قائمہ کمیٹی برائے استحقاق میں ”توہین پالیمنٹ“ سے متعلق بل پیش 

  قائمہ کمیٹی برائے استحقاق میں ”توہین پالیمنٹ“ سے متعلق بل پیش 

  

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے استحقاق میں "توہین پارلیمنٹ "سے متعلق بل پیش کر دیا گیا بل کے تحت سرکاری افسر، وزیر یا متعلقہ شخص کمیٹی اجلاس میں شریک یا دستاویزات فراہم نہیں کرتا یا جعلی دستاویز فراہم کرتا ہے تو وہ توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہو گا،توہین پارلیمنٹ کے مرتکب کو 3 سے6 ماہ تک قیدہو سکے گا اگر وزیر توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہوا تو ایک مدت تک اس کے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت یا ایک سال تک کابینہ سے نکالنے کی سزا دی جا سکے گی کمیٹی اجلاس میں سوال کا جواب دینے کی بجائے آگے سے سوال کرنے پر لیگی رکن کمیٹی محسن شاہنواز رانجھا برہم ہو گئے جس پرسی سی پی او لاہور عمرشیخ نے معافی مانگ لی اور کہا کہ "مینومعاف کردیو "۔مریم نواز کی نیب میں پیشی کے روزمسلم لیگ(ن)کے سینئر رہنما رانا تنویر حسین کے موقع پر موجود نہ ہونے کے باوجود انکا نام ایف آئی آر میں شامل کرنے پر سی سی پی او لاہور عمرشیخ نے کہا کہ کوئی شکایت کنندہ درخواست دے تو ہم اس پر کارروائی کے  پابند ہیں ہم تحقیقات کر رہے ہیں لیکن رانا تنویر حسین کو بطور ملزم پیش نہیں کیا جس پر کمیٹی نے درخواست دہندہ نیب آفیسر کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین رانا محمد قاسم نون کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا اجلاس میں کمیٹی ارکان کے علاوہ وزیر مملکت پارلیمانی امورعلی محمد خان، سی سی پی او لاہور عمر شیخ، سی ڈی اے،وزارت صحت و دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما رانا تنویر الحسن نے کہا کہ 11 اگست کو ڈی جی نیب لاہور کی جانب سے میرے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی،اْس دن نیب لاہور میں مریم نواز کی پیشی تھی میں مذکورہ تاریخ کو اسلام آباد میں تھا۔جس پر سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کہا کہ کوئی شکایت کنندہ درخواست دے تو ہم پابند ہیں ہم تحقیقات کر رہے ہیں، لیکن ان کو بطور ملزم پیش نہیں،چیئرمین رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ کیا آپ پولیس کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟جس پر سی سی پی او لاہور نے کہا کہ 70 سال کی کارکردگی کا ذمہ دار مجھے تو قرار نہیں دیا جا سکتا اجلاس میں لیگی ایم این اے محسن شاہنواز رانجھا نے سی سی پی او لاہور کے رویے پر برہمی کا اظہار کیا سی سی پی او لاہور عمر شیخ  نے کہا کہ سچ بتاؤں تو میں رانا تنویر کے خلاف ایف آئی آر تفصیل سے نہیں پڑھ سکا۔جس پر کمیٹی ارکان نے کہا کہ آپ اتنے غیر سنجیدہ ہیں کہ ایف آئی آر بھی نہیں پڑھی اس موقع پر سی سی پی او لاہور نے ہاتھ جوڑ تے ہوئے کہا کہ مینوں معاف کر دیو۔ بعد ازاں کمیٹی نے  اسلام آباد میں ہونے کے باوجود رانا تنویر کیخلاف درخواست دہندہ نیب آفیسر کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا کمیٹی میں پارلیمنٹ کی توہین بل کا مسودہ پیش کیا گیا توہین پارلیمنٹ بل کا مسودہ کمیٹی کی ہدایت پر تیار کیا گیا  کمیٹی کو کنسلٹنٹ بیرسٹر راحیل کی جانب سے بل پر بریفنگ دی بل کے مسودے کے مطابق جو افسر، وزیر یا متعلقہ شخص کمیٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوتا، کمیٹی کو دستاویزات فراہم نہیں کرتا یا جعلی دستاویز  فراہم کرتا ہے، وہ توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہو گا،توہین پارلیمنٹ کا مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج یا سیشن جج کی عدالت میں چلے گا،ایک عدالت قائم کی جائے گی جو پارلیمنٹ کی حدود میں سماعت کرے گی، اگر کوئی آفیشل توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہوا،تواسے 3 سے6 ماہ تک قید،25 ہزار روپے جرمانہ ہو گا،اگر وزیر توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہوا تو ایک مدت تک اس کے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کرنے پر پابندی عائد ہو گی،وفاقی وزیر کو ایک سال تک کابینہ سے بھی نکالنے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ 

توہین پارلیمنٹ بل

مزید :

پشاورصفحہ آخر -