10ایکڑ تک کاشتکاروں کو ترجیح بنیادوں پر باردانہ اور پرمٹ دیا جائے

10ایکڑ تک کاشتکاروں کو ترجیح بنیادوں پر باردانہ اور پرمٹ دیا جائے

لاہور(کامرس رپورٹر)سیکریٹری خوراک گنے کے چھوٹے فارمر کے لیے ڈیلی پرمٹ کوٹہ مختص کروائیں کین ایکٹ میں تبدیلی کر کے پانچ ایکڑ تک 20فیصدپانچ سے دس ایکڑ تک 30فیصدڈیلی پرمٹ کی پابندی کریں لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ کے فیصلہ کے مطابق 10ایکڑ تک کاشتکاروں کو ترجیح بنیادوں پر باردانہ اور شو گر ملیں پرمٹ دینے کی پابندی کریں ۔ صدر سمال فارمرز راؤ افسر نے سیکریٹری خوراک کو لکھے گئے خط میں یاد دہانی کرائی کہ گذشتہ دوران سیزن گندم عدالت عالیہ لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ کے معزز جج صاحبان نے سیکریٹری خوراک ، ڈائریکٹر فود باردانہ کی بندش کی رٹ پر یہ واضع ریمارکس دیے تھے کہ آئندہ خریداری گندم یا کوئی بھی کاشتکاروں سے متعلق مسئلہ ہو تو 10ایکڑ تک کے کاشتکاروں کو ترجیح بنیادوں پر ریلیف دیا جائے ۔ کریشنگ سیزن شروع ہونے کو تقریباً ڈیرہ ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے جنوبی پنجاب میں گذشتہ سالوں کی نسبت تقریباً 6لاکھ ایکڑ گنے کی زیادہ کاشت ہوئی ہے ۔ ان حالات کے پیش نظر چھوٹا کاشتکار جو کل پنجاب کے کاشتکاروں کی تعداد میں 80سے 82فیصدہیں ۔

ان کے لیے پرمٹ کا ڈیلی کوٹہ مختص کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ بڑے کاشتکار جن کا 100سے لیکر 500ایکڑ تک کے فارم اور شو گر ملیں جن کے ذاتی ہزاروں ایکڑ گنا ہے ان کی لائنیں سپیشل ہوتی ہیں وہ پرمٹ کی پابندی سے مستثنیٰ ہوتے ہیں اور کچھ سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے بھی ان لوگوں کو گنا سرکاری قیمتوں پر بیچنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی جبکہ دو سے دس ایکڑ تک کے کاشتکاروں کو بمشکل دس سے پندرہ دن کے بعد ایک پرمٹ ملتا ہے اور وہ غریب بے بس کاشتکار سال بھر کی محنت امدادی قیمت پر بیچنے کیبجائے 130سے 140روپے فی من پرائیوٹ کنڈوں پر مل مالکان کو بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ انسانی حقوق اور سمال فارمر کو جو مراعات قانونی طور پر حاصل ہیں ان کے پیش نظر آپ سے جنوبی پنجاب کے چار اضلاع مظفر گڑھ ، رحیم یار خان ، راجن پور ، لیہ کے تقریباً 65ہزار کاشتکار مطالبہ کرتے ہیں کہ کین ایکٹ میں تبدیلی کر کے ان غریبوں کے حقوق کے لیے آپ فوری کین کمشنر ز کو ہدایت جاری کریں کہ وہ فوری طور پر ان ملوں کو سر کولر جاری کریں کہ وہ آئندہ سیزن میں اپنے اپنے سرکل آفس سے ایک سے دس ایکڑ تک کے کاشتکاروں کی لسٹیں تیار کروائیں اور ان کو پرمٹ کا خصوصی حصہ جو مقرر ہو دیا جائے ۔ حکومت پنجاب کین کمشنرز کی طرف سے خریداری کمیٹی میں نامزد ہونے والے کسان تنظیموں کے ممبران کو اس عمل میں شریک کیا جائے تاکہ چھوٹے اور غریب کاشتکاروں کے حقوق پامال نہ ہوں بصورت دیگر کاشتکار اپنے حقوق کے حصول اور انصاف کے لیے معزز عدالت میں جانے پر مجبور ہو جائیں گے ۔

مزید : کامرس