کشمیر و فلسطین کے مسائل اور اقوام متحدہ

کشمیر و فلسطین کے مسائل اور اقوام متحدہ

  

ترک صدر جناب رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین حل نہ ہونے سے عالمی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا،کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بالخصوص کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے،جنوبی ایشیا میں امن کا انحصار مسئلہ کشمیر کے  حل پر ہے،مسئلہ فلسطین بھی پیچیدہ ہو گیا ہے، لیکن آزاد فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو، اِس مسئلے کا واحد حل ہے، جنرل اسمبلی کے اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ 15مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف اسلامی یکجہتی کا دن قرار دے۔ ترک صدر کے خطاب کے دوران اسرائیلی سفیر اجلاس سے اُٹھ کر چلا گیا،دوسرے ممالک کے سفیر اجلاس میں موجود رہے۔

کشمیر اور فلسطین کے مسئلے دو ایسے عالمی مسائل ہیں،جو طویل ترین عرصے سے عالمی اداروں کے ایجنڈے پر ہیں،لیکن آج تک اِن کا حل نہیں نکل سکا،ان مسائل کے بہت بعد جو مسئلے اقوام متحدہ کے سامنے آئے وہ چند برس کے اندر اندر حل ہو گئے،سوڈان کا مسئلہ سامنے آیا، تو چند ہی برس میں دُنیا کے بڑے مُلک اس کا حل تلاش کرنے میں لگ گئے، پھر آناً فاناً تقسیم کر کے دو مُلک بنا دیئے گئے،انڈونیشیا کے جزیرے میں آزاد عیسائی مملکت قائم کر دی گئی۔ عراق نے کویت پر چڑھائی کر کے اس پر قبضہ کیا تو عالمی ادارے نے امریکہ کو اپنی قرارداد پر طاقت کے ذریعے عمل کرانے کی ہدایت کی، فوجی قوت استعمال کر کے عراق کا کویت سے قبضہ ختم کرایا گیا،کئی برس بعد وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا ذخیرہ رکھنے کے الزام میں عراق پر دوبارہ چڑھائی کر دی گئی، جب مُلک کی اینٹ سے اینٹ بج چکی تو پتہ چلا کہ تباہی پھیلانے والے ہتھیار تو عراق کے پاس تھے ہی نہیں،برطانیہ کے اُس وقت کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے امریکہ کا ساتھ دیا، عراق کو تباہ و برباد پہلے کر دیا گیا اور یہ تحقیق بعد میں ہوئی کہ اس کے پاس ہتھیار ہیں یا نہیں،ٹونی بلیئر کو اُن کے اپنے بنائے کمیشن نے قصور وار ٹھہرایا، تو انہوں نے سرسری سے انداز میں معذرت کر لی۔ یہ چند واقعات یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ عالمی ادارہ اور بڑی طاقتیں جو مسئلہ حل کرنا چاہتی ہیں، کوئی وقت ضائع کئے بغیر ایسا کر دیتی ہیں اور جس مسئلے کو فراموش کرنا مقصود ہو اسے تدریجاً طاقِ نسیاں پر رکھ دیا جاتا ہے۔

کشمیر کا مسئلہ آج تک اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے سولہ قراردادوں کے ذریعے اسے متنازع قرار دیا گیا ہے اور بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق اور قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ حل کرے،لیکن بھارت کی حکومتوں نے عملاً اِس کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا،اب نریندر مودی نے ان قراردادوں کے علی الرغم متنازع ریاست کو بھارت کا حصہ بنا لیا ہے  ایک سال سے زیادہ عرصہ گذر چکا ہے، سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارت کی اس غیر قانونی حرکت پر غور ہو چکا ہے،لیکن کوئی ایسا اقدام نہیں کیا گیا جس سے مسئلہ حل ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ اب ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسئلہ کے حل میں تاخیر کی ذمے داری بھی عالمی ادارے پر ڈال دی ہے اور ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق  حل کرنے کے انتظامات کئے جائیں،کشمیرکے بارے میں ترک صدر کے خیالات بڑے واضح اور دو ٹوک ہیں، اپنے دورہئ بھارت میں بھی انہوں نے اس تنازعے پر اظہارِ خیال کر کے بھارتی حکمرانوں کو ناراض کر لیا تھا، لیکن صدر اردوان نے بھارت کی اس ناراضی کی کوئی پروا نہ کی اور آج تک ہر عالمی پلیٹ فارم پر کھل کر کشمیر کے معاملے میں پاکستان کے موقف کی ڈٹ کر حمایت کرتے ہیں،اُن کا تازہ ترین اظہارِ خیال بھی اِس امر پر دلالت کرتا ہے،بھارت کے جارحانہ عزائم کی وجہ سے جنوبی ایشیا کا امن داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ترک صدر نے اس جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بعد ہی اس علاقے میں امن قائم ہو سکتا ہے،لیکن مقام افسوس ہے کہ عالمی ادارہ اور عالمی برادری کشمیر کے معاملے میں کوئی ایسے اقدامات کرتی ہوئی نظر نہیں آئی،جس سے اس مسئلے کے حل کی راہ ہموار ہو۔صدر ٹرمپ نے ثالثی کی پیش کش کی تھی جسے پاکستان نے قبول کر لیا، لیکن بھارت نے ہمیشہ کی طرح یہ پیش کش بھی مسترد کر دی،اب صدر ٹرمپ بھول کر بھی اس پیش کش کا تذکرہ نہیں کرتے، لگتا ہے انہوں نے مودی کے ساتھ کسی انڈر سٹینڈنگ کے تحت ہی یہ تجویز پیش کی تھی،اس کے بعد ہی مودی نے کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا۔

عالمی ادارے کے ایجنڈے پر دوسرا حل طلب اہم مسئلہ فلسطین کا ہے،اسرائیل کا ناجائز قیام جس سرزمین پر عمل میں آیا تھا اس کی سرحدوں میں فوجی جارحیت کے تحت توسیع کی گئی آج کے دور میں دُنیا کا شاید ہی کوئی دوسرا مُلک ہو جو جنگ کے ذریعے دوسرے آزاد ممالک کی سرزمین پر قابض ہوا،جو متحارب مُلک باہم جنگیں لڑتے رہے اُنہیں بھی جنگوں کے بعد مقبوضہ علاقے خالی کرنے پڑے،جنہوں نے ایسا کرنے میں مزاحمت کی اُن سے زبردستی یہ علاقے خالی کرائے گئے، جبکہ اسرائیل نے فلسطین، اردن اور شام کے علاقوں کو مستقل طور پر اپنا حصہ بنا لیا ہے۔ 67ء کی عرب اسرائیل جنگ میں جن علاقوں پر قبضہ کیا گیا، وہ اب اسرائیل کا حصہ ہیں،73ء کی جنگ میں مصر کے جن علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا وہ ایک معاہدے کے نتیجے میں خالی کر دیئے گئے،لیکن دوسرے ممالک کی سرزمین پر اسرائیل اب تک قابض ہے اور وہاں یہودی بستیاں بسائی جا رہی ہیں،جن کے خلاف سلامتی کونسل میں قراردادیں منظور ہوئیں،لیکن اپنے سرپرستوں کی شہ پر اس نے عمل نہیں کیا۔صدر اردوان نے اپنے خطاب میں مسئلہ فلسطین کا حل ایسی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں دیکھا ہے،جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو، اسرائیل نے امریکہ کی حمایت سے عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اگر اس طرح مشرقِ وسطیٰ میں امن کی امید لگائی گئی ہے تو مسئلہ فلسطین حل کئے بغیر ایسا ممکن نہیں،اِس کا حل بھی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں ہے، اقوام متحدہ کو کشمیر اور فلسطین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر عمل کرانے کے لئے عملی اقدامات کا آغاز کرنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -