُس کیلئے واپڈا کو ادائیگی کر چکے ہیں جیسے جیسے ٹرانسفارمر موصول ہوں گے متعلقہ علاقوں کو دے دیئے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے گاؤں کی سطح پر صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے کہا کہ بلدیاتی بجٹ میں 20 فیصد صفائی کیلئے مختص کیا گیا ہے تاہم ضرورت کی بنیاد پر زیادہ بھی لگایا جا سکتا ہے وزیراعلیٰ نے کہاکہ جس ویلج کونسل میں کام نہیں ہو رہا عوام نمائندوں کو گریباں سے پکڑیں اسی لئے اُنہوں نے اداروں کو نچلی سطح تک منتقل کیا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت کو صوبے میں روزگار کے مسائل کا بخوبی احساس ہے اسی وجہ سے وہ صوبہ بھر میں صنعتیں اور کارخانے لگار ہے ہیں اور سرمایہ کار ی کو فروغ دینے کیلئے پرکشش مراعات دے رہے ہیں نوجوان نوکری کیلئے سرکاری کی طرف نہ دیکھیں بلکہ تعلیم حاصل کریں اور فنون سکھیںیہ ادارے اُن کے لئے بنائے گئے ہیں جہاں میرٹ پر ہر حقدار کو اُس کا حق دیا جائے گاتاہم نا اہل لوگوں کی اس نظام میں کوئی گنجائش موجود نہیں ۔

مزید : صفحہ اول


loading...