سندھ میں اوپن یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا ،جام مہتاب ڈہر

سندھ میں اوپن یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا ،جام مہتاب ڈہر

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ کے وزیر تعلیم جام مہتاب حسین ڈاہر نے کہا کہ سندھ میں اوپن یونیورسٹی قائم کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ تعلیم سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران متعدد ارکان کے تحریری و ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع سکھر میں پرائمری سے ہائی سیکنڈری تک 1311اسکولز ہیں ، جن میں سے1226 اسکولز چل رہے ہیں ۔ 51 اسکولز عارضی طور جبکہ 34 اسکولز مستقل طور پر بند کر دیئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ 2008 سے 2013 تک کراچی ، حیدر آباد اور میرپور خاص ریجن میں غیر حاضری کی بنیاد پر کسی اسکول ٹیچر کو برطرف نہیں کیا گیا ہے ۔ سکھر ریجن میں ایک ایچ ایس ٹی شازیہ چنا کو دوہری ملازمت کرنے پر برطرف کیا گیا ہے جبکہ لاڑکانہ ریجن میں 594 غیر حاضر ٹیچرز کے خلاف انضباطی کارروائی کی گئی ہے ۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ تدریسی سال 2005-06 سے پرائمری اور سیکنڈری کے طلباء کو مفت کتب کی فراہمی شروع کی گئی تھی اور یہ اقدام وزیر اعلی سندھ کے حکم پر کیا گیا تھا ۔ تدریسی سال 2010-11 سے گیاہویں اور بارہویں کلاس کے طلباء کو مفت کتب کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔ حکومت نے کالجوں میں بک بینکس بھی قائم کیے ہیں تاکہ کتابوں کو دوبارہ استعمال کیا جا سکے ۔ وزیر تعلیم نے بتایا کہ 2008 سے 2013 تک 5649 اساتذہ کو بھرتی کیا گیا ہے ۔ ان میں سے 403 ایچ ایس ٹی ، 860 جے ایس ٹی ، 4386 پی ایس ٹی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اشتراک سے انٹیگریٹڈ ایجوکیشن لرننگ پروگرام شروع کیا ہے تاکہ پورے سندھ میں معیار تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...