اپنے دیئے خود بنو

اپنے دیئے خود بنو
اپنے دیئے خود بنو

  

دنیا کے ہر مذہب یا دین کی انتہائی بنیاد ایمان اور عقیدہ پر کھڑی ہے دنیا کا کوئی بھی مذہب ایسا نہیں ہے جس کی بنیاد ایمان یا عقیدہ پر قائم نہ ہو مگر دنیا کا ایک ایسا اکلوتا مذہب بھی ہے جس کی بنیاد اَنبھو (تجربہ) پر کھڑی ہے گوتم بدھ نے فرمایا تھا کہ مانو مت جانو جب جان لو گے تو پھر منوانے کی ضرورت خود بخود ختم ہو جائے گی اس کے برعکس اگر بنا جان کر مانا تو یہ پاکھنڈ ایک نہ ایک دن آپ کے سامنے ضرور آ کھڑا ہو گا کہ آپ صرف ایک توہم کے پیچھے پڑے ہوئے تھے، بدھ کہتے ہیں کہ شردّھا (ایمان) ٹھونسی نہیں جاتی اس کیلئے ضروری ہے کہ پہلے گیان پراپت کیا جائے یعنی آگہی کا رخ کیا جائے چنانچہ جب آگہی پیدا ہو جائے گی تو اس کا منطقی نتیجہ ایمان ہی ہو گا، میری دلی خواہش تھی کہ میں اس مضمون کو خطِ نستعلیق اْدھار لیکر خالص سنسکرت میں تحریر کروں لیکن چونکہ ہمارے ہاں کبھی سنسکرت پر کام ہی نہیں ہوا اور نہ ہی ہمارے قارئین سنسکرت سے کوئی خاطر خواہ علاقہ رکھتے ہیں اس لئے مجبوراً عربی اور فارسی میں لکھنا پڑ رہا ہے گوکہ اب ہم عربی اور فارسی سے غیر معمولی طور پر مانوس ہو چکے ہیں، بدھ مانش جاتی کے وہ پہلے دھارمک وِکتی ہیں جنہوں نے اپنے دھرم کی سنگھٹن شرادھا اور بھگتی کی بجائے انبھو اور گیان پر رکھی، بدھ دھرم دنیا کا پہلا وِگیانک دھرم ہے حالانکہ عام طور پر ایمان اور سائنس میں ہمیشہ تصادم رہا ہے لیکن بدھ وہ پہلے مذہبی رہنما ہیں جنہوں نے لوگوں سے ایمان اور سپردگی کی بجائے جستجو اور تجربہ کا مطالبہ کیا، دنیا میں ہمیشہ یہ اصول رہا ہے کہ جب بھی کوئی مذہبی رہنما انسانی معاشروں میں رونما ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے لوگوں سے تیقن اور ایمان کا مطالبہ کرتا ہے بعد میں پند و نصائح اور طرزِ حیات کا درس دیتا ہے مگر بدھ نے ایسا نہیں کیا بدھ ایمان اور تیقن کی مبادیات سے بخوبی واقف تھے وہ اگر وہی کچھ کرتے جو آپ سے ماقبل مذہبی رہنماؤں نے کیا تھا تو پھر بدھ میں اور دیگر مذہبی زعماء میں کوئی فرق باقی نہ رہ جاتا، بدھ نے کہا کہ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی یہ زندگی ہے اور یہ زندگی بہرطور دکھ ہے، بدھ کون تھے اور وہ کس طرح اس جدید مذہب کے بانی بنے یہ الگ اور نہایت طویل داستان ہے جو اس مختصر سے مضمون میں نہیں بیان ہو سکتی یہاں پر میرا مقصد صرف بدھ کی بنیادی تعلیم اَپو دیپو بھاؤ یعنی اپنے دیئے خود بنو پر چند الفاظ رقم کرنے ہیں، دنیا میں سچ کو جاننے کے اب تک صرف تین طریقے رائج رہے ہیں ایک اہلِ دانش کا طریقہ، دوسرا انبیاء  کا اور تیسرا صوفیوں کا، اہلِ دانش جنہیں ہم فلسفی کہتے ہیں وہ تو آج تک متفق نہ ہو سکے کہ حتمی سچ کیا ہے، انبیاء  کی تعلیم چونکہ خالص ایمان اور تیقن پر مبنی ہوتی ہے، لہٰذا اس پر کلام نہیں کیونکہ کلام کیلئے بنیادی شرط کسی بھی معاملے کا دائرہِ کلام میں پایا جانا لابدی ہے ورنہ کنفیوژن کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں لگتا چنانچہ مذہب جب بھی کلام یا فلسفہ کی بھینٹ چڑھا اپنا مقصدِ اصلی ہی کھو بیٹھا، تیسرا طریقہ صوفیوں کا طریقہ ہے جس کی ابتداء تو دانش سے ہوتی ہے مگر انتہاء تربیت ِ ذات پر آ کر رک جاتی ہے پس بدھ اس تیسری کیٹیگری کے آدمی ہیں، بدھ دنیا کے وہ پہلے مذہبی رہنما ہیں جو ایمان اور دانش سے اوپر اٹھ کر بھی خالص مذہبی رہے اب اس طرح کا جدید تجربہ یقیناً دنیا کیلئے حیرت انگیز تھا کہ ایک شخص بغیر ایمان کے کیسے مذہبی ہو سکتا ہے مگر بدھ نے یہ تجربہ کرکے دکھایا کہ ایک شخص بغیر ایمان کے کیسے سچا اور کھرا مذہبی بن سکتا ہے، جو لوگ خدا کو مانتے بدھ ان سے کہتے رک کیوں گئے ہو آگے چلو اس کے برعکس جو لوگ خدا کو نہ مانتے بدھ ان سے کہتے کہ ہٹ دھرم نہ بنو رک جاؤ، جبکہ جو لوگ ان دونوں کیفیات سے اوپر اٹھ جاتے بدھ انہیں اپنی ذات کی راہ دکھا دیتے، بدھ کہا کرتے کہ سب کچھ تمہارے پاس ہے کچھ بھی کہیں نہیں گیا مگر یہ جاننے کیلئے تمہارا اپنے بارے جاگنا ضروری ہے تاکہ تم باہر نہ بھٹکتے پھرو، خارجی دنیا میں کسی بھی ذات یا تصور کو تھامے یوں ایک دم خالی ہو کر اپنی ذات کا رخ کرنا یقیناً ہندوستانیوں کیلئے ایک عجیب و غریب عمل تھا پس سناتن دھرم کے حاملین نے جس قدر بدھ اور متبعینِ بدھ کے ساتھ ناروا سلوک کیا اس کی مثال شاید ہی کہیں تاریخ میں موجود ہو، یہی وجہ ہے کہ آج ہندوستان میں بدھ دھرم کے لوگ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، بدھ کہتے ہیں کہ جاگو، ہوش پْروک جیو، کیونکہ بنا ہوش سادھے صرف دکھ ہی دکھ سامنے آئے گا، بدھ کا ایک معروف قول ہے کہ ایک شخص جو جنگل میں شکار کر رہا تھا اچانک کہیں سے ایک تیر آ کر اس کے سینے میں پیوست ہو گیا سو اب دو ہی لائحہ عمل ہیں یا تو تیر مارنے والے کا پتہ لگایا جائے اور زخمی کو تڑپتا چھوڑ دیا جائے یا پھر اس سے قطع نظر کہ تیر کس نے مارا فوری طور پر زخمی کا علاج شروع کر دیا جائے، بدھ کہتے ہیں کہ زخمی ہم انسان ہیں اور تیر یہ ہماری زندگی ہے سو اب ہم اس زندگی کو کیسے تیر کی طرح ایسے نکال لیں کہ کم از کم درد ہو یہ ہے حقیقی طرزِ حیات، اس کے علاوہ بدھ کے نزدیک سب دھوکہ اور پاکھنڈ ہے، بدھ کہا کرتے کہ ہوش میں آؤ کچھ بھی ماننے کی ضرورت نہیں جو ہے وہ ہوش میں آنے کے بعد خود ہی سامنے آ جائے گا اس لئے بہت ضروری ہے کہ جاگو، اپنے بجھے ہوئے ہوش کے دیئے کو جلاؤ اور اس کی روشنی میں جیو، بدھ کہا کرتے کہ کوئی بھی شخص جو جاگ چکا اس کی روشنی آپ کے کسی کام کی نہیں تبھی بدھ نصیحت نہیں کرتے نہ ہی کوئی مذہبی عمل بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ تم اپنے دیئے خود بنو کسی کا دیا تمہارے اندر روشنی نہیں کر سکتا اس لئے کسی کی نصیحت یا نیک عمل سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچنے والا، کسی کا گیان یا انبھو تمہارے کسی کام کا نہیں، جو جاگ گئے وہ صرف اپنے لئے جاگ گئے تم بھی جاگو تم بھی ہوش سنبھالو ورنہ جیون کا اندھکار تمہیں لے ڈوبے گا، پس اپو دیپو بھاؤ یعنی اپنے دیئے خود بنو۔

مزید :

رائے -کالم -