ترک صدر کی جرأتِ رندانہ

ترک صدر کی جرأتِ رندانہ

تُرکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اسلام کو کیوں دہشت گردی سے منسلک کیا جا رہا ہے ہم نے آج تک مسیحی، یہودی یا بُدھ دہشت گردی کا نام نہیں سُنا تو ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ کا لفظ کیوں استعمال کیا جا رہا ہے،یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ نیو یارک میں مسلم انجمنوں کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ روہنگیا مسلمان اِس وقت اضطراب بھری زندگی گزار رہے ہیں،جن کی نسل کشی کی جا رہی ہے،لیکن ہم نے اسے کسی مذہب سے منسلک نہیں کیا، مَیں بُدھ مت کو اعتدال پسند مذہب ماننے والوں سے کہتا ہوں کہ وہ ایسی اصطلاحات کا استعمال بند کریں جن سے پوری دُنیا کے مسلمانوں کی دِل آزاری ہو۔انہوں نے میکسیکو میں زلزلے سے ہونے والی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترک ہلالِ احمر اِس وقت میکسیکو میں امدادی کارروائیاں کر رہی ہے،کیونکہ اسلامی تعلیمات امتیازی برتاؤ سے بالاتر ہو کر خدمتِ خلق کا درس دیتی ہیں، بعض ممالک میں اگر ایک شخص بھی مارا جاتا ہے تو اسے سانحہ قرار دیا جاتا ہے،جبکہ دس لاکھ افراد کی موت پر صرف زبانی جمع خرچ ہی پر اکتفا ہوتا ہے،مگر دینِ اسلام کی روشنی میں ایک معصوم انسان کی موت پوری انسانیت کی موت کے مترادف ہے۔

ترک صدر نے جو بات کہی ہے ویسے تو دُنیائے اسلام کے ہر لیڈر کو نہ صرف اس کا احساس و ادراک ہونا چاہئے،بلکہ اِس طرح کا اظہار خیال بھی برملا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پوری دُنیا کے جن ذہنوں میں اسلام، اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کے بارے میں دہشت گردی کے حوالے سے کوئی غلط تصور راسخ ہو گیا ہے وہ ختم ہو سکے،لیکن ترک صدر کو اِس بات پر ہدیۂ تبریک پیش کرنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے نیو یارک میں بیٹھ کر ایک ایسی اصطلاح کی جانب دُنیا کی توجہ دلائی ہے جو دو وجوہ کی بنا پر مروج ہو رہی ہے۔یہ اصطلاح استعمال کرنے والے دیدہ و دانستہ ایسا کر رہے ہیں یا پھر گمراہ عناصر ہیں جنہیں اسلامی تعلیمات کا علم نہیں۔

اسلامی دہشت گردی نام کی کوئی چیز دُنیا میں وجود نہیں رکھتی۔ جو لوگ خود کو مسلمان کہتے ہیں یا جن کے مسلمانوں والے نام ہیں اگر وہ کسی قسم کی دہشت گردی میں ملوث ہیں تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ یہ اسلامی دہشت گردی ہے،کیونکہ ان لوگوں نے تو مسلمانوں کو بھی نشانہ بنا رکھا ہے،وہ مسلمانوں کی گردنیں کاٹ رہے ہیں،مسلم ممالک کے علاقوں پر قبضہ کر کے نام نہاد خلافت قائم کرنے کے دعوے کر رہے ہیں، مسلمان عورتوں سے اخلاق باختہ حرکتیں کر رہے ہیں یہ لوگ تو مسلمان کہلانے کے حق دار بھی نہیں،لیکن اُن کی آڑ میں مسلمان ممالک کو نشانہ بنانے کے لئے ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ کی اصطلاح وضع کر لی گئی ہے، اسلام کا نام لینے والے بعض دہشت گرد تو مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات کو بھی نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے اور رمضان المبارک میں روزہ داروں کو مسجدوں میں لہولہان کرنے سے گریز نہیں کرتے، ایسے لوگوں کے قبیح عمل کو اسلام کے ساتھ نتھی کرنا ظلم ہے اور دُنیائے اسلام کے عظیم قائد رجب طیب اردوان نے اِسی جانب توجہ دِلا کر مسلمانوں کی ایک بڑی خدمت کی ہے اور دُنیا کو بروقت یاد دہانی بھی کرا دی ہے۔

پاکستان کے سائنس دانوں نے نیو کلیئر شعبے میں اپنی مہارت کا لوہا منوانے کے کام کا آغاز کیا تو پوری دُنیا میں اس کے خلاف ایک نئے انداز کا پروپیگنڈہ شروع کر دیا گیا کہ پاکستان جو ایٹم بم بنا رہا ہے یہ درحقیقت ’’اسلامی بم‘‘ ہے پھر عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوؤں سمیت پوری غیر مسلم دُنیا اِس پروپیگنڈے کو لے اُڑی اور ہر جگہ اسلامی بم کی اصطلاح منفی معنوں میں استعمال ہونے لگی،حالانکہ جب امریکہ نے ایٹم بم بنایا تھا اور اس میں معاونت یہودی سائنس دانوں نے کی تھی تو کسی نے اسے مسیحی یا یہودی بم نہیں کہا،پھر امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پر یہ بم استعمال بھی کر لیا،آج تک کسی دوسرے مُلک نے ایسا نہیں کیا،لیکن ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی ’’سعادت‘‘ حاصل کرنے والا ملک دوسرے ممالک کو اِس حوالے سے نہ صرف غیر ذمہ دار سمجھتا ہے،بلکہ پاکستان کے بارے میں آج تک یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ اس کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں،حالانکہ پاکستان میں اس کی حفاظت کا انتہائی اعلیٰ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم موجود ہے اور آج تک ایٹمی حوالے سے کوئی معمولی سا حادثہ بھی نہیں ہوا اِس لئے پاکستان کے متعلق یہ پروپیگنڈہ بدنیتی پر ہی مبنی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح ممالک کے اس اسلحے کو مسیحی، یہودی یا ہندو بم کے نام سے یاد نہیں کیا جاتا، کچھ ایسا ہی حال ’’اسلامی دہشت گردی ‘‘ کی اصطلاح کا ہے۔

دہشت گردی صرف وہی نہیں ہے جس میں چند افراد یا ان کی بنائی ہوئی تنظیمیں ملوث ہوتی ہیں بعض اوقات غیر ذمے دار حکومتوں کا طرزِ عمل بھی دہشت گردی کی سرحدوں کو چھونے لگتا ہے،اس وقت میانمار کی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ جو طرزِ عمل اختیار کر رکھا ہے وہ کسی دہشت گردی سے کم ہے،حکومت کی حمایت کے ساتھ برمی افواج اور بُدھ بھگشوؤں کے گروہ مسلمانوں کے خلاف کھلی دہشت گردی کے مرتکب ہو رہے ہیں ان کے گھر جلا رہے ہیں،جن میں رہنے والے لوگ بھی زندہ جل جاتے ہیں اُن کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر اُنہیں تڑپنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ سسک سسک کر مر جاتے ہیں۔خواتین سے زیادتی اور بچوں سے بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔لیکن دُنیا بُدھ مت کے پیرو کاروں کی اس دہشت گردی پر نہ صرف خاموش ہے،بلکہ اس کی پردہ پوشی میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی تو بنفس نفیس میانمار کے دورے پر پہنچ گئے تھے۔دورے کا مقصد صدر آنگ سان سوچی کو بظاہر حوصلہ دینا تھا، خود مودی جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں کر رہے ہیں وہ بھی ہندو دہشت گردی ہے۔

پورے بھارت میں گاؤ رکھشا کے نام پر نہ صرف مسلمانوں بلکہ دوسری اقلیتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اگر کوئی زمیندار گائے کے ریوڑ کو اپنے ڈیرے پر لے جاتے ہوئے نظر آ جائے ۔حتیٰ کہ کسی کے گھر میں پڑے ہوئے فریزر میں گوشت موجود ہو تو اسے گائے کا گوشت قرار دے کر اُسے مار دیا جاتا ہے،گائے کے پجاریوں کا یہ طرزِ عمل انسانیت کی توہین کے مترادف ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ بیف کا کاروبار کرنے والے ہندو اب بھی دُنیا کے کئی ممالک کو گائے کا گوشت برآمد کرتے ہیں اور ان کا دھرم اُنہیں اِس سے نہیں روکتا،لیکن مسلمانوں کا خون پورے بھارت میں ارزاں ہے،بہت سے علاقوں میں تو بکرے کے گوشت اور چکن کی دکانیں بھی بند کرائی جا رہی ہیں اس ہندو گردی کو کسی نے ہندو دہشت گردی کا نام نہیں دیا۔تُرک صدر نے اپنے دورۂ بھارت کے دوران بھی اِس جانب توجہ دِلا دی تھی اور اب پوری دُنیا کو خبردار کر دیا ہے کہ دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ نتھی نہ کیا جائے۔

مزید : اداریہ