” میں لاکھوں روپے کی مقروض تھی جس کی وجہ سے ان دو بندوں کے ساتھ یہ شرمناک کرناپڑا“ ادھیڑ عمر پاکستانی نژاد برطانوی خاتون کی ایسی حرکت جس کی وجہ سے اسے جیل میں ڈال دیا گیا

” میں لاکھوں روپے کی مقروض تھی جس کی وجہ سے ان دو بندوں کے ساتھ یہ شرمناک ...
” میں لاکھوں روپے کی مقروض تھی جس کی وجہ سے ان دو بندوں کے ساتھ یہ شرمناک کرناپڑا“ ادھیڑ عمر پاکستانی نژاد برطانوی خاتون کی ایسی حرکت جس کی وجہ سے اسے جیل میں ڈال دیا گیا

  


پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ایک پاکستانی نژاد ادھیڑ عمر خاتون غیر قانونی تارکین وطن کو اپنی کار کی ڈگی میں بند کرکے فرانس سے برطانیہ منتقل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلی گئی ہے۔

ویب سائٹ دی سن کی رپورٹ کے مطابق 52 سالہ شبنم ذیشان کا تعلق مانچسٹر کے علاقے بیری سے ہے اور وہ انسانی سمگلنگ کے بھیانک دھندے میں ملوث ایک گروہ کے لئے کام کررہی تھی۔ وہ اس گروہ کی ہدایت پر فرانس کے ساحلی شہر کیلے پہنچی تھی۔ فرانس سے دو غیر قانونی تارکین وطن کو اس نے اپنی گاڑی کی ڈگی میں چھپایا اور انہیں برطانیہ لانے کے لئے سفر کا آغاز کردیا مگر فرانسیسی سرحد پار کرنے سے پہلے ہی پولیس نے اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔

فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں غیر قانونی تارکین وطن میں سے ہر ایک نے انسانی سمگلروں کو اڑھائی ہزار پاﺅنڈ (تقریباً پونے چار لاکھ پاکستانی روپے) ادا کئے تھے تاکہ انہیں برطانیہ پہنچایا جاسکے۔ گینگ کی جانب سے شبنم ذیشان کو فی شخص 500پاﺅنڈ (تقریباً 75000 پاکستانی روپے) کی ادائیگی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ 14ہزار پاﺅنڈ کی مقروض تھی اور اپنے بیٹے کی شادی کے لئے بھی اسے رقم درکار تھی لہٰذا انہی مجبوریوں کے باعث وہ انسانی سمگلنگ کا دھندہ کرنے والے گروہ کی باتوں میں آگئی۔ عدالتی کارروائی کے بعد شبنم کو ایک سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کی کثرت کے باعث انہیں غیر قانونی طور پر برطانیہ منتقل کرنے والے گروہ بھی سرگرم ہوچکے ہیں اور روزانہ اس طرح کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...