چیئرمین یونین خیبر ایجنسی کی جانب سے فاٹا کو ضم کرنے کی مخالفت

چیئرمین یونین خیبر ایجنسی کی جانب سے فاٹا کو ضم کرنے کی مخالفت

پشاور(کرائمز رپورٹر) خیبر یونین خیبر ایجنسی نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے فاٹا کونسل بنانے کا مطالبہ کردیا ۔ گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یونین کے مرکزی صدر بازار گل ‘ جنرل سیکرٹری مراد ساقی ‘ سیکرٹری اطلاعات گل مان شاہ ‘ سیکرٹری خزانہ زرغون شاہ اور دیگر نے کہا کہ خیبر یونین پاکستان 1987 ء میں قبائلی عوام کے حقوق کے حصول کے لئے تن من دھن کی بیش بہا قربانیوں کی داستان رقم کر کے بر سر پیکار اور کوشاں رہا ہے یہاں تک کے خیبر یونین کے مشران و کارکنان نے جیلیں کاٹیں ان کے گھر مسمار کئے گئے اور جائیدادیں ضبط کی گئیں لیکن پولیٹیکل ایجنٹ کے لا محدود اختیارات اور ایف سی آر کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام صوبہ خیبر پختونخوا میں کسی بھی صورت فاٹا کو ضم نہیں کرنے دینگے اس کے بجائے اپنے لئے با اختیار منتخب فاٹا کونسل چاہتے ہیں جو قبائلی عوام کے ووٹوں پر منتخب ہو اور یہ کونسل قبائلی عوام کی معاشی ‘ معاشرتی ‘ سیاسی اور رسم و رواج پر مبنی قوانین کے بنانے کا با اختیار ترجمان اور جوابدہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل ایجنٹ کے تمام اختیارات سمیت ایف سی آر کا خاتمہ چاہتے ہیں اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں قبائلی عوام کے رسم و رواج پر مبنی جرگوں فیصلوں کو عدالتوں اور از خود نوٹس کے ذریعے پا مال نہیں کرنے دینگے بلکہ قبائلی عوام رسم و روج پر مبنی جرگوں ‘ فیصلوں کی آئینی تحفظ اور نفاذ چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کو این ایف سی ایوارڈ سمیت ایک جامع مالیاتی پیکج جو سو ارب روپے پر مبنی ہو کا فوری طور پر اعلان کیا جائے جس سے باجوڑ سے لے کر جنوبی وزیرستان تک موٹروے بنائی جا سکے ۔ پختونخوا کے ہر ضلع سے متصل ہر ایجنسی کو ایک ایکسپریس وے ‘ یونیورسٹیز ‘ میڈیکل اور ٹیکنیکل کالجز ‘ ہر ایجنسی میں سپورٹس کمپلیکس ‘ گیس وغیرہ کی ترسیل ‘ تفریحی مقامات سمیت میگاپروجیکٹ شروع کئے جا سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کاا اعلان کیا جائے اور ہر تباہ شدہ گھر کے مالک کو بیس لاکھ اور نیم تباہ شدہ گھر کے مالک کو دس لاکھ روپے امداد دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا سے فی الفور کسٹم ایکٹ سمیت تمام ٹیکسز کو تیس سال تک ختم کیا جائے سی پیک کوریڈور میں دوسرے صوبوں کی طرح فاٹا کے عوام کو بھی حق دیا جائے اس طرح اصلاحات لانے سے قبائلی عوام خوشحال اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...