تعلیمی بورڈ کی غلط پالیسی نے نہم اور فرسٹ ائیر کے طلبہ کو تگنی کا ناچ نچا دیا

   تعلیمی بورڈ کی غلط پالیسی نے نہم اور فرسٹ ائیر کے طلبہ کو تگنی کا ناچ نچا ...

  

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوھاٹ تعلیمی بورڈ کی غلط پالیسی نے جماعت نہم اور فرسٹ ائیر کے طلبہ کو تگنی کا ناچ نچا دیا داخلوں کے لیے مطلوبہ نہم پاس اور فرسٹ ائیر پاس ڈی ایم سی کے بجائے پاس کارڈ کا اجراء اپنے ذمے لے لیا طلبہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے لگے تفصیلات کے مطابق کورونا لاک ڈاؤن کی تعلیمی پالیسی کے تحت نہم‘ دہم‘ فرسٹ و سیکنڈ ائیر کے طلبہ کو بغیر امتحان کے اگلی جماعتوں میں ترقی دے دی گئی اور بورڈ ذرائع کے مطابق ان کی ڈی ایم سیز متعلقہ کیمپس کو فراہم کر دی گئیں جس کا مقصد طلبہ و طالبات کو تعلیمی بورڈ کے چکر لگانے کے بجائے گھر کی دہلیز پر ڈی ایم سیز کی فراہمی ہے مگر دلچسپ صورت حال تب پیدا ہوئی جب نہم اور فرسٹ ائیر کی ڈی ایم سیز کے لیے طلبہ و طالبات در در کی ٹھوکریں کھانے لگے جبکہ تعلیم بورڈ نے ان کی ڈی ایم سیز کے بجائے پاس کارڈ بنائے اور اس کی تقسیم کا عمل کیمپسز کے بجائے اپنے پاس رکھا ہے کیمپ آفیسز میں سینکڑوں طلبہ دور دور کے علاقوں سے آ کر مایوس لوٹ جاتے ہیں مگر انہیں نہم اور فرسٹ ائیر کی ڈی ایم سیز دستیاب نہیں ہوتی اور داخلوں میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے علاوہ ازیں کرک‘ اورکزئی‘ ھنگو اور کرم کے طلبہ و طالبات کے لیے انتہائی تکالیف درپیش ہیں عوامی و سماجی حلقوں نے پاس کارڈ بھی متعلقہ کیمپ آفسز کو مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -