فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والے امیدواروں کا الیکشن لڑنا لمحہ فکریہ، این اے 120میں کامیابی میر مؤقف کی تائید ، نواز شریف

فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والے امیدواروں کا الیکشن لڑنا لمحہ فکریہ، این اے 120میں ...

 لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک228آن لائن ) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ این اے 120 میں کامیابی سے عوام نے جی ٹی روڈ پر اپنائے گئے مؤقف کی تائید کر دی ہے۔اسلام آباد سے لاہور تک سفر کے دوران جی ٹی روٖڈ پرمیں نے جو باتیں کیں وہ میر اصولی مؤقف ہے اور عوام نے اس سفر میں باہر نکل کر میرے مؤقف کی تائید کی۔ این اے 120 کے الیکشن میں شیر پر مہر لگا کر بھی لوگوں نے میرے مؤقف کی تائید کی۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے بعد اپنے بیٹے حسن نواز کے دفتر کے باہر میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ بعض فرقہ وارانہ سوچ کی حامل جماعتوں کے امیدواروں کی این اے 120 کے الیکشن میں شرکت ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے، سیاست میں یہ رجحان خطرناک ہو سکتا ہے۔ وطن واپسی اور نئے چیئرمین نیب کی تقرری سے متعلق سوالات کے جواب میں سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے کہا ہے کہ وہ لاہور سے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے غائب ہونے کے معاملے کا خود جائزہ لیں اور پتہ چلائیں کہ یہ کس کا کام ہے۔ این اے 120سے غائب ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے بارے میں انکوائری کرائیں، کالعدم تنظیموں کے الیکشن لڑنے کے حوالے سے میڈیا میں جو باتیں آئی ہیں وہ پوری قوم کیلئے باعث تشویش ہیں ،جمہوری قوتوں کو ان چیزوں کا نقصان ہو گا،وزیراعظم سے مشاورت ہوئی ہے، مشاورت کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا، بیگم کلثوم کاعلاج چل رہاہے ، عوام جلد صحتیابی کی دعا کریں۔ نواز شریف نے کہا کہ وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کے بعد جب وہ بذریعہ سڑک اسلام آباد سے لاہور کیلئے روانہ ہوئے تو اس دوران چار دن تک جو خطابات کئے ان میں جو موقف اختیار کیا گیا تھا وہ درست ثابت ہوا ہے اور عوام نے بھی اس کی تائید کی ہے، حلقہ این اے 120 کے ضمنی الیکشن کے نتائج قوم کے سامنے آچکے ہیں اور عوام نے میرے موقف کی نا صرف تائید کی بلکہ اس کی تائید میں مہریں بھی لگائی ہیں۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ ضمنی الیکشن میں کالعدم تنظیموں کے امیدواروں نے مذہبی بنیادوں پر ووٹ مانگا اور کالعدم تنظیموں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی، جس پر نواز شریف نے کہا کہ خدانخواستہ صورتحال کوئی اور رخ بھی اختیار کر سکتی ہے، جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں نئے چیئرمین نیب کے تقرر پر کوئی بات ہوئی ہے تو نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں نئے چیئرمین نیب کے تقرر پر کوئی بات نہیں ہوئی ۔بیگم کلثوم کی صحت یابی کے حوالے سے نواز شریف نے کہا کہ ان کی تیسری سرجری کافی بڑی ہوئی ہے ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا ہے ابھی ان کا علاج چل رہا ہے، اب آپ لوگ ان کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کریں جب نواز شریف سے سوال کیا گیا کہ وہ وطن واپس کب آئینگے تو اس پر انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔لندن میں ہو نے والے اجلاس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مشاورت اچھی بات ہے ،مشورے سے آگے ہی بڑھنا چاہیے،آئندہ بھی مشاورت ہوتی رہے گی۔پارٹی صدر بننے کے حوالے سے انہوں نے سوال پر سوال کر دیا،ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ اب آپ پارٹی کی صدارت کاعہدہ سنبھالیں گے؟تو انہوں نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے؟

نواز شریف

لندن ( این این آئی228آن لائن )وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران پارٹی قیادت اور شریف خاندان پر قائم نیب مقدمات سے متعلق امور زیر بحث نہیں آئے۔یہ بات انہوں نے نیویارک سے واپسی پر لندن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ہونے والی تفصیلی ملاقات کے بعد صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہی۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اورنواز شریف سے ہونے والی ملاقات میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور نواز شریف کے دونوں صاحبزادے حسن اور حسین نواز بھی موجود تھے۔شاہد خاقان عباسی نے لاہور کے حلقہ این اے 120میں کلثوم نواز کی جیت کوجمہوریت کی فتح قرار دیا۔نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بیگم کلثوم نواز کا ابھی علاج ہو رہا ہے اور اس کے مکمل ہونے کے بعد ہی وطن واپسی ممکن ہوسکے گی۔بی بی سی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ملاقات کے دوران سینیٹ میں منظور ہونے والے انتخابی اصلاحات کے بل کے تناظر میں پارٹی کی قیادت کے حوالے سے امور زیر بحث آئے اور ملاقات میں شریف خاندان پر چلنے والے نیب کے مقدمات پر بھی باہمی مشاورت کی گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ملاقات میں اہم معاملات پر مشاورت ہوئی ہے۔حسن نواز کے دفتر میں مسلم لیگ (ن)کے رہنماؤں کی ملاقات ہوئی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو مستقبل کے حوالے سے اپنے آئندہ لائحہ عمل سے آگاہ کیا نواز شریف اگلے تین سے چار ماہ لندن ہی میں رہیں گے۔ دوسری جانب بیگم کلثوم نواز کے متعلق بھی ذرائع کا دعوی ہے کہ وہ آئندہ چار سے چھ ماہ سفر نہیں کر سکیں گی ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیو یارک کا دورہ کامیاب رہا ، اقوام متحدہ میں اپنا موقف اچھے طریقے سے بیان کیا ہے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کو اپنے دورہ امریکہ اور پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ نواز شریف نے ان کے دوریہ امریکہ کو سراہا اور کہا کہ آپ نے پاکستان کی کشمیر کی اچھی ترجمانی کی۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا دورے کے دوران اہم ملاقاتیں ہوئیں اور جنرل اسمبلی اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا اس اجلاس میں پارٹی صدارت پرابھی کوئی بات نہیں ہوئی ، ایک سوال کے جواب میں کہ آپ لندن سے اسلام آباد جائیں گے یا لاہور ، پر وزیر اعظم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے کہا ں بھیجنا چاہتے ہیں۔ ایک اور سوال پر کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف لند ن آرہے ہیں کیا آپ ان سے مل کر جائیں گئے انہوں نے کہا نہیں اب میں واپس جاوں گا۔

شاہد خاقان

مزید : صفحہ اول