گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 32

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 32

  


ہمیں قانون ساز اداروں میں بڑے نشیب و فراز سے گزرنا اور نت نئی دشواریوں سے عہدہ بر آنا پڑتا ہے۔ 1920ء کی مقننہ میں کام بہت آسان تھا کیونکہ اس میں 25 فیصد نامزد ارکان کا ایک مضبوط گروپ تھا۔ ان میں سرکاری اور غیر سرکاری دو قسم کے لوگ شامل تھے۔ انہیں تقریر کرنے اور رائے دہی کا پورا پور اختیار حاصل تھا اورفطری بات ہے کہ یہ اختیار مقتدر وزارت کی حمایت ہی میں ا ستعمال ہوتا تھا۔ اس گروپ کی وموجودگی سے حکومت کو استحکام حاصل تھا۔ نیز یہ حقیقت بھی تھی کہ کابینہ کے تمام اجلاسوں کی صدارت گورنر خود کرتے تھے اور حکومت کو مذمت کی قراردادوں سے محفوظ رکھتے تھے۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 31 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایک امریکی سفیر نے ایک بار مجھ سے کہا تھا ’’تم لوگوں کو تعمیری کام کرنے کے لئے فالتو وقت کہاں ملتا ہوگا کیونکہ تم ہمیشہ قرار داد مذمت کی مخالفت ہی میں سرگرم رہتے ہو۔‘‘ بدقسمتی سے منتخب نمائندے ملک کی خدمت کے مقابلہ میں وزارتی کرسیوں کے حصول کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور انکتہ چینی اور جارحانہ حملوں کا یہ سلسلہ مستقل طور پر جاری رہتا ہے۔ آپ کو ایسی حزب اختلاف شاذہی ملے گی، جو حکومت کے کسی کام کی تائید میں ایک کلمہ خیر کی روادار بھی ہو۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی موجودگی محض برائے مخالفت ہے خواہ وہ جس چیز کی مخالفت کررہے ہیں۔ وہ صحیح ہو یا غلط۔ ایشیائی ممالک کے قانون ساز اداروں میں جب تک ایسی مخالف پارٹیاں نہیں آتیں جو وسیع القلب ہوں اور قومی مفادات کو جماعتی اور نجی مفادات پر ترجیح دیں۔ اس وقت تک مغربی طرز کی جمہوریت ایشیا کی سرزمین میں ایک ناتواں پودے سے زیادہ ثابت نہ ہوگی۔ خوش قسمتی سے ہندوستان اور پاکستان میں انگریزی تعلیم اور برطانوی انتظامیہ کے ساتھ طویل وابستگی کے سبب انگریزی طرز جمہوریت کے معنی بخوبی سمجھے جاتے ہیں لیکن یہ جمہوریت اگر آئندہ کبھی معرض وجود میں آئی تو اس میں حزبِ اختلاف کے غیر ذمہ د ارانہ طرز عمل کی بناء پر ترمیم ناگزیر ہوگی۔ ( اکتوبر 1958ء کے انقلاب کے بعد 1955ء کا آئین منسوخ کردیا گیا اور اس جگہ جو آئین نافذ کیا گیا اس کا ڈھانچہ برطانوی نہیں ہے۔)

میں نے دوسری بار 1925ء کے انتخابات میں بھی حصہ لیا اور ووٹوں کی خاصی بڑی تعداد سے کامیاب ہوا۔ اکتوبر 1931ء میں جب تیسرے انتخابات قریب تھے تو میں شملہ سے بذریعہ ٹرین یہاں پہنچا لیکن لاہور آنے سے پہلے ہی یہ اطلاع ملی کہ میری والدہ کے چچا نواب سرخدا بخش انتقال کرگئے ہیں۔ موسم ابھی تک گرم تھا۔ انہوں نے خوب مرغن کھانا کھایا اور آخر میں تربوز بھی۔ اس کے بعد آرام سے سوگئے۔ صبح چار بجے ان پر دل کا دورہ پڑا اور تقریباً اسی وقت جاں بحق ہوگئے۔ مجھے سخت صدمہ ہوا اور میں آئندہ انتخابات کے بارے میں بھی مایوس ہوگیا کیونکہ میرے گزشتہ انتخابات کا بندوبست سرخدا بشخص نے ہی کیا تھا لیکن اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور میں نے اپنے آپ سے کہا ’’اے نادان فیروز! جو کچھ کرتا ہے، خدا کرتاہے۔ وہ اپنی رضا کی تکمیل کے لئے افراد کو آلہ کار بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ماضی میں تمہاری کامیابی کے لئے اسی کی رضا سے سب کام ہوئے تھے، ممکن ہے تمہیں بلا مقابلہ کامیاب کرادے۔‘‘ اس کے چند ہی ماہ کے بعد میرے کٹر مخالف چودھری غلام حسین لاہور میں میرے مکان پر تشریف لائے اور کہنے لگے ’’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں تمہاری مخالفت نہیں کروں گا۔‘‘ میں بلامقابلہ منتخب ہوگیا۔

1938ء کا ذکر ہے، میں لندن میں ایک نوجوان خاتون سے، جو مادہ پرست تھیں، بات چیت کررہا تھا۔ انہوں نے کہا ’’اگر میرا خدا بھی مجھ پر اتنا ہی مہربان ہوتا، جتنا مہربان تمہارا خدا تم پر ہے، تو میں بھی اس پر عقیدہ رکھتی۔‘‘

صوبائی مجلس مقننہ (1920ء تا 1936ء) کی مصروفیات جتنی نئی تھیں، اسی قدر دلچسپ بھی تھیں۔ کانگریس پارٹی نے انتخابات میں تعاون نہیں کیا تھا اور ہر جگہ انہوں نے ایسے امیدوار کھڑے تھے جو نیچی ذات سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے گوجرانوالہ شہر سے میونسپلٹی کے ایک خاکروب بنسی لال کو، لاہور سے ایک نائی راجہ رام کو انتخاب میں کھڑا کیا تھا۔ وہ دونوں کامیاب ہوگئے۔ بنسی لال کا معاملہ ذرا مشکل تھا، کیونکہ وہ نیچی ذات سے تعلق رکھتا تھا اور اونچی ذات کے ہندو اس کے ساتھ میل جول کے روادار نہ تھے چنانچہ چائے کے وقفہ میں میری پارٹی نے اسے چائے پر مدعو کیا کیونکہ مسلمان ذات پات پر عقیدہ نہیں رکھتا اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ایک ہی میز پر کھانا کھانے سے ناپاک نہیں ہوجاتا۔ اس تجربہ سے بنسی لال کا سراونچا ہوگیا اور کانگریس پارٹی کے نیتاؤں کے ساتھ اس کے رویہ میں سخت گیری پیدا ہوتی گئی۔ انجام کار ہندو وزراء نے بھی اسے اپنی چائے پارٹیوں میں مدعو کرنا شروع کردیا تاکہ وہ ان کے خلاف ووٹ نہ دے۔

راجہ رامنائی انتہائی مہذب آدمی تھا۔ جب وہ اپنا کالا کوٹ پہنتا تو اتنا ہی عزت دارمعلوم ہوتا، جتنا کوئی دوسرا رکن ہوسکتا تھا۔ ایک بار ایک پٹھان رکن انارکلی میں اس کی دکان پر گئے اور داڑھی منڈوانے کے بعد پانچ روپیہ کا نوٹ دیا۔ راجہ رام اس کی رزگاری لینے کے لئے جانے لگا تو پٹھان نے پوچھا ’’کہاں جارہے ہو؟‘‘

اس نے کہا ’’آپ کے لئے ریزگاری لینے‘‘

پٹھان نے جواب دیا کہ ’’جب کوئی معمولی آدمی تمہاری دکان پر شیو بنوانے کیلئے آئے تو جو جی چاہے اس سے وصول کرنا، لیکن جب صوبہ سرحد کا کوئی پٹھان تمہارے پاس آئے تو اس سے پانچ روپیہ سے کم وصول نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ بعض پٹھان نہایت خود پسند ہوتے ہیں اور اس خود پسندی کی قیمت اداکرنے میں سرموتامل نہیں کرتے۔

لاہور کے ایک سرکردہ وکیل سرفضل حسین، قانون ساز اسمبلی میں مسلمانوں کے لیڈر تھے۔ 1919ء کے مارشل لاء میں فوجی حکام کی طرف سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت کے ایک ممتاز صنعت کار اور بینکر لالہ ہرکشن لال جیل میں تھے۔ انہیں بغاوت کے الزام میں سزا ہوگئی تھی لیکن انہوں نے لاہور میں بعض بھوکے لوگوں کو آٹا فراہم کیا تھا۔ سرفضل حسین کو گورنر کی طرف سے وزارت کی پیشکش ہوئی کیونکہ وہ ایوان کی سب سے بڑی پارٹی یونینسٹ کے لیڈر منتخب ہوئے تھے۔ سرفضل حسین نے اصرار کیا کہ ہرکشن لال کو رہا کیا جائے اور انہیں بھی وزیر مقرر کیا جائے۔ وہ اس مطالبہ میں کامیاب ہوئے اور اس طرح انہوں نے ایک اچھی اور مضبوط وزارت قائم کرلی۔

ہندوستان میں اگر کسی فرد نے جمہوریت کی تائید میں سب سے زیادہ گرانقدر حصہ ادا کیا ہے تو وہ سرفضل حسین تھے۔ انہوں نے یونینسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔ جس نے پنجاب میں 1927ء سے 1947ء تک حکومت کی۔ سرفضل حسین نے گاؤں میں مجھے اس مضمون کا تار بھیجا کہ ایک اہم شخصیت نے جو تمہاری رشتہ دار بھی ہے۔ گورنر سے کہا ہے کہ تم اس کے جگری دوستوں میں سے ایک شخص کو جس کی سفید داڑھی ہے اور وہ سرکاری ٹھیکیدار ہے، پارٹی کی لیڈر شپ کے لئے حمایت کرو۔ میں نے فوراً جوابی تار بھیجا، اگر ایسا ہوا تو یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہوگا کیونکہ میری رائے میں سرفضل حسین کسی شک و شبہ کے بغیر ہمارے لیڈر ہیں اور صحیح معنوں میں اس لائق ہیں کہ وزراء میں ان کا درجہ سرفہرست ہو۔ اس طرح وہ جنوری 1921ء میں پنجاب کے وزیراعلیٰ مقرر ہوئے۔ دوسرے تمام اپنے اپنے اثر ورسوخ کے تحت منتخب ہوئے تھے لیکن سرفضل حسین نے مسلمانوں، سکھوں اور ہندوؤں کو ایک غیر فرقہ وارانہ جماعت کے جھنڈے تلے متحد کردیا اور اس کا نام ’’یونینسٹ پارٹی‘‘ رکھا۔ ان سب کے درمیان اتحاد کی قدر مشترک ان کا یہ عزم تھا کہ وہ دیہی باشندوں کے مفاد کا تحفظ کریں گے۔ اسی عزم کی بدولت دیہی علاقوں کے نمائندے مذہبی عقیدوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر وزارت کی تشکیل کے لئے متحد ہوگئے۔ (جاری ہے)

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 33 پڑھنے یہاں کلک کریں

مزید : فادرآف گوادر