داعش نے موصل میں امریکی فوج کیخلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے: جنرل ڈنفورڈ

داعش نے موصل میں امریکی فوج کیخلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے: جنرل ڈنفورڈ

واشنگٹن (اظہر زمان ، بیورو چیف ) داعش نے موصل کے قریب ایک ہوائی اڈے پر موجودعراقی فوج کے دستوں اور امریکی مشیروں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ۔امریکہ کے چیئر مین جائنٹ چیفس آف سٹاف جنر ل جوزف ڈنفورڈ نے یہ انکشاف سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں کیا،انہوں نے بتایا کہ داعش کے پھینکے گئے گولوں میں سے ’’مسٹر ڈگیس‘‘ کے ثبوت ملے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد کسی دشمن نے امریکی فوج کے خلاف کیمیائی ہتھیار کا استعمال کیا ۔ موصل عراق کا دوسرا بڑا شہر ہے جو اس وقت داعش کے قبضے میں ہے اور عراقی فوج موجود ہ سال کے خاتمے تک اتحادی فوج کے تعاون سے اس پر اپناکنٹرول بحال کرنے کیلئے دباؤ ڈالنے میں مصروف ہے ۔ جنرل ڈنفورڈ نے بتایا کہ موصل کے تقریباً چالیس میل جنوب میں قیارہ کے مغربی حصے پر واقع فوجی ہوائی اڈے پر عراقی فوج کے علاوہ امریکی مشیر موجود تھے جن کو پیچھے دھکیلنے کیلئے داعش نے موصل سے اپنے توپ خانے کے ذریعے گولے پھینکے جس میں مسٹرڈ گیس کی موجودگی کے ثبوت ملے ہیں ۔ جنرل ڈنفورڈ نے بتایا کہ داعش کے قبضے میں کیمیائی ہتھیار زیادہ جدید حالت میں نہیں لیکن پھر بھی یہ بہت تشویش ناک بات ہے ۔

جنر ل ڈنفورڈ

مزید : صفحہ آخر


loading...