سابق فوجیوں کو کانسٹیبل بھرتی نہ رکھنے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت 

  سابق فوجیوں کو کانسٹیبل بھرتی نہ رکھنے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت 

  

لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹرجسٹس محمد قاسم خان نے سابق فوجیوں کو پولیس میں کانسٹیبل بھرتی نہ رکھنے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کی،عدالت نے درخواست گزاروں کوتاحکم ثانی کام کرنے کی اجازت دیتے ہوئے پنجاب حکومت کے لاء افسر کو تیاری کر کے آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی ہدایت کردی،عدالت نے آئندہ سماعت پر فریقین کے وکلا کو بھی درخواست کے قابل سماعت ہونے والے دلائل کی ہدایت کی ہے،چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ درخواست گزاروں کو2013ء کی پالیسی یا 2018 ء ایکٹ کے تحت ڈیل کیا،عدالت نے پنجاب حکومت کے خلاف اس کو درخواست گزاروں کو تنخواہوں کی ادائیگی کے متعلق بھی رپورٹ طلب کرلی ہے،چیف جسٹس ہائی کورٹ محمد قاسم خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل آصف افضل بھٹی  پیش ہوئے،درخواست گزاروں کے وکلاء کا موقف ہے کہ سابق فوجیوں کو پولیس کانسٹیبل بھرتی کیا گیا جس کے بعد انہیں برطرف کر دیا گیا،برطرفی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا لیکن سنگل بنچ نے درخواست مسترد کر دیں،سنگل بنچ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیاجائے اورسابق فوجیوں کو پولیس کانسٹیبل کی حیثیت سے ریگولر کرنے کا بھی حکم دیا جائے۔ 

مزید :

علاقائی -