وزیر اعظم کی لندن آمد، نئی مشکل کھڑی ہوگئی

وزیر اعظم کی لندن آمد، نئی مشکل کھڑی ہوگئی
وزیر اعظم کی لندن آمد، نئی مشکل کھڑی ہوگئی

  


 لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم کی لندن آمدپر ایک ایسی مشکل کھڑی ہوگئی کہ جان کر آپ حیران ہوں گے۔ تفصیلات کے مطا بق گذشتہ روز وزیر اعظم جب جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے بعد لندن پہنچے تو پاکستان ہائی کمیشن کی طرف سے لندن کے لُوٹن ائیرپورٹ پر صحافیوں کی بریفننگ کا انتظام کیا گیا تھا،جس کے لئے صحافیوں کو لندن ہائی کمیشن سے خصوصی کوچ کے ذریعے لُوٹن لے جایا گیا۔جس کے تقریبا چار گھنٹے بعد وزیر اعظم کی فلائٹ لوٹن ائیرپورٹ پر پہنچی اور جب وزیر اعظم ائیرپورٹ پر پہنچے تو انہیں اسی وقت بتایا کہ آپ کی صحافیوں سے بریفنگ کا ائیرپورٹ کی خصوصی لابی میں انتظام کیا گیا ہے تو وزیر اعظم نے خیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کمیشن سے استفسار کیا کہ آج آپ نے یہاں ائیرپورٹ پر صحافیوں کو کیوں بلایا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے اس بات پر بھی ناراضگی کاا ظہار کیا ہے کہ آپ نے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کو بھی گذشتہ چار گھنٹے سے ادھرپابند کیا ہوا۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم جب صحافیوں کو بریفننگ دینے کیلئے آئے تو غم وغصے کااظہار ان کے چہرے سے عیاں تھا۔دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن اور مسلم لیگ (ن) میں شدید اختلافات چل رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہائی کمیشن نے مقامی مسلم لیگ (ن)کی تنظیم کوبتائے بغیر لوٹن ائیرپورٹ پر صحافیوں کی بریفنگ کا انتظام کیا تھا۔اس حوالہ سے مسلم لیگ (ن)کی مقامی تنظیم کے عہدیدارن نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ چونکہ ہائی کمیشن کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر وزیر اعظم سے ملنے کا موقع نہیں ملتا اس لئے انہوں نے قومی خزا نے کو نقصان پہنچاتے ہوئے ائیرپورٹ پر کمرہ کرایہ پر لیا جس کے لئے کرسیاں بھی ہائی کمیشن آفس سے لے جائی گئیں ۔اس کے علاوہ صحافیوں کو لیکر جانے اور واپس لانے کے لئے بھی لگثری کوچ بُک کی گئی جس پر کم و بیش پانچ سے چھ ہزار پاؤنڈ خرچ ہوئے ۔جبکہ ہائی کمیشن کے دس سے زائد اہلکار سارا دن ائیرپورٹ پر ڈیوٹی سر انجام دیتے رہے۔اس حوالہ سے موقف جاننے کے لئے جب پاکستان ہائی کمیشن لندن میں پریس اتاشی منیر احمد سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ صحافی برادری کی ہمیشہ سے یہ شکایت رہی ہے کہ جب بھی وزیر اعظم لندن تشریف لاتے ہیں ان سے باقاعدہ بات چیت کا بندوبست نہیں کیا جاتا ،اسی وجہ سے اس مرتبہ ہائی کمیشن صاحب نے ائیرپورٹ پر باقاعدہ پریس بریفننگ کا انتظام کیا تھا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب بھی وزیر اعظم برطانیہ تشریف لاتے ہیں ہائی کمیشن صاحب ہی ان کو ائیرپورٹ پر ان کا خیر مقدم کرتے ہیں لہذا پارک لین میں ہائی کمیشن کو موقع نہ ملنے کا الزام بے بنیاد اور لغو ہے۔

مزید : برطانیہ


loading...