سیاسی بونے 

سیاسی بونے 
سیاسی بونے 

  

ایک حکایت ہے کہ ایک چڑیا اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے کہ دور سے ایک شخص آتا دکھائی دیا۔ چڑیانے چڑے سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہمیں اْڑ جانا چاہیے کہیں یہ شخص ہمیں جان سے نہ مار دے۔ چڑا کہنے لگا کہ میری رائے مختلف ہے تم ذر ا اس شخص کی دستار، پہناوا اور اس کی صورت سے ٹپکتی شرافت کو دیکھو۔ مجھے اس کی شخصیت سے ہر گز یہ اْمید نہیں ویسے بھی یہ اپنے حْلیے سے اچھا انسان محسوس ہو رہا ہے یہ بھلاہمیں کیوں مارے گا۔ مگر جب وہ شخص ان کے قریب پہنچا تواْس نے اپنا تیر کمان نکالا اور چڑے کو ہلاک کر دیا۔ بے چاری چڑیا فریاد لے کر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ہو ئی۔ بادشاہ نے شکاری کو طلب کیا اور اس واقعہ پر باز پرس کی تو شکاری نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ اتنا سْننا تھا کہ بادشاہ نے چڑیا کو سزا کا اختیار دیتے ہوئے کہا کہ چڑیا اس شخص کیلئے جو بھی سزا تجویز کرے گی اس کو وہی سزا دی جائے گی۔ چڑیا نے عرض کی کہ بادشاہ سلامت اس شخص کا یہ زرق برق لباس تبدیل کر دیا جائے جو اس کی شخصیت کا نہ تو درست عکس پیش کر رہا ہے اور نہ ہی یہ اس کی بدعملی اور دھوکہ دہی کا آئینہ دار ہے۔کیونکہ یہ ایک شکاری ہے اسلئے اس کو لباس بھی شکاریوں والا پہننا چاہئیے۔

یہ حکایت حکومت و اپوزیشن میں موجود لوگوں کی ایک تصویر ہے۔میری حکومت و اپوزیشن سے اپیل ہے کہ خدا را آپ بھی عوام دوستی کا لبادہ اتار دیں تاکہ کوئی اور پرندہ آپ کے لباس سے دھوکہ کھا کر اپنی زندگی سے محروم نہ ہو۔ 

بات کریں اگر ہم گزشتہ ہفتے ہونے والی اپوزیشن کی اے پی سی کی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی اہم شخصیات نے شرکت کی اور حکومت کی مجموعی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اے پی سی کے آخر میں حکومت کے خلاف ایک مشترکہ اعلا میہ بھی جاری کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق اپوزیشن کی تمام جماعتیں مل کر حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کریں گی اور حکومت کے خاتمے تک مشترکہ جہدوجہد جاری رکھیں گی۔ اپوزیشن نے حکومت پر الزامات کی بو چھاڑ کرتے ہوئے اْس کی کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ دوسری طرف حکومتی ارکان نے بھی ترکی بہ ترکی اپوزیشن کی تنقید کے جواب میں عوام کے سامنے اپنا موقف رکھا۔ 

درحقیقت اس سارے ٹوپی ڈرامے کا ڈراپ سین بہت جلد ہونے والا ہے اس کی وجہ ہمیشہ کی طرح کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی ہے۔ حال ہی میں ایف اے ٹی ایف کا قانون پاس ہونے کے بعد سے اپوزیشن پوری طرح بو کھلاہٹ کا شکار ہے۔ اس وقت اپوزیشن کا سب سے بڑا ہدف حکومت پر شدید دباؤ بڑھا کر اپنے مقاصد حا صل کرنا ہے۔ جیسے ہی مقاصد حاصل ہوں گے اپوزیشن پھر سکھ چین کا راگ الاپنے لگے گی۔ 

افسوس کی بات یہ ہے یہ سب چند افراد کے سیاسی قد کو بہت چھوٹا کر رہا ہے مجھے تو یہ افراد اب سیاسی بونے لگنے لگے ہیں کیونکہ ان کا مقصد کچھ بھی ہو مگر ان کا ظاہری لبادہ کچھ اور ہے۔ اس کی مثال مولانا فضل الرحمن کا گزشتہ دھرنا ہے جو اپنی تمام تر گرج چمک کے باوجود برسے بغیر ہی سیاسی ڈیل کی نظر ہوگیا۔جس کا اصل ہدف آصف علی زرداری کی رہائی اور میاں محمد نواز شریف کی ملک سے باہر روانگی تھا۔ بہت سے سیاسی راز چوہدری برادران کی زنبیل کی زینت بن گئے۔ اب اس مرتبہ دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یہ جو بھی کہیں یا جو بھی کریں ان کا ظاہری لبادہ ان کی شخصیت اور مقاصد کا آئینہ دارمحسوس نہیں ہو رہا۔ جن عوامی مسائل کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کیے جا رہے ہیں یقین جانیں وہ مسائل نہ کل حل ہوئے تھے اور نہ ہی آج حل ہو رہے ہیں۔ ایک کروڑ نوکریوں پر تنقید جائز ہے مگر روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے پر تنقید بھی تو ہمارا حق ہے۔ چند بارشوں نے ہی لاہور کو پیرس اور کراچی کو معاشی حب کہنے والوں اور ان کی نسل در نسل حکومت و عوامی خدمت کے دعووں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ 

ان دھمکیوں اور تحریکوں میں اب وہ جان نہیں رہی جو انقلابی تحریکوں میں ہوا کرتی تھی۔ اب اس سارے جھمیلے اور خواہشوں کے ریلے میں بے چارے معصوم عوام دوبارہ مشکلات کا شکار ہونے والے ہیں، کیونکہ ان کا تو نہ کبھی کسی نے پہلے سوچا اور نہ ہی کوئی مستقبل میں سوچے گا۔ مجھے اس سے ہر گز انکار نہیں کہ حکومت پر تنقید جمہوریت کا حسن ہے اور حکومتی انتقام بھی میری نظر میں بد ترین عمل ہے، مگراپوزیشن سے دست بستہ پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ آپ صا حبان نے کیا جمہوریت کا مطلب خاندانی حکومت سمجھ رکھا ہے؟ اگر آپ جیت جائیں تو نہ ہی نظام میں خرابی ہوتی ہے اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار، نہ الیکشن کمیشن پر کوئی شک اور نہ ہی محکمہ احتساب سے کوئی شکوہ، سب کچھ ٹھیک اور جیت میں عوامی حمایت کا عنصر شاملِ حال ہو جاتا ہے۔ آپ کی اپنی حکومتوں میں نہ تو کشمیر کا مسئلہ آنکھوں سے آنسو بن کر چھلکا اور نہ ہی عوام کی آٹے،دال، گھی، شکر اور پیڑول کی مجبوریاں نظر سے گزریں۔ سانحہ موٹر وے پر سیاست کرنے سے پہلے آپکو نہ تو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی حاملہ بیٹی کی چیخیں سنائی دیں اور نہ ہی تھر میں بھوک اور پیاس سے مرتے سندھ کے عوام، نہ سیلاب سے متاثرہ خاندان دیکھائی دئیے اور نہ ہی بیروزگاری اور مفلسی کی چادر اوڑھے غریب عوام۔ کس کی چھت گری اور کس کی دیوار آپکو کیا معلوم آپکو تو عوام میں گئے بھی ایک مدت ہو چکی ہے۔ عوام کس کرب سے گزر رہے ہیں آپکو اپنے محلوں میں بیٹھ کر کبھی اس کااندازہ نہیں ہو گا۔ خدا کے واسطے مہنگائی اور غربت میں پسے عوام کا دکھ محسوس کریں اور عملی طور پر کچھ کریں یا پھر اس عوام دوستی کے لبادے کو اْتار پھینکیں یہ عوام اب مزید دھوکے برداشت نہیں کر سکتے۔

مزید :

رائے -کالم -