نواز شریف کے کسی نمائندہ نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی:مریم نواز،مجھے سلاخوں کے پیچھے دیکھنا عمران نیازی کی خواہش:شہباز شریف،شیخ رشید کی موجودگی میں قومی سلامتی کے آئندہ اجلاس میں نہیں جاؤنگا:بلاول بھٹو

نواز شریف کے کسی نمائندہ نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی:مریم نواز،مجھے سلاخوں ...

  

اسلام آباد، لاہور (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملاقات نہیں کی، نواز شریف کی صحت آپریشن کی متقاضی ہے، جب تک کورونا ہے نواز شریف کا آپریشن نہیں ہوسکتا۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مریم نواز نے آ رمی چیف سے لیگی نمائندے کی ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا ڈنر ہوا یا نہیں، اسکا علم نہیں، سیاسی معاملات سیاسی قیادت کو حل کرنے دیں، سیاسی قیادت کو بھی نہیں جانا چاہیے بلکہ سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ میں ہی ڈسکس کرنا چاہیے، ظلم و جبر کے ہتھکنڈے ایک حد تک چلتے ہیں۔ اے پی سی کے فیصلوں کی پاسداری کی جائیگی، اشتہاری کی درخواست پر منتخب وزیر اعظم کو نااہل کیا گیا۔دریں اثنا پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے (ن) لیگ کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو ان کی سالگرہ پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا شہباز شریف نے قوم کی مسلسل خدمت کی۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا شہباز شریف نے بدترین سیاسی انتقام کا نشا نہ بنائے جانے کے باوجود بھائی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ شہباز شریف میرے لیے دوسرے والد کی طرح ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے ٹوئٹر پیغام میں چچا شہباز شریف کیساتھ اپنی دو تصاویر بھی شیئر کیں۔ مریم نواز نے نواز شریف اورشہباز شریف کے درمیان کسی بھی قسم کے اختلافات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا اِن کوتوڑنے کے خواب دیکھنے والے خود ٹوٹ جائیں گے، ایسے کئی آئے اورکئی گئے۔ وہ ایک تھے، ایک ہیں اورہمیشہ ایک رہیں گے، انشااللہ،۔

 مریم نواز

لاہور(جنرل رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے عمران خان کی خواہش ہے میں سلاخوں کے پیچھے جاؤں، دوبارہ جیل جانا پڑا تو فرق نہیں پڑیگا، آواز اٹھاتے رہیں گے۔گزشتہ روز 180 ایچ ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا قبر میں جانے کے بعد بھی کرپشن ثابت ہو جائے تو نکال کر پول پر لٹکا دیا جائے۔ قائد حزب اختلاف نے چینی سکینڈل چھپانے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا اصل ملزم عمران نیازی اور عثمان بزدار ہیں۔ عمران خان نے مجھ پر 3 الزامات لگائے۔ ڈیلی میل میں میرے اور خاندان کیخلاف الزام لگایا گیا، کہا گیا جاوید نامی شخص میرا فرنٹ مین ہے۔ آج تک جاوید صادق کے بارے میں جواب نہیں دیا گیا۔ 2016ء  میں نوٹس بھیجا، آج تک جواب نہیں آیا۔ پاناما سکینڈل کے دوران مجھ پر 10 ارب رشوت دینے کا الزام لگایا گیا۔ 2 سال گزر گئے، اس کیس کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔شہباز شریف کا کہنا تھا راولپنڈی اور ملتان میٹرو پر 100 ارب لگے جبکہ بی آر ٹی منصوبے پر اربوں کی کرپشن کی گئی۔ 2 سال ہو گئے، اورنج لائن ٹرین تاخیر کا شکار ہے۔ تحریک انصاف اورنج لائن کیخلاف عدالت گئی۔ عدالت نے اس کیس میں کرپشن کا ذکر نہیں کیا۔ چینی کمپنی نے اس الزام کی تردید کر دی تھی۔انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تحریک کا فارن فنڈنگ کیس اوپن اینڈ شیٹ ہے لیکن‘’سلیکٹڈ وزیراعظم”سکینڈل کو دن رات چھپانے میں مصروف ہے۔ اگر اس کیس کی شفاف تحقیقات ہو تو عمران خان ایک دن بھی وزیراعظم نہ رہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) پر ناجائز اور غلط الزامات لگا کر بھی انتقام کی ہوس نہیں بجھ رہی۔ نیازی حکومت نے غلط کیسز بنانے کے ریکا ر ڈ توڑ دیئے۔ رانا ثناء اللہ پر ہیروئن کیس ڈالا گیا۔ ڈھٹائی سے نیازی کے حواری کہتے رہے کہ سچا کیس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ علیمہ باجی کے کیس پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں، ایف بی آر میں انھیں پروٹوکول دیا جاتا ہے، انہوں نے اور خود ان کے بھائی عمران خان نے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مالم جبہ، ہیلی کاپٹر، چینی، گندم اور ادویات کے سکینڈلز کا کیا بنا؟لیگی صدر نے کہا نواز شریف کی حکومت میں دن رات محنت کی۔ ہماری محنت کا بچہ بچہ گواہ ہے جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں ہماری معیشت کا حال سا نحہ بلدیہ فیکٹری جیسا ہونے جا رہا ہے، اگر بہتری نہ آئی تو پھر معیشت کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔ 

شہباز شریف

کراچی (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے آئندہ قومی سلامتی سے متعلق اجلا س ہو یا کوئی بھی معاملہ، ایسے کسی اجلاس میں پیپلز پارٹی شریک نہیں ہوگی جس میں شیخ رشید موجود ہوں گے۔کراچی بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکامزید کہنا تھا قومی سلامتی کے امور پر آئندہ کسی میٹنگ میں شیخ رشید ہوئے تو میں نہیں جاؤں گا۔ قومی سلامتی سے متعلق اجلاس ہو یا کوئی بھی ان کیمرہ اجلاس ہو تو اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی جاتیں لیکن کچھ غیر ذمہ دار لوگ جن کا تعلق قومی سلامتی، گلگت بلتستان،آزاد کشمیر سے ہے نہ ہی خارجہ پالیسی سے، انہوں نے مجبور کردیا میں اس حوالے سے بات کروں۔بلاول بھٹو نے کہا جنہو ں نے عسکری قیادت سے ہونیوالی ملاقات میں ایک لفظ نہیں کہا وہ آج کل ہر ٹی وی چینل پر آکر بات کررہے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا قومی سلامتی کے معاملے پر جو اجلاس بلایا گیا اس کے حوا لے سے میڈیا پر ایسی باتیں کرنے سے معاملہ متنازع ہوتا ہے۔ اِن کیمرہ اجلاس کی باتیں باہر کرنیوالے کو چپ کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا جس نے اجلاس میں ایک لفظ نہیں کہا، وہ باہر ٹی وی پر باتیں کر رہا ہے، ایسی باتوں سے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کے امور متنازع بنتے ہیں۔بلاول نے کہا اِن کیمرہ اجلاس کی باتیں کرنیوالا جس کا بھی ترجمان ہے انہیں چاہیے اْسے چپ کرائیں، ہم ملکی سلامتی پر متحد ہیں، ان کیمرا اجلاس کی بات باہر نہیں کرتے۔ بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا عمران خان جب سے وزیراعظم بنے تمام بڑے ایشوز پر ناکام ہوئے، ان میں اتنی اہلیت ہی نہیں کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں۔ بلاول نے کہا آرمی چیف کی طرف سے کسی خاص ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی، گلگت بلتستان کی میٹنگ میں زیادہ بات صاف شفاف الیکشن پر ہوئی، انشاء اللہ ماضی میں جو اعتراضات رہے ہیں، وہ دورکیے جائیں گے۔ 

بلاول بھٹو

مزید :

صفحہ اول -