زلزلے دراصل کیوں آتے ہیں ، ماہرین ارضیات نے بتادیا

زلزلے دراصل کیوں آتے ہیں ، ماہرین ارضیات نے بتادیا
زلزلے دراصل کیوں آتے ہیں ، ماہرین ارضیات نے بتادیا

  


اسلام آباد (نیوز ڈیسک) 2005ءکے تباہ کن زلزلے کے 14 سال بعد آج ایک دفعہ پھر شدید زلزلے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر آ گئے۔ زلزلے کا شمار ان قدرتی آفات میں ہوتا ہے کہ جن کی پیشن گوئی تا حال ممکن نہیں ہو سکی اور عام لوگوں میں اس کی وجوہات کے بارے میں بھی آگاہی بہت کم پائی جاتی ہے۔ زلزلے کی وجوہات کے متعلق بہت سی باتیں عام پائی جاتی ہیں لیکن ماہرین ارضیات نے اس مظہر فطرت پر طویل تحقیقات کے بعد زلزلوں کی وجوہات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیر زمین ارضیاتی پلیٹیں یا بڑی بڑی چٹانیں جب شدید دباﺅ کے تحت ٹوٹتی ہیں تو زمین کی سطح پر اس کے شدید اثرات محسوس ہوتے ہیں، جنہیں ہم زلزلے کا نام دیتے ہیں۔ جب زیر زمین دو ارضیاتی پلیٹیں یا بڑی چٹانیں ایک دوسرے کے ساتھ رگڑتی ہیں تو ان کے کچھ حصے ٹوٹ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں توانائی کی ایک انتہائی طاقتور لہر پیدا ہوتی ہے جو کہ قشرارض کی طرف پھیلتی چلی جاتی ہے۔ جب یہ لہر زمین کی اوپری سطح تک پہنچتی ہے تو اسے بری طرح سے ہلا کر رکھ دیتی ہے، جس کے نتیجے میں زمین کے پھٹنے اور عمارتوں کے منہدم ہونے جیسے واقعات پیش آتے ہیں ۔

ارضیاتی پلیٹوں کے ایک دوسرے کے سامنے والے غیر ہموار حصے جب تک دوبارہ ایک دوسرے کے اندر پھنس کر ساکت نہیں ہوجاتے زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس ہوتے رہتے ہیں۔ جس جگہ پر ارضیاتی پلیٹیوں یا چٹانوں میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے اسے زلزلے کا فوکس کہا جاتا ہے، جبکہ فوکس کے عین اوپر واقع جگہ کو زلزلے کا ایپی سینٹر کہا جاتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جو زلزلے سے شدید ترین متاثر ہوتا ہے۔ زلزلے سے ہونے والے نقصان کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ اس کی زیر زمین گہرائی اور شدت کتنی ہے۔ سطح زمین سے گہرائی جتنی کم ہوگی سطح زمین کے اوپر تباہی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔

قدرتی عوامل کے علاوہ بعض انسانی سرگرمیاں بھی زلزلوں کا سبب بنتی ہیں۔ زیر زمین کئے جانے والے ایٹمی دھماکے بھی ایک ایسی ہی مثال ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کو ٹیسٹ کرنے کے لئے زیر زمین کئے جانے والے بڑے دھماکے انتہائی طاقتور زلزلہ پیدا کرسکتے ہیں۔ رکٹر سکیل پر 6 سے 8 شدت کے زلزلے انتہائی تباہ کن تصور کئے جاتے ہیں ۔ اگر ان زلزلوں کا مرکز زمین سے بہت زیادہ گہرائی پر ہو تو نقصان کا اندیشہ کم ہوتا ہے۔

آج پاکستان میں آنے والے زلزلے کی شدت پاکستانی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق5.8  بتائی گئی ہے۔ اس کا مرکز  جہلم کے 12 کلومیٹر شمال میں 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا ۔

مزید : ماحولیات


loading...