وزیر اعظم نے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پوری جرات سے پیش کیا :فضل الرحمٰن

وزیر اعظم نے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پوری جرات سے پیش کیا :فضل الرحمٰن

اسلام آباد(آن لائن ) جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پوری جرات سے پیش کیا ہے،بھارتی جنگی جنون کے باوجود وزیراعظم کی تقریر اور پاکستان کا ردعمل ذمہ دارانہ ہے ،پوری دنیا میں انسانی حقوق کا ڈھونڈورا پیٹنے والوں کی زبانیں کشمیر کے ظلم پرکیوں چپ ہیں ،پاکستان بھارت کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا ہمیشہ سے حامی رہا ہے تاہم یکطرفہ مذاکرات کسی طور ممکن نہیں ہے ،،کشمیری کیا چاہتے ہیں دنیا ایک بار ان سے پوچھ تو لے کشمیر کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی کشمیر پالیسی پر حکومت نے ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں کی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کیا انہوں نے کہاکہ وزیر اعطم پاکستان نے اقوام متحدہ میں مسلہ کشمیر پر جرات مندانہ موقف پیش کرکے کشمیری عوام کی بھرپور ترجمانی کی ہے انہوں نے کہاکہ بھارت کی جانب سے شدید ترین جنگی جنون کے باوجود وزیر اعطم کی تقریر میں توازن اور ردعمل ذمہ دارانہ تھا پاکستان کبھی بھی ہندوستان کے ساتھ جنگ کرنے کا خواہشمند نہیں ہے بلکہ بھارت کے ساتھ بامقصد بات چیت کا حامی رہا ہے مگر یہ بات چیت کسی صورت بھی یکطرفہ نہیں ہوسکتی ہے انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی جارحیت پر عالمی اداروں کی آنکھیں کیوں بند ہیں پوری دنیا میں آمن کا دھنڈورا پیٹنے والی انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر کیوں خاموش ہیں انہوں نے کہاکہ دنیا اخر ان کشمیریوں سے دریافت کرے کہ وہ کیا چاہتے ہیں سیاسی حکومتیں کسی صورت بھی جنگ کی حامی نہیں ہوتی ہیں انہوں نے کہاکہ بھارت کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ متنازعہ چیزیں جنگ کی صورت میں مذید متنازعہ ہو جاتی ہیں انہوں نے کہاکہ کشمیر کمیٹی کی جانب سے حکومت کو دی جانے والی کشمیر پالیسی پر ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور اس سلسلے میں 27 ستمبر کو کشمیر کمیٹی مسئلہ کشمیر پر دنیا کے دیگر ممالک کے دورے پر جانے والے وفود سے ملاقات کرے گی انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان نے اپنی تقریر کے دوران بلوچستان میں ہندوستانی ایجنسی را کی مداخلت کا زکر نہیں کیا ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم کی کچھ مجبوریاں ہوں تاہم ہمیں معاملات کو بگڑنے سے بچانا ہوگا انہوں نے کہاکہ حکومت مدارس کو چھیڑ کر نئی جنگ شروع کرنا چاہتی ہے ہمیں بتایا جائے کہ آرمی پبلک سکول سمیت جی ایچ کیو اور دیگر مقامات پر حملوں میں مدارس سے تعلق رکھنے والے کتنے افراد ملوث تھے ملک میں ہشت گردی کے نام پر مدارس کا خاتمے کا مغربی ایجنڈا چلایا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ وزیر داخلہ پشتونوں کے حوالے سے گفتگونرم کرتے ہیں جبکہ عمل سخت کرتے ہیںآج بھی لاکھوں پختونوں کے شناختی کارڈ بلاک ہیں اور ہماری گزارشات پر بھی عمل نہیں کیا جا رہا ہے انہوں نے کہاکہ خبیرپختونخواہ اسمبلی کی جانب سے سود کے خاتنے سے متعلق قانون سازی احسن اقدام ہے اسی طرح کی قانون سازی قومی اسمبلی میں بھی سود کے خلاف ہونی چاہیے انہوں نے کہاکہ افغان حکومت اور گلبدین حکمت یار کے مابین ہونے والے آمن معاہدے کے نتائج کو دیکھے بغیر پہلے سے کوئی فیصلہ قائم نہیں کرنا چاہیے تاہم حکمت یار کو چاہیے تھا کہ افغان حکومت سے معاہدہ کرنے سے پہلے افغان طالبان کو بھی ساتھ لے لیتے تو اس کے دور رس نتائج برآمد ہوئے۔

مولانا فضل الرحمن

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...