زکریا یونیورسٹی میں اجلاس‘ بلڈنگ اینڈ  آرکیٹکلچرل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی  رپورٹ پیش‘ مختلف تجاویز پر غور‘ کئی اہم فیصلے

  زکریا یونیورسٹی میں اجلاس‘ بلڈنگ اینڈ  آرکیٹکلچرل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ ...

  

 ملتان (سپیشل رپورٹر)زکریا یونیورسٹی کے  بلڈنگ اینڈ آر کیٹیکچرل انجینئرنگ پروگرام  کوسول انجینئرنگ میں ضم کرنے کا(بقیہ نمبر7صفحہ 6پر)

فیصلہ کرلیا گیا، ایم ایس سی آرکیٹیکچرل انجینئرنگ پروگرام کی بھی مطلوبہ پی ایچ ڈی فیکلٹی پوری نہ ہونے پر منظوری نہ مل سکی، تفصیل کے مطابق (زکریا یونیورسٹی ملتان کی فیکلٹی آف انجینرنگ کی بورڈ آف فیکلٹی کا اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا۔ اجلاس میں جامعہ زکریا کے انجینئرنگ کے شعبہ جات کے سربراہان اور نمائندوں کے علاوہ مختلف جامعات کے انجینرنگ کے ماہرین نے شرکت کی۔اجلاس کے شروع میں ڈین آف انجینئرنگ پروفیسر ڈاکٹر طاہر سلطان نے صدارت کی۔ تاہم کچھ دیر بعد وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی اجلاس میں شامل ہو گئے۔ اس موقع پر بلڈنگ اینڈ آرکیٹیکچرل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلاس میں بلڈنگ انلینڈ آرکیٹیکچرل انجینرنگ پروگرام کی خراب تدریسی صورتحال، اہل فیکلٹی کی کمی اور جاب مارکیٹ میں خاطر خواہ اہمیت نہ ہونے کے باعث بلڈنگ اینڈ ارکیٹیکچرل انجینرنگ پروگرام کو سول انجینئرنگ میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آرکیٹیکچرل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ٹیچر انچارج انجینئر شاہد‘ڈاکٹر عبدالستار ملک نے شعبہ کے حق میں دلائل پیش کیے تاہم وہ شعبے کو نا بچا سکے اور ناکام رہے۔ بعد ازاں وائس چانسلر نے نے ووٹنگ کروانے کی تجویز دی۔ تاہم 2 کے مقابلے میں میں 19 ووٹوں کے ساتھ بلڈنگ اینڈ ارکیٹیکچرل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو سول انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں تحلیل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ اس سے قبل ایم ایس سی بلڈنگ آرکیٹیکچرل انجینئرنگ شروع کرانے کی تجویز بھی پیش کی گئی تاہم وہ بھی مطلوبہ اور اہل پی ایچ ڈی فیکلٹی موجود نہ ہونے کے باعث رد کر دی گئی۔ بعد ازاں مختلف انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹس میں متعدد پروگرامز کی منظوری دی گئی جن میں سول انجینئرنگ ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی شروع کرانے، ایم ایس سی مکینیکل انجینرنگ، ایم ایس سی میٹیریئلز انجینئرنگ، ٹیکسٹائل انجینئرنگ کے مختلف پروگرامز، فائنل ائیر پراجیکٹ کے معاوضہ جات کی منظوری اور متعدد شعبہ جات میں سلیبس کو  او بی ای سسٹم کے مطابق کرنے اور اس ضمن میں کارکردگی کی معیار کو جانچنے کیلئے مختلف کمیٹیاں بنانے کے علاوہ مختلف شعبہ جات میں بی ایس ٹیکنالوجی پروگرامز شروع کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔شعبہ ختم کرنے پر اساتذہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کو شوق حکمرانی قرار دیااور کہا کہ یہ غلط روایت پڑ گئی ہے جس کا مستقبل میں  بہت نقصان ہوگا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -