خود کشی کا راستہ (2)

خود کشی کا راستہ (2)
 خود کشی کا راستہ (2)

  


ایک ہندوستانی فلم میں ایک جج کہتے ہیں کہ جب دو لوگ آپس میں کسی بات پر لڑتے ہیں تو ایک کہتا ہے کہ مَیں تمہیں عدالت میں دیکھ لوں گا۔ یہ جملہ عدالتی نظام پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے، مگر ہمارے ہاں بدقسمتی سے اب ایسا اعتماد کم کم دکھائی دیتا ہے۔ اس معاملے میں قابل افسوس بات یہ نہیں ہے کہ چند وکلاء ایسا کر رہے ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان واقعات پر سینئر وکلاء خاموش ہیں۔ وہ انہیں یہ نہیں بتا رہے ہیں کہ وہ اپنے رویے سے پورے عدالتی نظام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ طالبان نے مقبولیت حاصل کرنے کے لئے عدلیہ سے نفرت اور فوری انصاف کے نعرے کو استعمال کیا تھا۔

امریکی صدر روز ویلٹ نے کہا تھا کہ جمہوریت کو عوام کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اگر یہ عوام کے لئے کچھ نہیں کرے گی تو لوگ دوسری طرف دیکھیں گے۔ کچھ ایسی ہی صورت میڈیکل کے مقدس شعبے کی ہے۔ مریض مر رہے ہوتے ہیں اور ڈاکٹر ہڑتال کر رہے ہوتے ہیں۔

ہوس زر میں مبتلا کچھ ڈاکٹرغیر ضروری آپریشن کرتے ہیں۔ لیبارٹری ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں۔ انتہائی مہنگی ادویات کو نسخوں کا حصہ بناتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ نہیں کہ کچھ ڈاکٹر ایسا کر رہے ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ اس مقدس پیشے سے وابستہ انتہائی معزز پروفیسر صاحبان بھی نوجوان ڈاکٹروں کو یہ بتانے کا ’’رسک‘‘ نہیں لیتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ اور وہ دُنیا بھر میں اس پیشے کا کیسا چہرہ پیش کر رہے ہیں؟

یہاں ہمیں امریکہ کے اہم ترین طبی اداروں کے سینئر پروفیسر یاد آ رہے تھے جنہوں نے صدر اوبامہ سے احتجاج کیا تھا کہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لئے ویکسیئن لگانے والے ورکروں کو کیوں استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے صدر اوبامہ کو یاد دلایا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور امریکی قوانین کے مطابق انٹیلی جنس کے معاملات میں میڈیکل اور ریلیف ورکروں کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خبر پڑھ کر ہمیں اس لئے دکھ ہوا تھا کہ ہمارے ہاں شاید ڈاکٹروں کو یہ علم بھی نہیں ہے کہ اقوام متحدہ یا امریکی قوانین میں طب کے شعبہ سے وابستہ لوگوں کا خصوصی استحقاق ہے اور ان کو خاصی عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ جب افراد یا قومیں قومی ہمدردی سے محروم ہو جاتی ہیں تو ان کی سوچ بیمار ،بلکہ مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔

چند روز قبل ایک دوست ایک واقعہ سنا رہے تھے کہ ایک پاکستانی بیورو کریٹ ایک برطانوی یونیورسٹی میں پڑھنے کے لئے گئے۔ ان کا ہاسٹل ان کے تعلیمی ادارے سے قدرے فاصلے پر تھا۔ انہیں اکثر دیر ہو جاتی۔ ان کے پروفیسر نے انہیں سائیکل خریدنے کا مشورہ دیا۔ وہ ایک شارٹ کورس پر گئے تھے۔ چار ماہ بعد جب ان کا کورس ختم ہوا تو ان کے پروفیسر نے دریافت کیا کہ وہ سائیکل کا کیا کریں گے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ اسے ہاسٹل میں چھوڑ جائیں گے تاکہ کوئی دوسرا استعمال کر لے۔ اس پر پروفیسر صاحب نے انہیں نوٹس بورڈ پر سائیکل برائے فروخت کا اشتہار لگانے کا مشورہ دیا۔ تیسرے دن ایک انگریز نوجوان آ گیا۔

اس نے سائیکل کا معائنہ کیا اور اس کے بعد قیمت دریافت کی۔ ان صاحب نے وہ سائیکل 160پونڈ کی خریدی تھی اور تقریباً تین ماہ کے استعمال کے بعد ان کے خیال میں 90پونڈ مناسب قیمت تھی۔ انہوں نے ڈیمانڈ بتائی۔ انگریز نوجوان نے 90پونڈ ادا کئے اور سائیکل لے کر چلا گیا۔ تیسرے دن وہ صاحب یہ دیکھ کر حیران ہوگئے کہ وہ انگریز نوجوان دوبارہ آ گیا۔ انہوں نے اس کی آمد کی وجہ دریافت کی تو انگریز نوجوان نے کہا کہ ’’مَیں نے انٹرنیٹ سے چیک کیا ہے ایسی نئی سائیکل کی قیمت 160پونڈ ہے جبکہ اس صورت میں یہ تقریباً120 پونڈ کی ہے اور میں ڈسٹرب ہوں کہ کہیں میں نے آپ کی کسی مجبوری کا فائدہ تو نہیں اٹھایا اور آپ نے کم قیمت پر یہ سائیکل فروخت کی ہے۔‘‘ پاکستانی بیورو کریٹ یہ سُن کر حیران ہوئے کہ کوئی ایسے بھی سوچ سکتا ہے۔ انہوں نے نوجوان سے دریافت کیا کہ وہ کیا چاہتا ہے؟ اس پر انہیں جو جواب ملا وہ ہلا دینے والا تھا۔’’آپ براہ کرم مجھ سے 30پونڈ لے لیں، کیونکہ میں اپنی زندگی اس احساس کے ساتھ نہیں گزار نا چاہتا کہ مَیں نے کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھایا تھا‘‘۔

یہ واقعہ سننے کے بعد میں اس سوچ میں پڑ گیا ہوں کہ کیا ہم اس انداز سے سوچ بھی سکتے ہیں؟ آج سرسید زندہ ہوتے تو ان سے اس سوال کا جواب لینے کے لئے ضرور درخواست کرتا، کیونکہ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہمارے مزاج قبائلی ہوتے جا رہے ہیں۔قبیلے کے ہر فرد کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے قبیلے کے افراد کو حق پر سمجھے اور ان کے غلط یا درست ہونے کے معاملے میں دِل اور دماغ کو استعمال نہ کرے۔ قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا زیادہ مشکل نہیں کہ ایسی سوچ افراد، قبیلے اور قوم کو خود کشی کے راستہ کی طرف لے جاتی ہے۔ (ختم شد)

مزید : کالم