اپنی غلطی شریف آدمی پرڈال دیں!

اپنی غلطی شریف آدمی پرڈال دیں!
اپنی غلطی شریف آدمی پرڈال دیں!

  


لاہورشہر کی ایک مصروف شاہراہ پر جا رہا تھا کہ ایک تیز رفتار گاڑی نے میری گاڑی کو ٹکر ماری، خوش قسمتی سے میری گاڑی کا تو خاص نقصان نہیں ہوا مگرجلد باز ڈرائیور کی ہیڈ لائٹ اور بمپراُکھڑ کر سڑک پر گر گیا اور پیچھے سے آنے والے ایک مزدے نے اس کا بھی قیمہ بنادیا، اگلے چوک پر اس جلد باز نے مجھے روک لیا اور اپنی ہی غلطی کے نقصان کا مجھ سے تقاضاکرنے لگا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ ٹریفک پولیس پہلے ہی اس کی غیرمحتاط ڈرائیونگ پراس کا پیچھا کررہی تھی،ایک منٹ میں پولیس پہنچ گئی اور اسے کہنے لگی کہ" اپنی سب غلطیاں اس شریف آدمی پرڈال دو، پہلے تم سگنل کی خلاف ورزی کرکے نکلے، پھر اس گاڑی کو ہٹ کیا اوراب یہاں آکر سارا ملبہ اس بندے پر ڈال رہے ہو"۔ خیر معاملہ رفع دفع ہوا تو میں کافی دیرسوچتا رہا کہ یہاں ہر دوسرے بندے کو منزل پر پہنچنے کی کتنی جلدی ہے؟ اور ہر کوئی اپنی غلطی دوسرے پر ہی کیوں ڈال کر خود کو معصوم ثابت کرناچاہتاہے؟یہ معاملہ ایک عام شہری سے لے کرحکمرانوں تک نظرآتاہے۔

اگلے ہی روز میڈیا پرڈینگی مچھرکے حملے بریکنگ نیوزبن گئے، خیال آیا کہ جب ہم لوگ ڈینگی سے واقف ہوئے تو وہ شہبازشریف کا دور تھااور انہوں نے اس وائرس کے خاتمے کے لیے افسران کی بھی نیندیں حرام کررکھی تھیں ، ڈینگی یہاں کے لوگوں کے لیے ایک نیامچھر تھا، میاں شہبازشریف نے انتظامیہ کو اتنا الرٹ کیا،شہریوں کو آگاہی دی،سکولوں اور دیگراداروں میں سپرے کرائے گئے اور لاروا تلف کرنے کے لیے غیرملکی ماہرین کی بھی خدمات طلب کی گئیں یوں انہوں نے انتظامیہ،ڈاکٹرز،ارکان اسمبلی اور عام شہریوں کوبھی اس مچھرکی افزائش روکنے کے طریقے اورعلاج زبانی یاد کرادیئے،ہرسال موسم شروع ہوتے ہی انتظامیہ حرکت میں آتی اور اس مچھر کے متاثرین کی شرح انتہائی کم رکھنے کی کوششیں نظرآتیں، اب کی بارچونکہ ایسا نہیں کیاگیا،پہلے ہم تبدیلی کی خوشیاں مناتے رہے اورحکومت کے سبزباغوں کی ممکنہ بہاروں میں گم رہے،پھرحکومت سازی اور چیلنجزسے نمٹنے کی کوشش میں لگ گئے اور اوپرسے کرپٹ شخصیات سے پائی پائی کاحساب لینے پرتوجہ رہی،عثمان بزدارکے پاس اتنابڑا صوبہ چلانے کاتجربہ تھا،نہ ساتھ چلنے والوں کو سائیں پسند تھا اورافسران میں سے بھی بعض چابی پرچلنے والے لوگ ہیں جب تک انہیں متحرک نہ کریں وہ بھی پہلے توگھرسے نہیں نکلتے اورنکل آئیں تودفترکا اے سی کون چھوڑ کرجائے؟ پھرڈینگی جیسامسئلہ ویسے بھی غریبوں کاہے،امیروں کے گھروں میں مچھر کی کیاجرات کہ وہ داخل ہونے کاسوچ بھی سکے، یوں کرتے کراتے صورتحال گھمبیرہوگئی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر سے 10 ہزار افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جب کہ صرف صوبہ پنجاب سے ڈھائی ہزار کے قریب کیسز سامنے آئے ہیں اورحدتویہ ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا فرماتے ہیں کہ ڈینگی کے معاملے پربعض پارٹیاں سیاست کررہی ہیں، اس مسئلے کو سیاسی جماعتیں فٹ بال نہ بنائیں۔

یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اپنی غلطی کوبھی دوسروں پرڈال دیناخود کاکمال سمجھاجاتاہے اورسیاسی میدان میں تویہ فن آنا بہت ضروری ہے ، چاہیے تویہ تھا کہ قبل ازوقت حکومت کی آنکھیں کھل جاتیں اور افسران کو اپنے کام پرلگادیتی مگرجب مصیبت سرپرآچکی ہے تو وزیراعلیٰ صاحب نے اورکچھ سمجھ نہیں آئی توصالحہ سعید کوڈینگی کاذمہ دارقراردے کر انہیں قربانی کابکرابنادیا اورخود سمیت دیگرسب کے اعمال پر پردہ ڈال دیا۔غلطی سنوارنے کے لیے مخالف کے تجربات سے سیکھنے میں ہرج نہیں،اورکچھ نہیں توخاموشی سے میاں شہبازشریف کے ڈینگی پرلکھے ایک کالم کوہی پڑھ لیں توآپ کواس معاملے میں اپنی راہیں متعین کرنے میں آسانی ہوگی ،نہیں تو صالحہ سعید سے بچ جانے والا ملبہ کسی اورشریف آدمی پرڈال دیں،چاہے شہبازشریف اورنوازشریف دونوں پر ہی ڈال دیں۔اتنے میں ڈینگی سیزن گزرجائے گا،شہری جہاں مہنگائی کے جن سے مقابلہ کررہے ہیں وہیں ڈینگی سے بھی نمٹ لیں گے۔

(بلاگرمناظرعلی سینئر صحافی اور مختلف اخبارات،ٹی وی چینلزکے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں،آج کل لاہورکے ایک نجی ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں، عوامی مسائل اجاگر کرنے کیلئے مختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں،اس فیس بک لنک پران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، www.facebook.com/munazer.ali)

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...