فاٹا میں پولیس اور عدالتی نظام نافذ ، صدر مملکت نے منظوری دیدی

فاٹا میں پولیس اور عدالتی نظام نافذ ، صدر مملکت نے منظوری دیدی

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) پولیس کا دائرہ کارفاٹا تک بڑھاتے ہوئے پولیس ایکٹ 1861نافذ کر دیاگیا۔حکومت نے لیویز نظام کو پولیس کے نظام سے بدل دیا ۔صدر مملکت ممنون حسین نے اہم تبدیلیوں کی منظوری دیدی۔فاٹا میں پنجاب، سندھ ، خیبر پختونخوا کی طرز کا پولیس نظام نافذ ہوگیا۔ذرائع کے مطابق حکومت نے پولیس کا دائرہ اختیار وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا تک بڑھاتے ہوئے علاقے میں پولیس ایکٹ 1861نافذ کردیا ہے جس کے تحت علاقے میں پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح پولیس نظام کا نفاذ ہوگیا ہے۔ فاٹا میں لیویز کے نظام کو پولیس کے نظام سے بدل دیا گیا ہے، فاٹا کے لیویز کے دفاتر پولیس سے تبدیل کردیے گئے ہیں اور اب لیویز کمانڈنٹ کے بجائے آئی جی پولیس سربراہ ہوں گے جبکہ نائب تحصیلدار سے کم عہدے کے شخص کو پولیس افسرتعینات نہیں کیا جا سکے گا اور نا ئب تحصیلدار کی جگہ سب انسپکٹر کا عہدہ ہوگا۔۔ذرائع نے بتایا فاٹا کے بنیادی عدالتی نظام میں بھی تبدیلیاں کردی گئی ہیں جس کے بعد فاٹا میں پاکستان کے دیگرعلاقوں کی طرز کا عدالتی نظام لاگو ہوگا۔ذرائع کے مطابق اس کا نوٹیفکیشن بھی وزارت سیفران جلد جاری کرے گی۔ 12 ستمبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی تھی جس میں حکومت نے ایف سی آر کے خاتمے کیلئے نیا بل لانے کا فیصلہ کیا تھا۔دوسری جانب اس معاملے پرنجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کا کہنا تھا حکومت نے یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا ہے، اس چیز پر غوروخوض کے بعد یہ کام ہونا چاہیے تھا۔ فاٹا میں کوئی پولیس اسٹیشن نہیں ، وہاں پولیس کے رہنے کی جگہ بھی بنانا ہوگی، اتنے بڑے علاقے میں ایک دم اس قسم کافیصلہ کرنا سمجھ سے بالا ترہے، اس کیلئے تیاری بہت ضروری ہے، کاغذپر اس طرح کے فیصلے کرنے سے بدنامی پھیلنے کا شبہ ہے۔

فاٹا نظام

مزید : صفحہ اول