’’کالم نگاری کے لیے مطالعہ ناگزیر ‘‘مجیب الرحمٰن شامی کا یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہورتربیتی ورکشاپ سے خطاب

’’کالم نگاری کے لیے مطالعہ ناگزیر ‘‘مجیب الرحمٰن شامی کا یونیورسٹی آف ...
’’کالم نگاری کے لیے مطالعہ ناگزیر ‘‘مجیب الرحمٰن شامی کا یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہورتربیتی ورکشاپ سے خطاب

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان کالمسٹ کلب اور یوای ٹی میڈیاسوسائٹی کے اشتراک سے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہورمیں ایک ورکشاپ بعنوان ’’میں لکھاری کیسے بن سکتا ہوں؟‘‘ منعقد ہوئی۔ جس سے چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان مجیب الرحمٰن شامی، معروف کالم نگار اور دانشور اوریا مقبول جان، چیئر مین پاکستان کالمسٹ کلب ایثار رانا ، جنرل سیکرٹری ذبیح اللہ بلگن، ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر رانا تنویرقاسم، ڈاکٹر عمرانہ مشتاق چیئرپرسن خواتین ونگ ، عابد کمالوی چیئرمین ادبی ونگ، عنابغ علی چیئرمین یوتھ کلب، عمران ناصر، کامران ساقی ویگر نے بھی خطاب کیا جبکہ سٹوڈنٹس کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مجیب الرحمٰن شامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ المیہ یہ ہے کہ لکھا زیادہ اور پڑھا کم جاتا ہے۔ کالم نگاری کے لیے مطالعہ ناگزیر ہے ۔، جن طلبا کا پڑھنے کا دور ہے وہ لکھنے میں مگن ہیں،لکھنے والوں کو محض تنقید برائے تنقید کے عمل سے دور رہنا چاہئے، نتیجہ خیز کالم نگاری کے لئے اپنے نالج کو بڑھائیں، جس قدر آپ کا نالج زیادہ ہوگا آپ کی تحریر اس قدر جاذب ہوگی اور بغیر کسی سفارش کے اخبارات کی زینت بن سکتی ہے ۔اوریامقبول جان نے کہا کہ صاحب مطالعہ اور حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھنے والے قلم کاروں کی تحریروں میں جان ہو تی ہے ۔ نوجوانوں کو تحریر کے میدان میں آکر اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کا اظہار کرنا چاہیے۔ لکھنے اور پڑھنے والے معاشرے ہی زندہ رہتے ہیں۔

ایثار رانانے کہا کہ لکھنے والے سب سے پہلے جینے کا سلیقہ سیکھیں، پھر سوچئے اور اس کے بعد کا مرحلہ لکھنے کا ہے۔ دنیا میں کوئی دو انسان ایک جیسے نہیں ہوئے، نہ کسی کے پاس نورجہاں کی آواز آئی نہ کوئی اور غالب و اقبال آئے گا۔ اس لیے آپ کا اسلوب یا سٹائل ہی آپ کا کالم ہے۔ ضروری ہے کہ آپ لکھنے کے لئے اپنے لئے ایک فکری نظام متعین کریں۔ ایمان و زبان کے بغیر آپ کالم نگار نہیں بن سکتے، ایمان آپ کی آئیڈیالوجی ہے، جبکہ زبان آپ کا گہرا مطالعہ ہے۔ ذبیح اللہ بلگن نے کہا کہ خو د کو ذہنی طور پر محنت کا عادی بنائیے۔زیادہ اہم چیز کو پہلے مکمل کریں اس کی جانب پوری توجہ دیں۔چیلنج کو قبول کریں اور کوشش میں تسلسل کو یقینی بنائیں۔ ظاہر ہے ہر شخص کی لکھنے کی عادات مختلف ہوتی ہیں۔ مطالعہ کی عادت اپنائیں۔ محسوس کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق نے کہا کہ عام طور پرہم یہی خیال کیا جاتا ہے کہ عظیم کام صرف وہی لوگ سرانجام دے پاتے ہیں جنہیں پیدائشی طورپر ذہانت اورمہارت ودیعت ہوتی ہے۔لیکن انسانوں کی بہت بڑی تعداد اپنی حقیقی صلاحیت سے بے خبر بھیڑ کے ساتھ عمرگزار دیتی ہے۔

ان صلاحیتوں کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے؟یہ ہے اصل سوال۔اس کا سب سے بہتر طریقہ اپنے روزمرہ معمولات میں ترتیب وتنظیم لانا ہے۔ یوای ٹی کے انجینئرز میں ادبی ذوق اور صحافت سے لگا ؤخوش آئند ہے ۔ڈاکٹر رانا تنویرقاسم نے کہا کہ لکھنے کے لیے قرآن نے ایک صحافتی ضابطہ اخلاق وضع کیا ہے ۔ جس کی بنیاد تحقیق اور چھان بین ہے ۔اپنی خواہش کو خبر یا مضمون کے رنگ میں پیش کرکے بے بنیاد اور جھوٹی کہا نیوں کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔ ورکشاپ میں عابد کمالوی،انابغ علی، ہمامیر، کرن وقار، عمران ناصر، کامران ساقی، مشتاق شاکر اور یوای ٹی میڈیا سوسائٹی کے صدر رحمان حبیب،نے بھی شرکت کی ، معزز مہمانوں کو آخر میں شیلڈز بھی پیش کی گئیں ۔

مزید : لاہور