کورونا کے اثرات سے نکلتے نکلتے معیشت کو دو برس لگیں گے!

کورونا کے اثرات سے نکلتے نکلتے معیشت کو دو برس لگیں گے!

  

عالمی بینک کی رپورٹ ' گلوبل اکنامک پراسپیکٹس‘ میں پاکستان سے متعلق کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے سخت معاشی اقدامات کے باعث ملک میں سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے اور نجی کھپت میں بھی خاصی کمی آئی ہے۔ پاکستان میں معاشی سال 2018-19 میں معیشت کی شرح نمو 3.3 فیصد رہی جو ملک میں مجموعی پیداوار اور مانگ کی گراوٹ ظاہر کرتی ہے۔پاکستانی روپے کی قدر میں بھی کمی آئی۔ گزشتہ سال پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے چھ ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کا آغاز کیا تھا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو کہا گیا تھا کہ پاکستانی کرنسی کو 'فری فلوٹنگ ایکسچینج ریٹ‘ پر لانا ہوگا یعنی کہ پاکستان کے روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ میں روپے کی مانگ اور رسد کرے گی۔ ماضی میں پاکستان کا اسٹیٹ بینک مارکیٹ میں ڈالر کی رسد کو زر مبادلہ کے ذخائر سے کنٹرول کر رہا تھا جس کے باعث ڈالر کی مانگ میں اضافے کے باوجود روپے کی قدر نہیں گرتی تھی۔ آئی ایم ایف کی اس شرط کو پورا کرنے کے ساتھ ہی پاکستانی روپے کی قدر میں فوری کمی آئی اور مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا۔

مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکومت نے مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے شرح سود میں اضافہ کیا تو چھوٹے اور درمیانے درجے کی کاروباری کمپنیوں اور تاجروں کے لیے قرضہ لینا مشکل ہو گیا۔ عالمی بینک کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کو کم ٹیکس وصولی اور پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث قرضوں پر دیے جانے والے شرح سود میں اضافہ ہوا۔ ان وجوہات کے باعث پاکستان کو بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔

کیا پاکستانی حکومت کے اقدامات پاکستانی معیشیت کے لیے درست ہیں؟ اس حوالے سے اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان بحران کے بعد معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مانگ کو کم کرنا، شرح سود کو بڑھانا، درآمدات کو کم کرنا یہ حکومت کی مجبوری بھی تھی۔ 2018 میں جو اقتصادی بحران شروع ہوا وہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران تھا۔ پاکستان کو بجٹ اورکرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ اب حکومت معیشت میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسے میں شرح نمو کو سست کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے معاشی ماہرین کی رائے میں شرح سود بڑھانا لازمی تھا لیکن پاکستان نے شرح سود زیادہ بڑھا دیا ہے اور اس کے منفی نتائج نظر آ رہے ہیں۔ یہ سرمایہ کاری کو طول دے رہا ہے۔ حکومتی بجٹ پر بہت زیادہ دباؤ بڑھ رہا ہے کیوں کہ سسٹم میں حکومت نے سب سے زیادہ قرض لیا ہوا ہے اور شرح سود کے بڑھ جانے سے بجٹ کا ایک بڑا حصہ شرح سود کی ادائیگیوں میں جا رہا ہے۔

پاکستان کی معیشت میں بہتری آنے میں کم از کم دو سال مزید لگیں گے جب شرح نمو چار سے پانچ فیصد جانا شروع ہوجائے گی۔

حکومت نے گیس کے نرخ اور ٹیکس ہی نہیں بڑھایا بلکہ اسمگلنگ کی روک تھام اور تاجروں سے دستاویزی ریکارڈ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ حکومت نے ایسے لوگوں پر ہاتھ ڈالا ہے جو نہ ٹیکس دیتے ہیں اور نہ دستاویزی ریکارڈ رکھتے ہیں۔ اس لیے معیشت میں تیزی پیدا ہونے میں مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔

دوسری جانب انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی جانب سے پاکستان کو قرضہ دیے جانے کے بعد ایک اقتصادی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے اہم اقتصادی فیصلہ سازی کے باعث ادائیگیوں کا عدم توازن کم ہو رہا ہے۔ پاکستانی حکومت نے درست انداز میں مارکیٹ کے ذریعے روپے کی قدر کا تعین کرایا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ کو بھی بڑھایا گیا ہے۔آئی ایم کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی نمو میں کمی آئی ہے تاہم پاکستان کی معیشت میں مارکیٹ کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، مہنگائی کی شرح میں جاری اضافے میں اب ٹھہراؤ آ گیا ہے، جس سے غریب عوام کی مشکلات میں کمی کی توقع ہے۔

مثبت جائزے کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف نے پالیسی سازی کی کمزوریوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ابھی بھی پاکستان کی معیشت خطرے سے باہر نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کی کچھ شرائط پر عمل درآمد کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے لیکن پاکستانی سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی اکثریت نہ ہونے کے باعث خطرہ ہے کہ پاکستانی حکومت اقتصادیات سے متعلق اہم قانون سازی کرانے میں ناکام رہ سکتی ہے۔

آئی ایم ایف نے اپنی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ کہ اقتصادی اداروں کی گورننس کو بہتر کرنے کے لیے ضروری اصلاحات میں سست پیش رفت اقتصادی سرگرمیوں کو منجمد کر سکتی ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کے مقاصد کو پورا نہ کرنے کی صورت میں بیرونی امداد بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو ممکنہ طور پر بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے سے بیرونی امداد رک جائے گی اور پاکستان میں سرمایہ کاری میں بھی کمی آئے گی۔

پاکستانی معیشت کو ہمیشہ دو چینلجز کا سامنا رہتا ہے بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں اور بجٹ خسارے کو کم کرنا، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو گزشتہ حکومت سے یہ مسئلہ وراثت میں ملا لیکن اس حکومت نے حکمت عملی طے کرنے میں ایک سال سے زائد کا عرصہ لگا دیا۔ جب حکومت نے آئی ایم ایف جانے کا فیصلہ کیا تو جو آئی ایم ایف نے تجاویز دیں اس کی وجہ سے عوام کو سخت فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا۔

آئی ایم ایف نے اس اقتصادی سال میں شرح نمو 2.4 فیصد بطور ہدف رکھا ہے تاہم یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کی درآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اگلے مالی سال سرمایہ کاری اور پاکستانی انتظامیہ کی جانب سے پالسیی سازی پر بہتر عمل در آمد سے پاکستان کی شرح نمو قریب 3 فیصد ہوسکتی ہے۔

قبل ازیں 2019 کے آغاز پر امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ زوال پذیر تھا۔ جنوری میں کرنسی ایکسچینج ریٹ یا شرح تبادلہ ایک سو اڑتیس روپے تیئس پیسے تھی، جو ستائیس جون کو ایک سو چونسٹھ روپے پانچ پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی ملکی معیشت کے لیے درد سر تھا اور دیوالیے سے بچنے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے چھ ارب ڈالر سے زائد کے قرضے کا معاہدہ طے کیا۔ اس کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ کیا گیا۔ ساتھ ہی بجلی اور گیس کے نرخ بھی بڑھائے گئے، جس سے افراط زر کی شرح نو سال کی بلند ترین سطح یعنی بارہ فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔ لیکن سال کے آخری چند مہینوں میں معیشت کے حوالے سے چند مثبت خبریں بھی سامنے آئیں۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی ’موڈیز‘ نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ منفی سے مستحکم قرار دیتے ہوئے معیشت میں گرواٹ ختم ہونے کی نوید دی اور خسارہ کم ہونے کی پیشن گوئی بھی کی۔ اس کے ساتھ ہی جریدے ’بلوم برگ‘ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو کارکردگی اور پھر ہنڈریڈ انڈیکس، جس میں کارکردگی کے حساب سے ٹاپ کی ایک سو کمپنیاں شامل ہوتی ہیں، کو دنیا میں پہلے نمبر پر قرار دیا۔

ماہر ین اقتصادیات معاشی بہتری کے ان آثار سے کچھ زیادہ مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی کوئی ملک آئی ایم ایف یا عالمی بینک سے قرضہ لیتا ہے، تو اس سے قبل اس ملک کے معاشی حالات انتہائی خراب بیان کئے جاتے ہیں لیکن جب قرض کا معاہدہ طے ہو جاتا ہے، تو پھر اس ملک میں بہتری کی باتیں کی جاتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسا آج کل پاکستان میں ہو رہا ہے۔

آئی آیم ایف نے سب سے پہلے پاکستان کی معیشت میں بہتری کی بات کی، جس کے بعد دیگر ادارے بھی بہتری کا راگ الاپ رہے ہیں۔ ملک پر غیر ملکی قرضوں کی مالیت ایک سو چھ ارب ڈالر سے بھی زائد ہے، درآمدی اشیاء پر پابندی لگا کر تجارتی خسارہ کم کیا گیا ہے، برآمد میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ اس کے برعکس اگر روزگار کے مواقع بڑھتے تو پیداوار اور برآمدات دونوں میں ہی اضافہ ہوتا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج جو معیشت کا بیرومیٹر کہلاتا ہے، پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بھی سارے سال گراوٹ دیکھی گئی۔ جنوری میں انڈیکس چالیس ہزار سات سو ننانوے پر تھا، جو دسمبر میں بھی اکتالیس ہزار سے نیچے ہی ہے بلکہ سال کے وسط میں انڈیکس اٹھائیس ہزار پوائنٹس تک گر گیا تھا۔اب صورت حال کچھ بہتر ہو رہی ہے۔ چیزیں واضح ہو رہی ہیں جبکہ سیاسی صورت حال اور مارکیٹ میں جو بے چینی تھی، وہ بھی اب ختم ہو گئی ہے۔ ترسیلات میں اضافے اور انفلوز کی وجہ سے نہ صرف شرح مبادلہ میں استحکام آیا ہے، بلکہ زر مبادلہ کے ذخائر بھی بڑھ رہے ہیں، یعنی مائیکرو اور میکرو اشاریوں میں بہتری آ رہی ہے۔ ساتھ ہی اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ بھی مستحکم رکھا ہوا ہے۔ ان سب باتوں کو لے کر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، جس سے مارکیٹ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

اسی طرح 2019 میں پاکستان میں شرح مبادلہ ابتدائی مہینوں میں تو کافی اتار چڑھاؤ سے دوچار رہی۔ صرف امریکی ڈالر کی قیمت میں ہی اضافہ نہیں ہوا بلکہ یورو اور برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں بھی کئی فیصد اضافہ ریکارڈ کی گیا تاہم اب گزشتہ تین چار ماہ سے اس میں بھی استحکام آ گیا ہے۔ سال کے آخر میں امریکی کرنسی چھ ماہ کی کم ترین سطح ایک سو چون روپے پچانوے پیسے تک گر گئی۔ اسی طرح یورو کی قدر بھی جنوری میں ایک سو اٹھاون روپے ستاسی پیسے سے بڑھ کر دسمبر میں ایک سو اکہتر روپے تریسٹھ پیسے کے آس پاس دیکھی گئی۔2019 کے دوران پاکستانی کرنسی کی بے قدری سے برآمدکنندگان تو خوش رہے کیونکہ ڈالر بڑھنے سے ان کی برآمدی مالیت بڑھ گئی لیکن بیشتر صنعت کار اس سال کو ایک تلخ یاد کے طور پر یاد کر رہے ہیں۔

یہ سال صنعتی شعبے کے لیے کوئی خوشگوار یادیں چھوڑ کر نہیں گیا۔ سارا سال صنعتوں نے مہنگی بجلی اور گیس کا سامنا کیا۔ کئی بار شرح سود میں اضافہ ہوا، جس سے پیداواری لاگت بھی بڑھی۔ صنعتوں کی پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی۔کام کم ہونے پر بعض صنعتوں نے مزدوروں کی چھانٹی بھی کی۔ اس طرح صنعتوں کا منافع بھی کم ہوا لیکن امید ہے کہ سن 2020 پاکستان اور بالخصوص صنعتی شعبے کے لیے خوش آئند ثابت ہو گا۔دوسری جانب بعض ماہر ین اقتصادیات 2020سے کافی مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے مطابق پاکستان میں اب سرمایہ کاری شروع ہو گئی ہے۔ روس، مصر، ملائیشیا، چین وغیرہ یہاں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سے ایک ارب تیس کروڑ ڈالر مل گئے ہیں۔ دوست ممالک ہماری مدد کر رہے ہیں اور صورت حال بہتر ہوتی جا رہی ہے۔ معاشی ترقی کی تصویر ابھی کچھ دھندلی ہے لیکن موجودہ حالات میں اسے با آسانی واضح دیکھا جا سکتا ہے۔مگر کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے ایک اعتبارسے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا اور مارچ 2020سے لے کر اب تک معاشی بہتری کے واضح آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ 

پاکستانی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وبا کی دوران دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی معیشت سکڑی لیکن پاکستان کے مرکزی بینک کی پالیسیوں، حکومت کے احساس پروگرام اور مکمل لاک ڈاؤن کے بجائے اسمارٹ لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کے باعث جولائی میں پاکستانی معیشت میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ مالی سال دو ہزار بیس میں پاکستان کی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2019 کی نسبت مالی سال 2020 میں پاکستان میں کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 78 فیصد کم ہوا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ پاکستان نے امپورٹس یا درآمدات کو کافی بڑی تعداد میں کم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں بیرون ملک سے بھیجی جانے والی رقوم سے حاصل ہونے والے زر مبادلہ میں بھی قریب دو ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی مالی سال 2020 میں 88 فیصد اضافے کے ساتھ 2.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

اس میں شک نہیں کہ پاکستان میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تو کافی عرصے سے کم کیے جانے کی کوششیں جارہی ہیں لیکن یہ کہنا ابھی قبل ازوقت ہے کہ ملک کی اقتصادی حالت میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی آئے گی۔ ایک امید کی کرن تو نظر آرہی ہے لیکن ابھی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔ حکومت کی طرف سے مثبت اشارے دیے جارہے ہیں لیکن ساتھ ہی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر عید الاضحیٰ پر کورونا وائرس کی وبا بڑھتی ہے تو شرح نمو میں گراوٹ کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

مالی سال 2020 میں حکومت کو پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیوں کے لائسنسز کی فیس موصول ہوئی ہے جس سے 'فارن ڈائریکٹ انوسٹمینٹ‘ یا ایف ڈی آئی میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ دیر پا اضافہ نہیں ہے۔پاکستان میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 2018 میں بیس ارب ڈالر تھا اب یہ خسارہ صرف تین ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ پاکستان کے فارن ایکسچینج ریزروز میں بھی اضافہ ہو ا ہے لیکن جن پالیسیوں کے تحت کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے کو کم کیا گیا انہی پالیسیوں کے باعث ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا۔

ترسیل زرمیں اضافہ اس لیے ہوا ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بہت سے پاکستانیوں کو نوکریوں سے نکالا گیا ہے اور ان لوگوں نے اپنی جمع شدہ رقم پاکستان بھجوائی ہے۔اس وقت حکومت کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیوں کہ ان حالات میں حکومت کے پاس بہت کم آپشنز ہیں۔ دنیا بھر میں معیشتیں سکڑ رہی ہیں اور پاکستان اس دنیا کا حصہ ہے۔ پاکستان کی ایکسپورٹس تب ہی بڑھیں گی جب دنیا کے دوسرے ممالک کی معیشت بہتر ہوگی۔ ایسا نہیں لگتا ہے کہ مالی سال 2021 میں کوئی بہت بڑی مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ مالی سال 2021 میں پاکستان کی معیشت میں شرح نمو ایک فیصد سے بڑھنے کی توقع ہے لیکن آبادی دو فیصد سے بڑھ رہی ہے اس کا مطلب ہے کہ ملک میں فی کس آمدنی کم ہوگی۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -