تحریک انصاف کا رائیونڈ مارچ , تنقید کیوں?

تحریک انصاف کا رائیونڈ مارچ , تنقید کیوں?
تحریک انصاف کا رائیونڈ مارچ , تنقید کیوں?

  

جب سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے رائیونڈ مارچ کا اعلان کیا ہے مخالفین نے ان پر تنقید کے تیربرسانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، کچھ حکومتی نمائندگان تو اس معاملے میں اخلاقی حدود کو بھی پھلانگ چکے ، کبھی ڈنڈہ بردار فورس بنانے کا اعلان کیا تو کبھی  شدید مذاحمت اور ٹانگیں توڑنے کے اعلان کیے جاتےہیں اور کہیں گنڈاسے اور ٹوکے لیے کارکن ٹی وی پر جلوہ افروز ہوتے رہے، جب اتنی دھمکیوں اور بیان بازیوں کا کچھ اثر دکھائی دینے کے بجائے نون لیگ پر ہی تنقید ہونے لگی تو وزیراعلی پنجاب نے گونگلوؤں ( شلجموں) پر سے مٹی جھاڑی اور اعلان کیا کہ نون لیگ مزاحمت نہیں کرے گی اور کسی احتجاج کو نہیں روکے گی ۔

ویسے سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعلی پنجاب پہلے ان فنکاروں کو روکنے کے لیے میدان میں کیوں نہ نکلے اور جب جذبات ہر طرف بھڑک اٹھے تو پھر مٹی ڈالنے آ گئے ۔ آخر کپتان کو  رائیونڈ مارچ کا اعلان  کیوں کرنا پڑا اس کی بنیادی وجہ تو پانامہ لیکس ہی ہے جس پر حکومت نے کمال درجے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا ہے سادہ سے معاملے کی تحقیق کے لیے ابھی تک ٹی او آرز ہی نہیں بنائے جاسکے .

ویسے یہ معاملہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا اس سے پہلے سانحہ ماڈل ٹاون میں بھی وزیر اعلی پنجاب  میاں شہباز شریف نےاعلان کیا تھا کہ اگر اس معاملے میں انگلی ان کی طرف اٹھی تو استعفی دے دیں گے لیکن جب انہی کے بنائے ہوئے جسٹس باقر کمیشن نے اس کی ذمہ داری ان پر ڈالنے کی طرف اشارہ دیا تو وہ رپورٹ ایسی سرد خانے کی نظر ہوئی کہ اسے منظر عام پر ہی نہیں آنے دیا گیا  پاناما لیکس کے ایشو پر بھی یہی کیا گیا حالانکہ یہ بڑا سادہ سا معاملہ تھا کہ وزیر اعظم کا نام ان لیکس میں آیا ہے تو ان سے تحقیقات بھی ہونی چاہئیں لیکن وہ شریف برادران ہی کیا جو کسی معاملے میں پکڑائی دے جائیں ایک طویل احتجاج کے بعد بھی جب میاں نواز شریف کسی بھی طرح پانامہ لیکس کی تحقیقات میں سنجیدہ نظر نہ آئے تو عمران خان کو رائیونڈ مارچ کا فیصلہ بھی کرنا ہی پڑا اس کے موقع محل اور فوائدونقصانات پر بحث الگ موضوع ہے لیکن اس کے خلاف جس طرح نون لیگ اور ان کے ہمنواء میدان میں آئے وہ حیران کن ہے.

رائیونڈ کوئی نو گو ایریا نہیں ہے کہ جہاں جلسہ کرنے پر نون لیگی رہنماوں نے اتنا واویلہ مچایا دیا یہ وہ ہی رائیونڈ ہے جہاں پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا تو شاندار استقبال ہوتا ہے اور پگڑیاں پہنی جاتی ہیں لیکن جب پاکستان کا اپنا ایک سیاسی رہنماء وہاں جلسہ کرنے کا اعلان کرتا ہے تو حکومتی رہنماء اتنا شور مچاتے ہیں کہ ہر دلیل اس میں دب جاتی ہے  اور اسے لوگوں کے گھروں کا گھیراو قرار دے کر سیاسی کلچر کے لیے غلط مثال قرار دیا جاتا ہے حالانکہ اگر رائے ونڈ نوازشریف کے محلات پر قومی خزانے سے اٹھنے والے اخراجات کی بات کی جائے تو یہ سرکاری طور پر ڈکلیرڈ ’وزیراعظم ہاوس‘ ہے ، جس کے اخراجات پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں ہے اگر عمران خان کی طرف سے اس کے اردگرد کسی جگہ پر احتجاجی جلسہ کرنے کی بات کی جائے تو یہ کسی کا ذاتی گھر ہے ، جس کے اردگرد کسی احتجاجی جلسہ کا جواز نہیں ہے یہ عجیب دو رخی پالیسی ہے کہ جب سرکاری اخراجات کرنے کے متعلق پوچھا جائے تو اسے ڈکلیئرڈ وزیراعظم ہاوس قرار دے دیا جائے اور جب وزیراعظم ہاوس کے پاس احتجاج کی بات کی جائے تو اسے نجی رہائش گاہ قرار دے دیا جائے   آخر  سرکاری اخراجات والی عمارت کے قریب احتجاج کو کیسے کسی کی نجی ذندگی میں مداخلت قرار دیا جاسکتا ہے  اور اس کے مقابلے میں عمران خان کے گھر بنی گالہ کے باہر دھرنے کی بات کی جاتی ہے اب عمران خان کا گھر اس کا ذاتی گھر ہے وہ ڈکلیئرڈ وزیراعظم ہاوس یا سرکاری عمارت نہیں کہ اسے وزیراعظم کی رہائش گاہ سے تشبیہہ دے کر مقابلے بازی پر اترآیا جائے ، اس لیے رائیونڈ مارچ کا مقابلہ کرنے کے اعلانات اور تنقید نے مسلم لیگ ن کا ہی قد کم کیا ہے .

کپتان کے مارچ کے کوئی بھر پور سیاسی اثرات ہوتے ہیں یا نہیں اس سے پانامہ لیکس کی تحقیقات کی کوئی سبیل نکلتی ہے یا نہیں یہ تو بعد کا مرحلہ ہے لیکن ایک بات تو طے ہے کہ کپتان کے رائیونڈ مارچ کے اعلان نے حکمرانوں پر ہیجان اور لرزہ طاری کر رکھا ہے اور کسی بھی سیاستدان کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ اس کے حریف اس سے کتنے خوفزدہ ہیں اور کپتان کا خوف تو حکمرانوں پر راج سنگھاسن سنبھالنے سے ہی طاری ہے اور شاید جب تک وہ حکمران رہیں اس خوف سے نجات پانا ان کے لیے ممکن نہ ہو سکے ۔

مزید :

بلاگ -