صدر اوباما پر لوئی فرح خان برس پڑے

صدر اوباما پر لوئی فرح خان برس پڑے
صدر اوباما پر لوئی فرح خان برس پڑے

  


صدر باراک اوباما کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کسے پسند آئی اور کسے پسند نہیں آئی۔ مَیں نے اپنے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ مسئلہ فلسطین پر کسی امریکی صدر کے لئے حق و انصاف کی بنیاد پر پالیسی دینا یا صرف بات کرنا بھی بے حد مشکل ہے۔ جب امریکی صدر جمی کارٹر سے ان کی مشہور کتاب Peace Not Apartheid کے حوالے سے پوچھا گیا کہ آپ نے اِن خیالات کا اظہار وائٹ ہاؤس میں قیام کے دوران کیوں نہیں کیا۔ تو ان کا جواب تھا کہ ’’ہر امریکی سیاست دان یہی خیالات رکھتا ہے، لیکن دور اقتدار میں خوف کی وجہ سے ان خیالات کا اظہار نہیں کرسکتا‘‘۔ تاہم مَیں سمجھتا ہوں کہ باراک اوباما نے اس سلسلے میں تھوڑی ہی سہی، کچھ نہ کچھ جرأت کا مظاہرہ کیا۔ جنرل اسمبلی کی اس تقریر میں انہوں نے اسرائیل کو قابض قرار دیا اور اس قبضے کو امن کی راہ میں رکاوٹ بھی قرار دیا۔ 2015ء مَیں جب نیتن یاہو کانگرس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے آئے تو باراک اوباما نے اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا اور کانگریس کے اس اجلاس کا بھی بائیکاٹ کیا، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسرائیل کے لئے جو امریکی امداد 3.1(تین اعشاریہ ایک) بلین ڈالرسالانہ تھی، وہ صدر اوباما کے عہد میں بڑھ کر 3.8(تین اعشاریہ آٹھ) بلین ہوگئی ہے۔ اِس لئے نیشن آف اسلام کے سیاہ فام رہنما لوئی فرح خان صدر اوباما پر برس پڑے۔ لوئی فرح خان نے کہا کہ صدر اوباما نے سیاہ فاموں کو نظر انداز کرکے اسرائیل اور ہم جنسوں کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ واشنگٹن ڈی سی میں یونین ٹیمپل بیسپٹسٹ چرچ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوباما کواپنی ہیلتھ کیئر پالیسی پر نا ز ہے اور وہ اسے اپنی یاد گار سمجھتا ہے، انہوں نے کہا یہ ہرگز تمہاری یادگار نہیں بن سکتی۔ تمہاری یادگار تو وہ گلیاں بن سکتی ہیں، جن میں تمہارے لوگ(سیاہ فام) مصائب سے گزر رہے ہیں اور جناب صدر اگر آپ ان گلیوں میں نہیں جاسکتے تو آپ اپنی یادگار یا وراثت کے بارے میں فکر مند نہ ہوں اسے وہی سفید نام سنبھالیں گے جن کی آپ کو زیادہ فکر ہے۔ لوئی فرح خان نے غصے میں کہا ’’وہ خاک تمہاری وراثت کی حفاظت کریں گے‘‘، کیونکہ آپ نے خود کو یاد رکھنے کے لئے ہمارے ساتھ کوئی نیکی نہیں کی۔ ہم (سیاہ فاموں) نے تمہیں اس جگہ پہنچایا جہاں اب تم ہو لیکن تم ہم جنسوں کے حقوق کے لئے لڑے۔ تم اِن ’’لوگوں‘‘ کے لئے لڑتے رہے۔ تم اسرائیل کے لئے لڑتے رہے، لیکن تمہارے لوگ(سیاہ فام) اب بھی مصائب کا شکار ہیں اور آئے روز گلیوں میں مرتے رہتے ہیں۔

لوئی فرح خان اور صدر باراک اوباما دونوں کا تعلق شکاگو سے ہے، شکاگو میں نوجوانوں کے کنونشن سے بھی خطاب کے دوران کہا کہ نوجوانو! تم جانتے ہو تمہارے سیاہ فام صدر کبھی تمہارے پاس نہیں آئے، کیا تم اپنے سیاہ فام صدر کو یہاں لاسکتے ہو، لوئی فرح خان نے صدر اوباما سے کہا کہ وہ وائٹ ہاؤس سے رُخصت ہو کر اپنی یادگار وراثت پر نظر ثانی کریں، اس وقت وہ وائٹ ہاؤس کی پابندیوں سے آزاد ہوں گے۔ اس وقت واپس اپنے لوگوں میں آئیں اور انہیں اِسی طرح منظم کریں جیسے پہلے کبھی منظم کیا تھا۔

لوئی فرح خان سیاہ فاموں کی ایک تنظیم ’’نیشن آف اسلام‘‘ کے نڈر اور بے باک لیڈر ہیں، نیشن آف اسلام جولائی 1930ء میں سفید فام بالادستی پر یقین رکھنے والوں اور سیاہ فاموں کو برابر کا شہری تسلیم نہ کرنے کے رد عمل کے طور پر قائم کی گئی تھی۔ اس کے بانی ویلس فرد محمد تھے۔ انہوں نے مریم مسجد شکاگو کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا۔ 1934ء سے الیجاہ محمد کو اس تنظیم کی سربراہی ملی، الیجاہ کا پیدائشی نام الیجاہ رابرٹ پولے تھا۔ اکثر نامور سیاہ فام مسلمان بنیادی طورپر الیجاہ سے متاثر ہوئے، جن میں میلکم ایکس، لوئی فرح خان،عظیم باکسر محمد علی اور الیجاہ کا بیٹا وارث دین محمد شامل ہیں۔

الیجاہ پولے کا نمبر تیرہ بہن بھائیوں میں ساتواں تھا۔ اس کا باپ ولیم پولے بہت تھوڑی سی بٹائی پر کھیت میں کام کرتا رہا، الیجاہ تیسری جماعت سے آگے نہ پڑھ سکا۔ وہ بھی باپ کی طرح کھیت مزدور ی کرتا رہا۔ جب جنوبی ریاستوں میں بہیمانہ غلامی سے سیاہ فاموں نے شمال کی طرف ہجرت کی تو وہ ان لوگوں میں شامل تھا۔ اس نے ایک دفعہ بتایا کہ بیس سال کی عمر تک وہ تین سیاہ فاموں کو گوروں کے ہاتھوں پتھر مار مار کر ہلاک کرنے کے تین واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔ وہ ڈیٹرائٹ میں آکر مقیم ہوا اور متعدد سیاہ فام تنظیموں میں شمولیت بھی اختیار کی۔ 1931ء میں اپنی بیوی کے کہنے پر ویلس ڈی فرد کا لیکچر سنا، اپنی بیوی اور متعدد بھائیوں سمیت وہ ویلس ڈی فرد کی تنظیم میں شامل ہوگیا۔

ویلس کی تنظیم میں شامل ہو کر پہلے پہل اس نے اپنا نام کریم رکھا، بعد میں ویلس کی ہدایت پر محمد نام رکھ لیا۔ اور شکاگو کے ٹیمپل 2میں سربراہی سنبھال لی۔ اس کا بھائی کالوٹ محمد سیاہ فاموں کی دفاعی تنظیم فروٹ آف اسلام کا سربراہ بن گیا۔ ڈیٹرائٹ کے پھلتے پھولتے گروپ کی سربراہی فرد نے الیجاہ محمد کو سونپ دی اور اللہ ٹیمپل آف اسلام نے اپنا نام نیشن آف اسلام اختیار کرلیا۔ 1934ء میں فرد کے غائب ہو جانے پر ’’منسٹر آف اسلام‘‘ بن کر نیشن آف اسلام کی سربراہی لی۔ الیجاہ نے لوگوں کو بتایا کہ ویلس فرد(نعوذ باللہ) خود اللہ تھا جو انسانی شکل میں اپنے مظلوم بندوں کو نجات دلانے آیا تھا۔ الیجاہ نے کئی اور ٹیمپل بنائے لیکن جنگِ عظیم دوم کی لام بندی میں نام نہ لکھانے پر گرفتار ہو گیا۔ اِدھر اُدھر بھاگنے کے بعد قابو آیا تو لام بندی سے گریز، دوسروں کو بھی لام بندی سے روکنے اور بغاوت کے جرائم میں چار سال تک قید کی سزا بھگتی۔ اس دوران اُس کی بیوی کلارا اور تنظیم کے دوسرے لوگ تنظیم کو چلاتے رہے وہ خطوط کے ذریعے اُن کی رہنمائی کرتا رہا۔

سفید فاموں کی طرح الیجاہ بھی نفرت کا شکار تھا۔ سفید فام، سیاہ فاموں کو انسان نہیں گردانتے تھے، الیجاہ اور اُس کی تنظیم سفید فاموں کو کمتر، بلکہ شیاطین قرار دیتے تھے اور اُس کا خیال تھا کہ امریکہ میں ایک بار پھر سیاہ فاموں کو سفید فاموں پر عملی طور پر برتری حاصل ہو گی، اِسی برتری کے لئے وہ جدوجہد کر رہا تھا۔ اُس نے سیاہ فاموں کو معاشی ترقی کی طرف بھی راغب کیا۔1975ء میں اُس کی وفات کے وقت کہا جاتا ہے کہ اُس کی تنظیم کی دولت 75ملین ڈالر تھی۔

جیسا کہ اب تک معلوم ہو چکا کہ الیجاہ کے خیالات گمراہی پر مبنی تھے، جو لوگ اس سے متاثر تھے، جب انہیں اصل اسلام کا علم ہوا تو وہ اس سے الگ ہو گئے۔ میلکم ایکس جب سعودی عرب گیا تو وہ الیجاہ محمد کے عقائد سے تائب ہو گیا۔ محمد علی باکسر نے اصل اسلام کی آغوش میں پناہ لے لی۔ الیجاہ کے بیٹے وارث دین محمد نے اپنے باپ کی گدی سنبھالنا تھی، لیکن وہ اصل اسلام کی طرف چلا گیا۔ اس وقت وارث دین محمد امریکی سیاہ فام مسلمانوں کا ایک مسلمہ رہنما ہے، اُسے امام وارث دین محمد کہہ کر بُلاتے ہیں۔ نیشن آف اسلام کی سربراہی لوئی فرح خان کے حصے میں آئی۔ کہا جاتا ہے کہ لوئی فرح خان بھی اصل اسلام سے روشناس ہو چکا ہے۔ اُس کے ایک نائب برادر خالد نے یہ بات مجھے خود یوم حسینؓ کی ایک تقریب میں بتائی تھی، لیکن اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔ لوئی فرح خان یہودیوں اور اسرائیل کو آڑے ہاتھوں لیتا ہے اور سفید فاموں کے لئے اب بھی اُس کی گفتگو میں نفرت جھلکتی ہے۔

اُس کی حفاظت کا نظام بھی کسی سربراہِ مملکت سے کم نہیں ہے۔ مَیں نے ایک بار شکاگو میں اُن سے انٹرویو کے لئے وقت مانگا تو مجھے بتایا گیا کہ پہلے اُن کی کلیئرنس ہو گی اس کے بعد وقت ملے گا۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا۔ اِس لئے مَیں محروم رہا۔ نیو یارک میں سیاہ فام مسلمانوں کے ایک عظیم بے باک اور صحیح الفکر رہنمام امام سراج وہاج(اللہ اُن کی عمر میں برکت دے) نے اپنی گفتگو میں کہا تھا کہ الیجاہ ایک گمراہ شخص تھا، لیکن ہم اُسے بُرا نہیں کہتے، اُس کا نام احترام سے لیتے ہیں اور اُس کے لئے مغفرت کی دُعا کرتے ہیں۔ اگر وہ ایک گمراہ اسلام کا نام نہ لیتا، تو شاید آج ہم بھی مسلمان نہ ہوتے۔ گویا امام سراج وہاج الیجاہ کو جیسا تیسا اسلام متعارف کرانے کا کریڈٹ دیتے ہیں۔

لوئی فرح خان ایک مُنہ پھٹ شخص ہے۔ اُس نے اکثر نیو یارک کو جیو یارک کہا اور ایک بار یہاں تک کہہ دیا کہ ’’یہودیت گٹر مذہب ہے‘‘ اس پر بہت شور اُٹھا، لیکن وہ لوئی فرح خان کیا جو ڈر جائے یا اپنی بات سے پیچھے ہٹ جائے۔ اُس نے اکتوبر 1995ء میں ملین مارچ کا اعلان کیا تھا اور پھر لوگوں نے واشنگٹن ڈی سی میں ملین مارچ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

2007ء میں لوئی فرح خان شدید بیمار ہو گیا اور اُس نے اپنی ہر طرح کی عوامی سرگرمیاں محدود کر دیں۔ مشہور تھا کہ وہ مسلسل بے ہوشی کی حالت میں ہے۔ ایک سازشی تھیوری بھی اس سلسلے میں مشہور تھی کہ اُسے یہودیوں نے زہر دیا ہے، حالانکہ اس سے پہلے اُس نے یہودیوں کے ساتھ تعلقات بہتر کر لئے تھے۔ لوئی فرح خان کا اصل یا پیدائشی نام لوئی یوجین ویلکاٹ تھا اِس وقت اُس کی عمر 83 سال ہے، لیکن اُس کی لپک جھپک نوجوان کی سی ہے۔

لوئی فرح خان صدر باراک اوباما پر سیاہ فام ہونے کے ناتے اپنا حق جتاتے ہیں۔ صدر باراک اوباما پر انتخابات کے دوران لوئی فرح خان سے تعلقات کا الزام لگایا جاتا رہا اور مطالبہ کیا جاتا رہا کہ وہ لاتعلقی کا اعلان کریں، لیکن صدر باراک اوباما نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا۔ لوئی فرح خان سیاہ فاموں کے حقوق کے لئے تیغ بُراں ہیں اور وہ کوئی مبالغہ آرائی بھی نہیں کرتے،جس وقت وہ صدر باراک اوباما پر گرج برس رہے تھے اُس وقت شارلٹ نارتھ کیرولینا میں ایک سیاہ فام کے پولیس کے ہاتھوں مارے جانے کے خلاف احتجاج ہو رہا تھا،احتجاج کرنے والوں کا پولیس سے ٹکراؤ ہو گیا اور 12 پولیس والے زخمی ہو گئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ سیاہ فام کے پاس گن تھی، حالانکہ اُس سے کوئی گن برآمد نہیں ہوئی، نہ کسی عینی گواہ نے دیکھا۔ کہا جاتا ہے کہ سیاہ فام کو مارنے کے بعد اُس کی گاڑی میں پولیس نے اپنے پاس سے ایک گن رکھنے کی کوشش کی، لیکن مقتول کی بیٹی نے شور مچا دیا۔

سان فرانسیسکو کی فٹ بال لیگ کا کھلاڑی کیپرنک بھی ٹھیک کہتا ہے کہ جس مُلک کے گلی کوچوں میں روزانہ سیاہ فام نوجوانوں کو پولیس قتل کر دیتی ہو اس کے ترانے کے احترام میں کیوں کھڑا ہوا جائے۔ لوئی فرح خان کی تیز و تند تقریر کے وقت ہی کھلاڑی نے کہا ہے کہ مجھے قتل کر دینے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اگر مَیں قتل ہو گیا تو یہ ایک بہت بڑا ثبوت ہو گا کہ جو مَیں کہتا تھا وہ ٹھیک تھا۔

مزید : کالم


loading...