گلگت۔ بلتستان: پانچویں صوبے کی ضرورت کیوں؟(1)

گلگت۔ بلتستان: پانچویں صوبے کی ضرورت کیوں؟(1)
گلگت۔ بلتستان: پانچویں صوبے کی ضرورت کیوں؟(1)

  

حالیہ ملٹی پارٹی کانفرنس تو 20ستمبر بروز اتوار منعقد ہوئی لیکن اس سے بھی چار دن پہلے ایک اور کانفرنس بھی منصہ ء شہود پر آئی جو کسی سیاسی لیڈر نے نہیں بلوائی تھی بلکہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف نے ’طلب‘ کی تھی جس میں تمام اپوزیشن لیڈر کشاں کشاں تشریف لے گئے۔ شاید ایک آدھ نے اسے مِس بھی کیا لیکن اکثریت نے شرکت کی۔ اس کا ایجنڈا یک نکاتی تھا جو یہ تھا کہ آیا گلگت بلتستان (جی بی) کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنا دیا جائے یا اس کی موجودہ خصوصی حیثیت برقرار رکھی جائے۔ ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، یہ اگرچہ میرے امروزہ کالم کا موضوع ہے لیکن کالم شروع کرنے سے پہلے ایک دو پہلوؤں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ……

ایک یہ کہ یہ اجلاس ایک خصوصی اور خفیہ اجلاس تھا اور اس کے خاتمے پر شرکائے کرام سے کہا گیا تھا کہ اس کی تشہیر نہ کی جائے۔ لیکن پاکستانی قوم دنیا کی ایک عظیم قوم ہے اور اس کے سیاسی لیڈر ’عظیم تر شخصیات‘ میں شمار ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔ دو تین روز تک تو اس اجلاس کی پوشیدگی برقرار رہی لیکن پھر اللہ کے کسی ولی نے اسے میڈیا پر اگل دیا۔ بس پھر کیا تھا، اگالدان بھر گئے! اس کی گونج آپ نے بھی سنی اور میں نے بھی کان اور آنکھیں بند نہیں کی ہوئی تھیں۔مجھے حیرت اس بات کی تھی کہ جن لوگوں نے اسے خفیہ رکھنے کا کہا کیا وہ پاکستانی نہیں تھے؟…… اگر تھے تو ان کو یہ کہنا ہی نہیں چاہیے تھا کہ اس کانفرنس کو صیغہء راز میں رکھا جائے۔

دوسرے یہ کہ ایک میڈیا ٹاک شو میں حضرت سراج الحق، امیر جماعت اسلامی سے سوال کیا گیا کہ آیا اس کانفرنس میں صرف جی بی کو پانچواں صوبہ بنانے کی بات کی گئی یا اس کے علاوہ کسی جاری سیاسی ایشو کو بھی ملک کی عسکری قیادت سے ڈسکس کیا گیا۔جناب سراج الحق کا جواب بڑا شگفتہ تھا، فرمانے لگے: ”کیا یہ ممکن ہے کہ کسی جگہ 40،50خواتین بیٹھی ہوں اور ان سے توقع کی جائے کہ وہ منہ بند کرکے بیٹھی رہیں گی؟“

تری آواز مکے اور مدینے

اس ٹاک شو میں ایک تیسرا سوال بھی حضرت سے پوچھا گیا کہ کیا موضوعِ زیر بحث کی سنجیدگی اس امر کی متقاضی نہ تھی کہ وزیراعظم عمران خان اس کو ہیڈ کرتے اور انہی کی طرف سے اس کی دعوت بھی دی جاتی؟ مولانا نے اس سوال کا جواب دیا کہ جس مسئلے پر بات کرنے کو ایجنڈا بنایا گیا، وہ بہت سنجیدہ مسئلہ تھا اور اس کی سربراہی وزیراعظم کو ہی کرنی چاہیے تھی، نجانے آرمی چیف اور انٹیلی جنس چیف کو اس طرح کی کانفرنس طلب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا وزیراعظم تمام اپوزیشن لیڈروں کو اس قابل نہیں سمجھتے تھے کہ وہ کسی اجلاس میں ان کے برابر بیٹھیں؟…… لیکن قومی اسمبلی یا مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں پوری قوم نے وزیراعظم کو بارہا سب سیاسی قائدین کے شانہ بشانہ بیٹھے دیکھا۔ تو پھر اس اجلاس میں ان کی نہ آنے کی کیا تُک تھی؟…… کیا ان کو یہ اندیشہ تھا کہ بعض لیڈر ان کی دعوت کا بائیکاٹ کر دیں گے؟ میں غلط بھی ہو سکتا ہوں لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ جناب وزیراعظم نے اسی لئے عسکری قیادت کو بیچ میں ڈالا کہ کیا حکومتی اور کیا اپوزیشن پارٹیاں سب کی سب اپنی فوج کا ازحد احترام کرتی ہیں اور ان کی آواز پر لبیک کہتی ہیں۔

مجھے معلوم نہیں کہ آرمی چیف نے شرکائے اجلاس کو جو بریفنگ دی اس میں اس نکتے کی کماحقہ وضاحت کی یا نہیں کہ جی بی کو ایک باقاعدہ پانچواں صوبہ بنانے کی ضرورت اور جلدی کیا تھی؟…… یہ سوال اتنا اہم ہے کہ ہمارا میڈیا چونکہ ان اندیشوں سے خود بھی بے خبر ہے اور اسی لئے سامعین و ناظرین کو بھی ان حد درجہ اہم موضوعات سے بے خبر رکھ رہا ہے جو پاکستان کو انڈیا کی طرف سے پیش آ رہے ہیں اور جن کا کوئی ذکر اذکار ہمارے کسی بھی میڈیا چینل یا اخبار میں نہیں کیا جاتا۔ دوسری طرف بھارت ہے کہ ساری دنیا میں واویلا مچا رہا ہے کہ نہ صرف آزادکشمیر بلکہ جی بی بھی پورے کا پورا انڈیا کا حصہ ہے اور ہم اس حصے کو بھارت میں ضم کرکے دم لیں گے…… یہ موضوع اتنا بسیط ہے کہ اس پر درجنوں کالم لکھے جا سکتے ہیں۔ ہمارا دشمن اس سلسلے میں اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ اس کا نوٹس لینے کے لئے جب ہمارے سیاستدانوں کی آنکھیں اور کان بند ہوں تو فوج کو اس پر تشویش تو ہوتی ہے۔ گمانِ غالب یہ ہے کہ فوج نے مناسب سمجھا ہو گا کہ آنے والے خطرات سے ملک کے سیاسی رہنماؤں کو آگاہ کر دیا جائے۔ یہ چونکہ پاکستان کی سلامتی، خود مختاری اور بقاء کا مسئلہ ہے اس لئے وقت آ گیا ہے کہ کوئی آئینی فیصلہ کرتے ہوئے ان مضمرات کو بھی فراموش نہ کیا جائے جو ایک عرصے سے انڈین میڈیا پر ڈسکس کئے جا رہے ہیں۔

لیک شدہ خبروں میں شیخ رشید وغیرہ کی زبانی معلوم ہوا کہ سیاسی رہنماؤں نے اس امر سے تو اتفاق کیا کہ جی بی (GB) کو ایک الگ صوبائی سٹیٹس دے دیا جائے کہ یہ وہاں کے عوام کا بھی ایک دیرینہ مطالبہ ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ چونکہ تھوڑے دنوں بعد جی بی میں الیکشن ہونے والے ہیں، اس لئے بہتر ہوگا کہ یہ فیصلہ انتخابی نتائج آنے تک موخر کر دیا جائے اور چونکہ یہ مسئلہ آئین میں ترمیم کا بھی تقاضا کرے گا اس لئے ملک کی سیاسی پارٹیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اس سوال پر ’کہاں کھڑی ہیں‘!

سوال یہ ہے کہ اگر جی بی کے عوام کا یہ مطالبہ ایک دیرینہ مطالبہ ہے کہ ان کا ایک الگ صوبہ ہونا چاہیے تو پاکستان کی مرکزی حکومتوں نے اب تک یہ اقدام کیوں نہیں اٹھایا؟……

راقم السطور جب ناردرن لائٹ انفنٹری (NLI) کی تاریخ لکھ رہا تھا تو تقریباً دو عشرے پہلے بارہا گلگت، سکردو، بونجی، نگر، ہنزہ وغیرہ جانے کا اتفاق ہوا۔ ان علاقوں کے باسیوں نے جب پاکستان سے باقاعدہ الحاق کا فیصلہ کیا تھا تو ان معرکوں میں شریکِ جنگ بہت سے ہیروز، ان شہروں میں مقیم تھے جن کے انٹرویوز کا احوال اس ضخیم کتاب میں درج ہے۔ (کتاب کا عنوان ہے: ”این ایل آئی…… تاریخ کے آئینے میں) یہ تاریخ چونکہ خود فوج کی طرف سے (NLI رجمنٹ سنٹر)سپانسر کی جا رہی تھی اس لئے جب اس کا مسودہ تیار ہو چکا تو اسے ’کرنل آف دی رجمنٹ‘ کی طرف سے GHQ میں بھیجا گیا۔ وہاں ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ میں اس کا تفصیلی پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ مجھے کئی بار ایم او ڈائریکٹوریٹ میں طلب کیا گیا اور کتاب کے بہت سے حصوں کو قلمزد کرنے کی ہدائت کی گئی۔ ان ملاقاتوں میں میرے ہمراہ NLI سنٹر، بونجی کے کمانڈانٹ (بریگیڈیئر لیاقت) بھی ہوتے تھے جو کرنل آف دی رجمنٹ، لیفٹیننٹ جنرل صفدر کی ہدائت کے مطابق M.o. Dte میں جا کر متعلقہ سٹاف آفیسرز سے بحث و مباحثہ کرنے میں میری معاونت کرتے تھے…… یہ ایک طویل داستان ہے…… اور ان صفحات میں ان مباحث کا ذکر نہیں کیا جا سکتا جو کتاب کے مسودے کے ایک ایک پیراگراف کی Vetting کے دوران پیش آتے رہے۔ آخر کافی رد و کد کے بعد مسودہ کلیئر کیا گیا اور کتاب طبع ہو کر مارکیٹ میں آ گئی۔ اس کی اشاعت محدود (Restricted) تھی اور صرف 5000کی تعداد میں پہلا ایڈیشن چھاپا گیا تھا۔ اس کتاب کا افتتاح اس وقت کے آرمی چیف (جنرل مشرف) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس اہم تقریب میں میری شرکت اس لئے ممکن نہ ہو سکی کہ موسم کی خرابی کے باعث تین دنوں تک کوئی فلائٹ راولپنڈی سے گلگت نہ جا سکی اور مجھے بے نیل مرام واپس آنا پڑا۔

قارئین گرام! میں یہ سطور اپنی خودستائی یا پی آر کے لئے نہیں لکھ رہا۔ بتانا یہ چاہتا ہوں کہ ہمارے سیاسی رہنماؤں میں سے بیشتر کو معلوم نہیں کہ انڈو پاک ملٹری ہسٹری کس ’چڑیا‘ کا نام ہے۔ اگر آرمی ہیڈکوارٹر میری اس کتاب کی ایک ایک کاپی ان شرکائے اجلاس کو دے دیتا اور انڈین لکھاریوں، کالم نویسوں، مورخوں اور تجزیہ نگاروں کے وہ تبصرے، تجزیئے اور تحریریں بھی ان صاحبان کو فراہم کر دی جاتیں تو وہ موضوعِ زیرِ بحث پر حرف زنی کے لئے بہتر طورپر تیار ہوتے۔ کیا GHQ (ISPR) جان بوجھ کر ایسا کرتا ہے اور سیاسی رہنماؤں کو اس طرح کے مسائل کے عسکری پس منظر اور ان کے ممکنہ مضمرات سے آگاہ نہیں کرتا، اس کے بارے میں راقم السطور کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ یہی حال وزارتِ اطلاعات و نشریات کا بھی ہے۔ اس وزارت میں ایک الگ سیل (Cell) ایسا بھی ہونا چاہیے جو اس قبیل کے ایشوز کے ملٹری بیک گراؤنڈ کے بارے میں پمفلٹ چھاپ کر سیاستدانوں اور میڈیا کو تقسیم کرتا رہے۔

بات دور نکل جائے گی۔ لیکن میں اکثر دیکھتا ہوں کہ جمعہ کی نماز پڑھ کر جب نمازی مساجد سے باہر نکلتے ہیں تو مختلف علمائے کرام کے تصنیف کردہ پمفلٹ اور کتابچے باقاعدہ ایک ترتیب سے ایک تخت پوش پر سفید چادر رکھ کر سجائے جاتے ہیں۔ ان کے دام برائے نام ہوتے ہیں۔ اکثر نمازی یہ کتابچے خرید کر اپنے ساتھ گھر لے جاتے ہیں …… کیا اس قسم کی ’حرکات‘ ملٹری پمفلٹوں کے ساتھ نہیں کی جا سکتیں؟…… اگر حکومت ایسا نہیں کرتی تو کوئی مخیر ادارہ ہی آگے بڑھ کر تعمیرِ قوم کے اس سلسلے میں ’اپنا حصہ‘ ڈال سکتا ہے!…… لیکن ہم پاکستانی ایک عظیم قوم ہیں!!……

میں یہ تصور کرنے میں حق بجانب ہوں کہ 16ستمبر کو جب آرمی چیف نے گلگت۔ بلتستان کو ایک الگ صوبہ بنانے کی وجوہات پر بریفنگ دی ہو گی تو بہت سے سیاستدانوں کو معلوم ہی نہیں ہو گا کہ اس مسئلے کے جیوملٹری اور جیوسٹرٹیجک مضمرات کیا ہیں …… قصور سیاستدانوں کا نہیں، فوج اور مرکزی / صوبائی حکومتوں کا ہے…… الیکٹرانک میڈیا کے درجنوں نیوز چینل ہیں۔ ان کے ٹاک شوز کے پروگرام پروڈیوسروں کا انٹرویو کرکے دیکھ لیں، آپ کو معلوم ہوگا کہ اگر وہ ملک کی سیاسی تاریخ کے ’حافظ‘ ہیں تو ملک کی (اور خطے کی) عسکری تاریخ سے محض نابلد ہیں!  (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -