مختلف واقعات میں 4خواتین کا قتل، ٹریفک حادثہ میں 3افراد جاں بحق

مختلف واقعات میں 4خواتین کا قتل، ٹریفک حادثہ میں 3افراد جاں بحق

چشتیاں، سرائے سدھو، شجاعباد، رحیم یارخان‘ احمد پور سیال(نمائندگان) مختلف واقعات میں 4 خواتین کو قتل کر دیا گیا چشتیاں سے نمائندہ پاکستان کیمطابق ماڈل تھانہ صدر چشتیاں کے علاقہ موضع ماڑی شوق شاہ میں دیوروں نے اپنی بھابھی کو کسی کے پے درپے وار کر کے قتل کر دیا ۔بیان کیا گیا ہے کہ موضع ماڑی شوق شاہ کی رہائشی چھ بچوں کی ماہ بیوہ خاتون نسیم بی بی اپنی زرعی اراضی کو سیراب کرنے کیلئے کھیتوں میں موجود تھی کہ اس کے خاوند کے بھائیوں سلیم اور اللہ دتہ وغیرہ نے اسے پکڑ کر کسی کے پے در پے وار کر کے شدیدمضروب کر دیا جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پرہی دم توڑ گئی ۔مقتولہ کے ورثاء ظفر اقبال ،(بقیہ نمبر45صفحہ12پر )

ماجد نور ، منیراں بی بی کے مطابق نسیم بی بی کا خاوند مستقیم پانچ ماہ قبل طبی موت وفات پا گیا تھا ۔جس پر اس کے دیوروں نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ ہمارے بھائی کو زہر دے کر قتل کیا گیا تھا ۔جس کی قبر کشائی بھی ہو چکی ہے اسی رنجش کی وجہ سے ملزمان نے ہماری بہن کو نا حق قتل کر دیا ہے ۔ ماڈل تھانہ صدر پولیس نے مقتولہ کی نعش کو قبضہ میں لے کر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچا دیا ہے ۔سرائے سدھو سے نمائندہ خصوصی کیمطابق سرائے سدھو کے نواحی علاقے چک محسن کے رہائشی رضیہ بی بی اپنے خاوند کے ہمراہ اپنے رشتہ محمد حیات بھٹی کے گھر جار ہے تھے کہ ملزمان بالا جن میں ظہور حسین ولد غلام فرید مسلح کلہاڑی، محمد عمران ولد حیدر مسلح کلہاڑی ، اور چار نامعلوم افراد نے اچانک رضیہ کو اغوا کر نا چاہا مائی نے مزاحمت و شور واویلا کیا ملزمان بالا نے کلہاڑی کا وار رضیہ کے منہ پر کیا اور پھر بائیں کندے پر اور نامعلوم اشخاس نے پسٹل سے فائر کیا جو رضیہ بی بی کمر پر لگا جس وہ گر گئی اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جابحق ہوگئی وجہ عناد یہ ہے کہ چند ماہ قبل رضیہ کے اغوا کا مقدمہ ملزمان کے خلاف کروایا تھا چونکہ رضیہ واپس آگئی تھی اور ملزمان کو اس بات کا رنج تھا ، شجاعباد سے نمائندہ خصوصی کیمطابق تحصیل کمالیہ سے صائمہ بی بی شادی شجاع آباد کے رہائشی راشد سے ہوئی جس سے دو بچے ہیں صائمہ کے ورثا کے مطابق کہ صائمہ کے شوہر کا چال چلن درست نہ تھا جو غیر عورتوں کو لاتا تھا جس کی وجہ سے گھر میں جھگڑا رہتا تھا گزشتہ روز گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی اطلاع پر تھانہ صدر پولیس نے پہنچ کر لاش کو قبضہ میں لے کر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں پوسٹمارٹم کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے ورثا لاش کو کمالیہ لے کر روانہ ہو گئے ہیں تھانہ صدر پولیس نے مقتولہ صائمہ کے بھائی کی درخواست پر اس کے شوہر راشد، سسر سلیم اور دیور آصف کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جناح پارک کارہائشی شیراز احمد جس کی بیوی شازیہ ظفر شوہر سے روٹھ کر میکے بیٹھی ہوئی تھی کو شوہر شیراز احمد اور دیور محمد محسن منانے کیلئے گئے اور تینوں نہر صادق برانچ پر آگئے اسی دوران شیراز احمد اور اس کی بیوی شازیہ کے درمیان تکرارہوگئی جس پر شوہر نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور بھائی کی مدد سے دھکا دے کر نہر صادق برانچ میں پھینک دیا ڈوب جانے کے باعث بیوی شازیہ ظفر دم توڑگئی تاہم گہرا اندھیرا ہونے کے باعث ناکا می کے بعد رات گئے ریسکیو آپریشن روک دیا گیا اس موقع پر موجود مقتولہ کے شوہر شیراز احمد اور دیور محمد محسن کو پولیس نے حراست میں لے لیا اس موقع پر شوہر شیراز احمد اور دیور محمد محسن نے میڈیا کو بتایا کہ بیوی کو منانے کے دوران تکرارہوجانے پر شوہر نے بیوی شازیہ کو تھپڑ رسید کردیا جو نہر میں کود گئی بعد ازاں مقتولہ کے والد حکیم ظفر اقبال کی رپورٹ پر پولیس نے شوہر شیراز احمد اور دیور محمد محسن کے خلا ف قتل کا مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی۔ احمد پور سیال سے نامہ نگار کیمطابق نواحی علاقہ اڈا کسوآنہ کے نزدیک خوشاب مظفر گڑھ روڈ پر ٹریلر اور وین کے درمیان تصادم ہو گیا جس کے نتیجہ میں تین جانوروں کے بیوپاری موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ دو افرادشدید زخمی ہوگئے جن کو ٹی ایچ کیو ہسپتال ریفر کر دیا گیا ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...