ہائی کورٹ کی 150سالہ تقریبات ،عوام کو احساس دلائیں گے ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے متحرک عدلیہ موجود ہے : چیف جسٹس

ہائی کورٹ کی 150سالہ تقریبات ،عوام کو احساس دلائیں گے ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے ...
ہائی کورٹ کی 150سالہ تقریبات ،عوام کو احساس دلائیں گے ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے متحرک عدلیہ موجود ہے : چیف جسٹس

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ عدالت عالیہ لاہور کی 150سالہ تقریبات کو عالیشان انداز میں منایا جائے گااور عام آدمی کو احساس دلائیں گے کہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک با صلاحیت اور متحرک عدلیہ موجود ہے، انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات کے انتظامات کےلئے کم از کم ایک سال درکار ہوتا ہے لیکن ہم نے اسے دو مہینے میں کر کے دکھانا ہے۔ چیف جسٹس نے ان خیالات کے اظہار عدالت عالیہ کی 150 سالہ تقریبات کے حوالے سے منعقدہ فل کورٹ اجلاس کے موقع پر کیا۔

فل کورٹ اجلاس میں سینئر ترین جج مسٹر جسٹس شاہد حمید ڈار، مسٹر جسٹس یاور علی اور مسٹر جسٹس محمد انوار الحق سمیت عدالت عالیہ لاہور اورا سکے بنچوں پر کام کرنے والے تمام فاضل جج صاحبان نے شرکت کی۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالت عالیہ لاہور کی 150 سالہ تقریبات منانے کےلئے عدالت عالیہ، ضلعی عدلیہ اور صوبے بھر کی بار ایسو سی ایشنز متحد ہیں اور صوبائی حکومت کو بھی اس حوالے سے فعال کردار اداکرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یکم نومبر سے شروع ہونے والی تقریبات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور ہر ایونٹ اور ایکٹویٹی کےلئے عدالت عالیہ کے ججز پر مشتمل کمیٹیاں بھی بنا دی گئی ہیں، تمام ایوینٹس کےلئے لاہور ہائی کورٹ کا ریسرچ سنٹر مذکورہ کمیٹیوں کی معاونت کرے گا۔

پانچ ہزار سال پرانے انسان کی سی ٹی سکین، ایسی خوفناک چیزوں کا انکشاف کہ سائنسدانوں کے رونگٹے کھڑے ہوگئے

چیف جسٹس نے کہا کہ یکم نومبر کو تقریبات کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب منعقد ہوگی جس کا آغاز عدالت عالیہ کی تاریخی عمارت پر قومی پرچم لہرا کر کیا جائے گا، غبارے اور کبوتر فضا میں چھوڑے جائیں گے، آرٹ اور لٹریچر کے مقابلوں کی نمائش بھی ہوگی۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ صوبہ بھر سے طلبہ، بچے اور دیگر فنکار اور لکھاری ان مقابلوں میں حصہ لے سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ قانون کی عملداری سے متعلق فوٹو گرافی، آئی پینٹنگ، عدالت عالیہ کی پرانی تصاویر کے مجموعے اور مضمون نویسی کے حوالے سے مقابلے منعقد ہوں گے، جس کےلئے خواہش مند افراد اور بچے 31 اکتوبر تک اپنے شاہکار عدالت عالیہ لاہور میں جمع کروا سکتے ہیں، تمام شاہکار یکم نومبر کی نمائش میں پیش کئے جائیں گے اور دس دسمبر کو عدالت عالیہ کے فائنل پروگرام کے موقع پر انعامات دیئے جائیں گے۔

فاضل چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پانچ، بارہ اور انیس نومبر کو بالترتیب بہاولپور، راولپنڈی اور ملتان بنچوں پر بھی سمپوزیم منعقد کئے جائیں گے، جس میں متعلقہ بار ایسو سی ایشنوں کی مکمل معاونت اور شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا، مزید برآں سول سوسائٹی اور انتظامیہ کو بھی متحرک کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے فل کورٹ میں بتایا کہ ضلعی عدلیہ بھی 150 سالہ تقریبات کے حوالے سے بہت پر جوش ہے اور 5، 12،19 اور26 نومبر کو صوبے کے اضلاع میں بھی قانون کی عملداری کے حوالے سے کانفرنسز اور سمپوزیم کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 26 نومبر اور 3 دسمبر کو پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں لاءفیسٹول ہوں گے ۔

چیف جسٹس نے بتایاکہ یکم دسمبر کو عدالت عالیہ کی تاریخ پر مبنی کافی ٹیبل بک کی لانچنگ اور عدالت عالیہ میوزیم کا افتتاح بھی ہوگا، تقریبات کی گرینڈ اختتامی تقریب ایوان اقبال لاہور میں 10 دسمبر کو ہوگی ۔ مزید برآں نمائشی کرکٹ میچز، ثقافتی و میوزیکل ایونٹس اور عدالت عالیہ لاہور کی تاریخ اور عالیشان عمارت کے حسن پر مبنی دستاویزی فلمیں بھی تقریبات کا حصہ ہوں گی۔ دستاویزی فلموں کی مقامی و قومی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیر بھی کی جائے گی۔ 

مزید : لاہور


loading...