پارکنگ سٹینڈوں پر ٹھیکیداروں کا راج ، لوٹ مارجاری

پارکنگ سٹینڈوں پر ٹھیکیداروں کا راج ، لوٹ مارجاری

 لاہور(جاوید اقبال +حافظ عمران انور) ضلعی انتظامیہ شہر کے تفریحی مقامات اورمارکیٹوں میں واقع پارکنگ سٹینڈوں پر اوور چارجنگ پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔شہر میں جگہ جگہ پارکنگ سٹینڈوں پر ٹھیکیدار مافیا اور کمپنی کے نمائندوں کی ملی بھگت سے موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں کھڑی کرنے والے شہریوں اور سائلین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے ۔پارکنگ سٹینڈوں کا عملہ سب سے زیادہ اوور چارجنگ تفریح گاہوں ،ریلوے اسٹیشن ،بڑے پلازوں اور پرائیویٹ اسپتالوں کے باہر اور اندر ٹھیکے پر دئیے گئے سٹینڈوں پر کر رہا ہے ۔ اس مد میں لوٹ مار کا بڑا مرکز چڑیا گھر کا پارکنگ سٹینڈ ہے اسی طرح عجائب گھر کی پارکنگ سٹینڈ پر فی گھنٹہ پارکنگ فیس وصول کی جا رہی ہے جہاں 20روپے فی گھنٹہ کی بجائے 30سے 40روپے فی گھنٹہ فیس وصول کی جا رہی ہے جبکہ اعظم کلاتھ مارکیٹ کے باہر سر کلر روڈ پر غیر قانونی طور پر فٹ پاتھوں اور سروس روڈز پر قائم کئے گئے پارکنگ سٹینڈ پر 50روپے فی گاڑی وصول کئے جاتے ہیں موٹر سائیکل سواروں کے لئے پارکنگ فیس 10روپے مقرر ہے جبکہ اس کے بر عکس شہر بھر میں 15سے 20روپے فی گھنٹہ وصول کی جا رہی ہے ۔اس حوالے سے انجمن تحفظ شہریاں نے لاہور کے صدر حاجی غلام حسین منہاس اور پیشنٹ پروٹیکشن کونسل آف پاکستان کے صدر جاوید دین دھاریوال نے اس پر سخت احتجاج کیا اور وزیر بلدیات منشا ء اللہ بٹ سے ملاقات کی اور انہیں تحریری طور شکایات کی جس میں کہا گیا کہ لاہور پارکنگ کمپنی کے زیر اہتمام شہر میں 182 پارکنگ سٹینڈوں پر اوور چارجنگ ہو رہی ہے جہاں غیر قانونی طور پر فی گھنٹہ کے حساب سے پارکنگ فیس وصول کی جا رہی ہے پارکنگ مافیا نے تفریح گاہوں کو بھی نہیں بخشا جا رہا جہاں مقرر کردہ نرخوں سے زائد نرخوں وصول کئے جا رہے ہیں ۔ریس کورس ،باغ جناح ، جلو پارک ماڈل ٹاؤن پارک،گلشن اقبال پارک گریٹر اقبال پارک کے باہر سڑکوں کے کنارے اپنی مدد آپ کے تحت گاڑیاں کھڑی کرنے والوں کو بھی نہیں بخشا جاتا ۔وہاں غیر قانونی طور پر موٹر سائیکل کھڑی کرنے والوں سے 50سے 100،وزٹ کے لئے آنے والی سکولوں کی بسوں کے مالکان سے 300سے 500پارکنگ فیس وصول کی جاتی ہے ۔اس پر صوبائی وزیر منشا ء اللہ بٹ نے کہا کہ معاملات کی تحقیقات کی جائیں گی ۔شہریوں کو لوٹنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔انہہوں نے کہا کہ چیف کارپوریشن آفیسر لاہور اور پارکنگ کمپنی کے حکام سے جواب طلب کیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1