عالمی برادری حزب اللہ کو غیر مسلح،ایران کا ایٹمی پروگرام فی الفور روکے:شاہ سلمان

عالمی برادری حزب اللہ کو غیر مسلح،ایران کا ایٹمی پروگرام فی الفور روکے:شاہ ...

  

 ریاض،نیویارک (آئی این پی)سعودی عرب کے ولی عہد سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ سرحد پار انتہا پسندانہ نظریات کے سرپرست ملکوں کو لگام دینا ہوگی، ایران کے حمایت یافتہ حوثی عالمی جہاز رانی کی سلامتی کو خطرات لاحق کیے ہوئے ہیں، حوثی یمن اور سعودی عرب میں شہریوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، دہشتگردی اور انتہا پسندانہ افکار پوری دنیا کو درپیش بڑا چیلنج ہیں، حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے۔عرب ٹی وی کے مطابق شاہ سلمان نے بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں سیشن سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نظریاتی باتیں کرنے والے اکثراوقات اپنی انتہا پسندی اور تخریبی و انارکی کی شناخت پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹے سیاسی نعروں کا سہارا لیتے ہیں۔ سعودی عرب اسلامی عقائد اور ان کی روا داری کی تصویر بگاڑنے سے انتہا پسند گروہوں اور دہشتگردوں کو روک رہا ہے اور اس حوالے سے عالم اسلام میں اپنا کردار ادا کرنے میں لگا ہوا ہے۔انتہا پسند اور دہشتگرد تنظیموں کو فرقہ وارانہ تفرقوں سے دوچار ممالک میں ابھرنے اور پھیلنے کے لیے زرخیز زمین مل رہی ہے۔ یہ تنظیمیں ریاستی اداروں کے انحطاط اور کمزوری سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوسکتے ہیں بشرطیکہ یہ پرعزم ہو۔ فرقہ واریت اور دہشتگردی کی سرپرستی کرنے والے ملکوں سے ٹکر لینے میں پس و پیش سے کام نہ لیں۔ شاہ سلمان نے ایران کے ایٹمی پلانٹ سے متعلق کہا کہ ایران کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحے کے حصول سے روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو ٹھوس موقف اپنانا ہوگا۔ ایرانی نظام کو بین الاقوامی معیشت کے استحکام کی کوئی پروا نہیں۔ سعودی عرب نے ایران کی طرف قیام امن کے لیے ہاتھ بڑھایا اور کئی عشروں تک خوشگوار انداز سے معاملہ کیا۔ ایرانی نظام کے ساتھ تجربات نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ جزوی حل اس کے خطرات کو روک نہیں لگا سکتے۔

 شاہ سلمان

مزید :

صفحہ اول -