حادثات زندگی کے ساتھ، صبر اللہ نے دیا، ہیجان اضافی لوڈشیڈنگ نے پیدا کیا

حادثات زندگی کے ساتھ، صبر اللہ نے دیا، ہیجان اضافی لوڈشیڈنگ نے پیدا کیا
حادثات زندگی کے ساتھ، صبر اللہ نے دیا، ہیجان اضافی لوڈشیڈنگ نے پیدا کیا

  


زندگی نام ہی حادثات کا ہے، انسان سانس لے رہا ہے تو حادثات بھی پیش آتے رہتے ہیں، تاہم پچھلے دوماہ سے پے درپے کئی ایسے واقعات پیش آگئے کہ اللہ یاد آیا، شاپنگ مال کا شٹر گرنے سے بال بال بچ جانا کرشمہ تھا تو کراچی سے لاہور آتے ہوئے جہاز کا کسی حادثے سے بچ جانا بھی اسی زمرے میں آتا ہے کہ پی ۔آئی۔اے بوٹنگ لاہور کی فضا میں بہت تیزی سے جھٹکا کھا کر نیچے آیا اور پھر دو جھٹکے اور لگے اس سے مسافروں کی چیخیں نکلیں اور کلمہ طیبہ کے ساتھ درود شریف بھی پڑھا جانے لگا تھا، غالباً کوئی ائیر پاکٹ جیسا مسئلہ تھا، کپتان نے سنبھال لیا اور خیریت سے گھر آگئے، اس کے بعد کے دن بھی عجیب سے گزر رہے ہیں، کہ بلڈ پریشر بڑھنے لگا، خلجان، ہیجان کی سی کیفیت پیدا ہونے لگی ڈاکٹر حضرات کی مدد سے ادویا ت کے سہارے وقت گزرنا شروع ہوگیا، بچوں نے اسی حالت کے پیش نظر ہم پر گاڑی چلانے کی پابندی لگا دی، عاصم نے ڈرائیور کا اہتمام کیا تو ہم اس کے ساتھ آنے جانے لگے اور سہولت محسوس ہوئی تاہم کافی دن ہوئے جب ڈرائیور بھی نہ رہا تو خود عاصم چودھری ہمیں دفتر چھوڑتے اور واپس لے جانے لگا،ہفتہ رواں میں اس کی ڈیوٹی تھی وہ یہ خدمت انجام نہیں دے سکتا تھا، چنانچہ بمشکل ہمیں یہ اجازت ملی کہ صبح کو گھر سے دفتر اور پھر دفتر سے گھر تک کینال بنک روڈ کے راستے خود ڈرائیو کر کے آیا جایاکریں اور اگلے ہفتے سے عاصم چودھری یہ فرائض پھر سے سنبھال لے گا، تو ہم پیر سے خود ہی آجا رہے تھے، اور معاہدے کی خلاف ورزی سے بھی گریز کیا تھا، حتیٰ کہ بدھ کے روز چمڑہ منڈی تک جانا تھا تو میاں اشفاق انجم صاحب کے ڈرائیور کو تکلیف دی اور اسے ساتھ لے کر گئے،اس عرصہ میں ANXIETYکے مرض نے اپنی جگہ پریشان کئے رکھا، تاہم بنیادی مسئلہ یہ ہوا کہ معدہ خراب ہوگیا اور اس کے لئے ادویات لینے لگے ،جن کے باعث کام کاج کرنے کے قابل ہوئے اگرچہ درمیان میں کسی کسی وقت ہیجانی کیفیت نازل ہوجاتی ہے ایسے ہی دن گزر رہے ہیں کہ ۔۔۔

جمعرات کو صبح گھر سے روانہ ہوئے تو لاہور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سپر وائیزر مل گئے جو ایک ورکر کو ساتھ لئے آئے، ان حضرات نے ہماری شکائت پر عمل کرتے ہوئے اس سے پہلی شب ہمارے گھر کے قریب والے خالی پلاٹ کی صفائی کرائی تھی جہاں ہمارے دو معزز محلے داروں نے تمام تر درخواستوں کے باوجود عید اور اس سے اگلے روز قربانی کر کے آنتیں اور اوجٹری وغیرہ وہاں ڈال دی تھی حالانکہ ہم نے ان سے عرض کر رکھا تاکہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ والوں سے شاپر پہلے ہی لے لیں، یہاں بو پیدا ہو چکی تھی، اسی طرح جامع مسجد طیبہ کے قریب دو تین خالی پلاٹوں میں مہر بانوں نے مہر بانی فرما رکھی تھی اور سیر صبح کے وقت بوگراں گزرتی تھی، تنگ آ کر ہم نے ڈائریکٹر سہیل ملک سے ان کے ذاتی فون پر شکائت کی تھی اور عمل ہوگیا، ان سپروائیزر صاحب سے مزید عرض کیا کہ خود دھیان کر لیا کریں اور شکریہ ادا کر کے دفتر کی طرف چلے آئے طبیعت ٹھیک اور ہم ہشاش بشاش تھے دفتر پہنچ کر گاڑی سٹرک کنارے فٹ پاتھ پر پارک کردی اور خود اپنے کمرے میں چلے آئے، ابھی اخبار ہی درست کر رہے تھے اور قریباً دس منٹ گزرے کہ باہر سے ہمارے دفتر کے ایک سیکیورٹی گارڈ صاحب آگئے اور ہم سے باہر آنے کے لئے کہا، ان کے مطابق گاڑی کو نقصان پہنچا تھا، ہم جلدی سے باہر نکلے تو یہ دیکھ کر جھٹکا لگا کہ گاڑی سٹرک پر آگئی اور اس کے دائیں والے پچھلے دروازے میں ایک لوڈر سوزوکی پک اپ گھسی ہوئی ہے، اس سے پچھلا دروازہ، لائٹ،پٹرول ٹینک والا حصہ اور ڈگی کو بہت زیادہ نقصان پہنچا اور بونیٹ بھی ٹیڑھا ہو چکا تھا، دفتر کے گارڈحضرات نے ڈرائیور کو روک رکھا تھا کہ اس کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا تھا،معلوم ہوا کہ مزنگ چونگی طرف سے موصوف تیز رفتاری سے آرہے تھے کہ ان کی گاڑی لہرانے لگی، تیز رفتاری کی وجہ سے وہ کنٹرول نہ کر سکے اور گاڑی کے رکنے کے لئے ان کو رکاوٹ ہماری گاڑی ہی کی میسر آئی، ظاہر ہے کہ ہم سر پکڑ کر رہ گئے شکر ہے کہ طبیعت بہتر ہونے کی وجہ سے ہیجانی کیفیت پیدا نہ ہوئی ۔

اب اس کے بعد وہی سلسلہ شروع ہوا جو ایسے واقعات کا خاصہ ہے کہ ڈرائیور غریب ملاز م ہے، پک اب بھی کسی کی ہے اور وہ ایک کمپنی کے ساتھ معاہدے کے مطابق چلا رہا ہے، ڈرائیور کے ایک دوہمدرد پہنچ گئے تھے، پھر اس پک اپ لوڈر کا مالک بھی آگیا،ڈرائیور اور اس کا پہلا ساتھی ہماری اس تجویز کے جواب میں بات کر رہے تھے کہ گاڑی آپ لوگ لے جائیں اور مارکیٹ والے جو قیمت بتائیں اس سے پچاس ہزار روپے ہمیں کم دے دیں، خود ہی مرمت کرا کے اسے دیکھیں یا بیچیں جو مرضی کریں، ہم نے صاحبزادے عاصم کو فون کر کے بلا لیا وہ بمشکل ڈیوٹی چھوڑ کر پہنچا تو بات چیت اس سے شروع ہو گئی اور معمول کی بک بک جھک جھک چلنے لگی، کوئی فیصلہ نہ ہو پا رہا تھا ہم نے اپنے ایک دوست معاذ موٹرز کے مالک محمد معاذ قریشی کو فون کر کے بلایا، ماشا ء اللہ وہ فریضہ حج ادا کر کے ایک ہی روز پہلے واپس آئے اورگھر پر تھے ہماری بات سننے کے بعد چلے آئے، انہوں نے آکر صورت حال دیکھی اور وارث روڈ سے ایک ڈینٹر(مستری) کو بلا کر گاڑی دکھائی اور پوچھا تو انہوں نے درستگی کی حامی بھری مزدوری اور اس کے بعد کے مراحل بھی معاذ قریشی صاحب ہی نے طے کئے اور پھر فیصلہ بھی انہوں نے کردیا، جو یوں تھا کہ گاڑی کی مرمت کی تمام تر مزدوری ہم دیں اور جو پرزہ جات ٹوٹے اور لانا ہیں وہ ڈرائیور لاکر دے، معاذ صاحب نے جب یہ فیصلہ کیا تو ہم نے اور عاصم نے بھی خوشدلی سے مان لیا کہ غریب آدمی والا مسئلہ حل ہوگیا، لیکن ہمیں گاڑی کے نقصان کے علاوہ مزوری کی شکل میں بھی نقصان برداشت کرنا ہے پھر دس پندرہ روز( مرمت کا دورانیہ) سفر کا بھی انتظام کرنا ہے، جبکہ عاصم چودھری اور معاذ صاحب متفق ہیں کہ گاڑی بیچ دی جائے تو حضرات یہ بھی حادثہ ہے اور ہم اس وقت تو سواری سے محروم ہو گئے ہیں جب تک اللہ پردہ غیب سے مدد فرماکر دوسری گاڑی کا انتظام نہیں کردیتا، جو یہ گاڑی بک جانے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا، اس وقت تک عاصم کو ہمیں برداشت کرنا ہوگا اور ہمیں کار کی جگہ موٹر سائیکل اور رکشا کے سفر پر واپس آنا پڑے گا بہت ہوگئی گاڑی کی سیر۔۔۔یہ اللہ کا کرم ہے کہ اس ساری صورت حال کے باوجود ANXIETYکا دورہ نہیں پڑا اور ہم ٹھیک رہے گھر واپسی رکشا پر ہوئی، مغرب کی نماز ادا کی اور برقی رو کی واپسی کا انتظار شروع ہوا کہ لوڈشیڈنگ تھی جو روزانہ شام سوا پانچ بجے سے سوا چھ بجے تک ہوتی ہے، لیکن اس روز بجلی آنے کا م نہیں لے رہی تھی سب ڈویژن کا فون مصروف مل رہا تھا، بمشکل سات بجے بات ہوسکی تو جواب ملا، سوا چھ بجے تک لوڈ شیڈنگ تھی اس کے بعد گرڈ (علامہ اقبال ٹاؤن) میں کوئی مسئلہ ہے وہ (گرڈ والے) کہتے ہیں، بحالی میں مزید پونا گھنٹہ لگے گا، قارئین نقصان تو ہیجان نہ پیدا کرسکا لیکن برقی رو نے طبیعت خراب کردی جو سواسات بجے واپس آئی اور یوں پورے دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوئی۔

مزید : کالم


loading...