ریکارڈ طلبی کے نوٹسز کیخلاف متعدد درخواستوں پر فیصلہ محفوظ 

ریکارڈ طلبی کے نوٹسز کیخلاف متعدد درخواستوں پر فیصلہ محفوظ 

  

لاہور(نامہ نگار)لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر کی آڈٹ پالیسی کے تحت ریکارڈ طلبی کے نوٹسز کے خلاف متعدد درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا،جسٹس عائشہ اے ملک نے ورحیم یار خان شوگر ملز سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی،درخواست میں وفاقی کابینہ، کمشنر ان لینڈ ریونیو سمیت دیگر کو فریق بنایا گیاہے، درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ ایف بی آر نے آڈٹ پالیسی کے تحت شوکاز نوٹس بھجوائے ہیں، ایف بی آر کی جانب سے 2 مسلسل برسوں کے آڈٹ کا انتخاب آڈٹ پالیسی کی ازخود خلاف ورزی ہے، ایف بی آر نے مسلسل 2 برسوں کے آڈٹ کے لئے تمام ریکارڈ طلبی کا نوٹس بھی بھجوائے ہیں، ایف بی آر کے ریکارڈ طلبی کے نوٹسز آئین کے آرٹیکل 10 اے اور 18 کی خلاف ورزی ہے، عدالت سے استدعاہے کہ ایف بی آر کے گزشتہ برسوں کے آڈٹ کے لئے ریکارڈ طلبی کے نوٹسز غیر قانونی قرار دے کر کالعدم اوردرخواست کے حتمی فیصلے تک ریکارڈ طلبی کے نوٹس معطل کئے جائیں۔

مزید :

علاقائی -